آسام کے وزیر اعلیٰ کے ویڈیو پر کانگریس کا سخت ردعمل، کہا – یہ نسل کشی کی کھلی اپیل ہے

06:37 PM Feb 09, 2026 | دی وائر اسٹاف

بی جے پی کی آسام یونٹ کی جانب سے پوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ بڑے پیمانے پر مذمت کے بعد اس ویڈیو کو ہٹا لیا گیا ہے۔ کانگریس قائدین نے ویڈیو کو ’آئین کے سینے پر گولی‘ قرار دیا ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ نریندر مودی سے مذمت یا کارروائی کی توقع نہیں ہے، لیکن عدلیہ کو قدم اٹھانا چاہیے۔فوٹو بہ شکریہ:ایکس /بی جے پی آسام

نئی دہلی: جب وزیر اعظم نریندر مودی ملیشیا کے دورے پر ہیں، جہاں سرکاری مذہب اسلام ہے، وہیں دوسری جانب اس سے صرف ایک دن پہلے ان کی پارٹی کی آسام یونٹ نے ایک ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو مسلمانوں پر گولی چلاتے دکھایا گیا تھا۔

یہ ویڈیو ریاست کی مسلم آبادی کے خلاف شرما کی پہلے سے جاری فرقہ وارانہ بیان بازی کو غیر معمولی اور غیر قانونی سطح پر لے جانے کو دکھاتا ہے۔

ویڈیو میں شرما کو ایک ایئر رائفل سنبھالے ہوئے دکھایا گیا ہے، جو اصلی فوٹیج جیسا معلوم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مصنوعی ذہانت(اے آئی)کے ذریعے تیار کردہ کلپ جوڑے گئے ہیں، جن میں ائیر رائفل سے چلی گولیاں ٹوپی اور داڑھی والے مردوں کی تصویروں کو نشانہ بناتی دکھائی دیتی ہیں، جو واضح طور پر ان کی مذہبی شناخت کی طرف اشارہ  ہیں۔

اس میں شرما کو ایک مغربی فلم کے ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اور ان کی تصویر کے ساتھ کیپشن ہے، ‘غیر ملکیوں سے پاک آسام۔’خبروں کے مطابق  ، ویڈیو میں آسامی زبان میں’ کوئی رحم نہیں’، ‘پاکستان کیوں نہیں چلےگئے؟’ اور ‘بنگلہ دیشیوں کو معافی نہیں ‘ جیسے جملے بھی دکھائے گئے ہیں۔

ویڈیو کے ساتھ کیپشن دیا گیاتھا، ‘پوائنٹ بلینک شاٹ۔’ اس ویڈیو کے پوسٹ ہونے کے فوراً بعد اس کی مذمت شروع ہو گئی تھی۔ وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد اب اس ویڈیو کو سوشل میڈیا سے ہٹا لیا گیا ہے۔

آسام بی جے پی کی جانب سے پوسٹ کردہ ویڈیو کے کچھ اسکرین گریب۔

سبکدوش آئی اے ایس ، آئی ایف ایس اور آئی پی ایس افسران کے گروپ ‘کانسٹی ٹیوشنل کنڈکٹ گروپ ‘نے ایک بیان میں کہا، ‘ملک بھر میں، خاص طور پر انتخابات کے دوران، سیاستدانوں کی طرف سے مسلسل نفرت انگیز تقاریر کے باوجود، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کے حالیہ بیان نے ملک کے شہریوں کو حیران کر دیا ہے۔’

گروپ نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ شرما کی نفرت انگیز تقاریر کا ازخود نوٹس لے، کیونکہ یہ عدالت کے سابقہ ​​احکامات کی براہ راست خلاف ورزی اور توہین ہیں۔

ترنمول کانگریس کی رکن پارلیامنٹ ساگریکا گھوش نے لکھا کہ یہ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت ایک واضح جرم ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا ، ‘بی جے پی آسام نے یو اے پی اے کے تحت جرم کیا ہے اور کھلے عام تشدد کو ہوا دی ہے۔ اس اشتہار کو ہٹاکر بھی بچا نہیں جا سکتا۔ یہ بی این سی کی دفعہ 152، 156، اور 192 کے تحت بھی آتا ہے۔ اس معاملے میں مثال قائم کرنے والی سزا دی جانی چاہیے۔’

شرما پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ان کا کام ‘میاں لوگوں کو تکلیف دینا’ ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھاکہ آسام میں مسلمانوں کو ووٹ نہیں کرنےدیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھاکہ ریاست میں’چار سے پانچ لاکھ’ مسلم ووٹ ہٹائے جائیں گے۔ ریاست میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا، ‘کوئی بھی جو انہیں کسی بھی طرح سے پریشان کر سکتا ہے… کرے۔ اگر رکشہ کا کرایہ 5 روپے ہے تو 4 روپے  دیجیے۔ جب انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا تو وہ آسام چھوڑ دیں گے۔ ہمنتا بسوا شرما اور بی جے پی براہ راست میاوں کے خلاف ہیں۔’

