
وزیر اعظم نریندر مودی کے 22 – 23 اپریل 2025 کےسعودی عرب کے دورے پر 15.54 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ کل اخراجات میں سے 10.26 کروڑ روپے ہوٹل کے بل پر، 4.05 کروڑ روپے ٹرانسپورٹ پر۔ تاہم، یہ دورہ صرف 12 گھنٹے کا رہا۔ یہ ان کا 2025 کا دوسرا سب سےمہنگا غیر ملکی دورہ ثابت ہوا ۔

گزشتہ 22اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سعودی عرب کا سرکاری دورہ مکمل کیے بغیر 23 اپریل 2025 کی صبح نئی دہلی پہنچ گئے تھے۔ (تصویر: پی آئی بی)
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کے 22-23 اپریل 2025 کے دوران سعودی عرب کے دورے پر حکومت نے کل 15,54,03,792.47 روپے (پندرہ کروڑ 54 لاکھ تین ہزار سات سو بانوے روپے) خرچ کیے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ اس کل رقم میں سے 10 کروڑ 26 لاکھ 39 ہزار 658 روپے صرف ہوٹل کے بل کے نام پر خرچ کیے گئے ہیں۔
یہ معلومات ایک آر ٹی آئی کے جواب میں سامنے آئی ہے، جسے آر ٹی آئی کارکن اجے باسودیو بوس نے دائر کیا تھا۔ جدہ (سعودی عرب) میں ہندوستانی قونصل خانے سے موصولہ جانکاری نے سرکاری اخراجات پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔
صرف12 گھنٹے کے سفر پر کروڑوں روپے کاخرچ
وزیر اعظم کا سعودی عرب کا دورہ اصل میں دو دن یعنی 22 اپریل اور 23 اپریل کا تھا، لیکن جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی وجہ سے انہیں اپنا دورہ بیچ میں ہی ختم کرنا پڑا تھا۔
گزشتہ22 اپریل کی رات 11 بجے خبر آگئی تھی کہ پی ایم مودی واپس آرہے ہیں۔ سعودی عرب میں سرکاری عشائیہ میں شرکت کرنے کے بجائے مودی نے واپس آنے کا فیصلہ کیا اور صبح ہوتے ہی دہلی پہنچ گئے ۔
اگر پہلگام دہشت گردانہ حملہ نہ ہوا ہوتا تو مودی 23 اپریل کو پورا دن سعودی عرب میں رہتے۔
لیکن بالآخر وہ سعودی عرب میں بارہ گھنٹے سے کچھ زیادہ ٹھہرے۔ پی ایم مودی صبح تقریباً 9:30 بجے جدہ کے لیے ہندوستان سے روانہ ہوئے اور دوپہر کو پہنچے ۔ وزیر اعظم 23 اپریل کی صبح تقریباً 7 بجے دہلی میں تھے۔
کس کام پر کتناخرچ ؟
آر ٹی آئی کے جواب میں دیے گئے اخراجات کا بریک-اپ تشویشناک تصویر پیش کرتا ہے۔ 15.54 کروڑ روپے کے کل اخراجات میں سے ہوٹل کے بل کا حصہ تقریباً 66 فیصد ہے جبکہ ٹرانسپورٹیشن پر 4 کروڑ 5 لاکھ 79 ہزار 930 روپے خرچ ہوئے ہیں۔
ہوٹل کے اخراجات اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات کو کل سفری اخراجات سے نکالیں تو 1 کروڑ 21 لاکھ 86 ہزار 202 روپے کی بچت ہوتی ہے۔ لیکن آر ٹی آئی کے جواب میں اس کی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں۔
واضح ہو کہ وزیر اعظم مودی سعودی عرب کے سرکاری دورے پر تھے۔ عام طور پر میزبان ملک کی حکومت سرکاری دوروں پر جانے والے رہنماؤں کے کھانے اور رہائش کا انتظام کرتی ہے ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سعودی عرب کی حکومت مہمان نوازی کی ذمہ داری لینے کو تیار تھی تو ہندوستانی حکومت نے ہوٹل کے کرایہ پر اتنی بڑی رقم الگ سے کیوں خرچ کی؟
سال2025 کا دوسرا سب سے مہنگا غیر ملکی دورہ
اس سال جولائی 2025 تک وزیر اعظم مودی نے 16 ممالک کا دورہ کیا ہے ۔ 11 ممالک کے دورے پر آنے والے اخراجات کی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
وزارت خارجہ کی طرف سے راجیہ سبھا میں ترنمول کے رکن پارلیامنٹ ڈیرک اوبرائن کے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں پیش کردہ اعداد و شمار اس سال پانچ ممالک کے دوروں پر کیے گئے اخراجات کو ظاہر کرتے ہیں۔

راجیہ سبھا میں وزارت خارجہ کی طرف سے دیا گیا ڈیٹا۔
اگر ہم غیر ملکی دوروں کا تقابلی تجزیہ کریں تو سعودی عرب کے سفر کا خرچ دیگر دوروں کے مقابلے میں بہت مہنگا ثابت ہوا ہے۔
فروری میں، فرانس کے 4 دن کے سفر پر 25.59 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو اوسطاً 6.40 کروڑ روپے روزانہ بنتے ہیں۔ اسی طرح امریکہ کے ایک روزہ دورے پر 16.54 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ تھائی لینڈ کے ایک روزہ دورے پر 4.92 کروڑ روپے اور سری لنکا کے تین روزہ دورے پر 4.46 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
ان تمام دوروں کے مقابلے میں سعودی عرب کے صرف 12 گھنٹے کے سفر پر 15.54 کروڑ روپے کا خرچ بہت زیادہ لگتا ہے۔
یو پی اے حکومت کے غیر ملکی دورے
پی ایم انڈیا کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے دس سال کے دور میں کل 73 غیر ملکی دورے کیے۔ 2004 سے 2009 تک اپنے پہلے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے 35 غیر ملکی دورے کیے اور 2009 سے 2014 تک اپنے دوسرے دور حکومت میں انہوں نے 38 غیر ملکی دورے کیے۔
وزیر اعظم کے طور پر، ڈاکٹر سنگھ کا پہلا غیر ملکی دورہ بنکاک اور آخری میانمار کا تھا۔

سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے غیر ملکی دوروں کی فہرست اور چارٹرڈ پروازوں پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں معلومات۔
مارچ 2025 میں، وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریتا نے راجیہ سبھا میں آنجہانی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں کیے گئے کچھ غیر ملکی دوروں پر ہونے والے اخراجات کے بارے میں معلومات دی تھیں،جس کے مطابق 2011 میں امریکہ کے دورے (21-27 ستمبر) پر 10.74 کروڑ روپے خرچ ہوئے، 2013 میں روس کے دورے (4-7 ستمبر) پر 9.95 کروڑ روپے خرچ ہوئے، 2011 میں فرانس (2-5 نومبر) کے سفر پر 8.33 کروڑ روپے اور 2013 (اپریل 10-12) میں جرمنی کے سفر پر 6.02 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔
دسمبر 2018 میں، نیو انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنی دوسری مدت کے دوران کیے گئے 38 غیر ملکی دوروں پر 1,346 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ دریں اثنا، مئی 2014 سے دسمبر 2018 کے درمیان نریندر مودی نے 48 غیر ملکی دورے کیے، جن پر تقریباً 2,021 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