غور طلب ہے کہ ‘میاں’لفظ آسام کی بنگالی بولنے والی اورمشرقی بنگال کی مسلم کمیونٹی کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ جہاں شرما جیسے رہنما اس اصطلاح کو توہین آمیز معنوں میں استعمال کرتے ہیں، وہیں کمیونٹی نے اس لفظ کو قبول کیا ہے اور اپنی پہچان کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

کچھ دن پہلےہیرین گوہین کی قیادت میں آسام کے 43 ممتاز ادیبوں، دانشوروں، پیشہ ور افراد اور سماجی کارکنوں نے شرما کی بار بار نفرت انگیز تقاریر، ووٹر لسٹ کی نظرثانی میں ایگزیکٹو کی مداخلت اور دیگر آئینی خلاف ورزیوں پر از خود نوٹس لینے کے لیے گوہاٹی ہائی کورٹ کا رخ کیا۔

کانگریس کا سوال: عدالتیں اور ادارے کہاں ہیں؟

کانگریس کے ایم پی کے سی وینوگوپال نے اس ویڈیو پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا، ‘بی جے پی کے ایک ہینڈل نے اقلیتوں کے’پوائنٹ بلینک’ قتل کو دکھانے والا ویڈیو پوسٹ کیا ہے۔ یہ نسل کشی کا براہ راست مطالبہ ہے، ایک خواب جو یہ فاشسٹ حکومت دہائیوں سے دیکھ رہی ہے۔ یہ کوئی معمولی ٹرول ویڈیو نہیں ہے۔ یہ زہر سب سے اوپر سے پھیلایا گیا ہے، اور اس کے نتائج ضرور نکلیں گے۔ نریندر مودی سے اس کی مذمت یا کوئی اقدام اٹھانے کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے، لیکن  عدلیہ کو قدم اٹھانا چاہیے اور کسی طرح کی نرمی نہیں کی جانی چاہیے۔’

کانگریس لیڈر اور ترجمان سپریہ شرینت نے بی جے پی پر ‘نسل کشی’ کا الزام لگایا۔

انہوں نے ایکس پر لکھا، ‘ جس ویڈیومیں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کو ‘پوائنٹ بلینک شاٹ’ کیپشن کے ساتھ مسلمان مردوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا، اس کو محض ہٹا دینا کافی نہیں ہے ۔ یہ بی جے پی کی اصل شناخت ہے – نسل کشی۔ یہ زہر، نفرت اور تشدد آپ کے کھاتے میں جاتی ہے، مسٹر مودی۔ کیا عدالتیں اور دیگر ادارے نیند میں ہیں؟’

کانگریس کی کیرالہ یونٹ نے کہا، ‘بی جے پی نے اب  دکھاوا بھی چھوڑ دیا ہے اور اقلیتوں کی نسل کشی کے لیے باضابطہ طور پر اپیل کرنا شروع کر دی ہے، اور وہ بھی آئینی حلف اٹھانے والے وزیر اعلیٰ کو مسلمانوں کو گولی مارتے ہوئے دکھا کر’۔

پارٹی نے اس ویڈیو پوسٹ کو وزیر اعظم مودی کے دورہ ملیشیا سے جوڑتے ہوئے پوچھا، ‘مودی کے لیے ریڈ کارپیٹ بچھانے والے ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم ،ملیشیا کے لوگوں اور ہندوستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو مودی کیا پیغام دے رہے ہیں ؟’

پارٹی نے ہمنتا بسوا شرما کو برخاست کرنے اور ان سے معافی منگوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی عمران پرتاپ گڑھی نے اس ویڈیو کو ‘آئین کے سینے پر گولی’ قرار دیا۔

انہوں نے ایکس پرپی ایم مودی کومخاطب کرتے ہوئے لکھا،’آپ کا دلارا وزیر اعلیٰ اپنے انتخابی اشتہار میں سیدھےمسلمانوں کے سینے پر جو گولی مار رہا ہے، وہ دراصل آئین کی چھاتی پر مار رہاہے۔ ایسی ہی ایک گولی گوڈسے نے مہاتما گاندھی  کے سینے پر ماری تھی۔ اب، اگرچہ یہ ویڈیو ڈیلیٹ کر دیا گیاہو، لیکن مودی جی سوال تو آپ سےہے کہ آپ یہ سب دیکھ ہی رہے ہوں گےنا؟’

شیو سینا (یو بی ٹی) کی راجیہ سبھا ایم پی پرینکا چترویدی نے ایکس پر لکھا،’بی جے پی آسام پردیش کے ایکس ہینڈل نے ‘پوائنٹ بلینک شاٹ’ کے عنوان سے نفرت سے بھرا اور سیدھے طور پر نشانہ لگانے والا ایک ویڈیو پوسٹ کیا۔ اسے احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا، لیکن یہ اتنی دیر تک آن لائن رہا کہ کئی  لوگوں نے اسے ڈاؤن لوڈ کیا اور اسے مزید پھیلا دیا ہے، بے شرمی سے الیکشن کمیشن اس سب سے گھنونےاورنفرت انگیز اور سیاسی نشانے بازی کوکو نظر انداز کرے گا۔ بی جے پی کے سامنے وہ پوری طرح سے بے اثر اور غیر مؤثر نظرآتا ہے۔