احمد آباد: اسکولوں کوسرکلر جاری –پی ایم مودی کے یوم پیدائش پر آرٹیکل 370  پر کریں پروگرام

06:30 PM Sep 14, 2019 | دی وائر اسٹاف

ضلع ایجوکیشن افسر راکیش ویاس نے بتایا کہ اس کا مقصد طلبا کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے بارے میں بتانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ،ہمیں کسی ایک دن اس کوکرنا تھا اس لیے وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔

فوٹو: پی آئی بی

نئی دہلی : احمد آباد ضلع ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے جمعرات کو ایک سرکلر جاری کیا ہے ۔ اس سرکلر کے تحت تمام اسکولوں کو ہدایت دی ہے گئی ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش پر آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے پر پروگرام  کا انعقادکریں ۔ جن  میں بحث ومباحثہ ، خصوصی لکچر، مضمون نگاری  وغیرہ کا اہتمام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق، ان تقاریب کا انعقاد 17 ستمبر کو کرنے کو کہا گیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم نریند رمودی کا یوم پیدائش ہے۔ سرکلر میں اسکولوں کوپروگرام کی تفصیلات  سکینڈری ایجوکیشن ڈائریکٹر کے دفتر میں 18 ستمبر تک بھیجنے کی ہدایت دی گئی ہے۔جس میں پروگرام کی تصویریں اور دوسری تفصیلات بھیجنے کے لیے کہا گیا ہے۔

سرکلر میں کہا گیا ہے کہ ، آرٹیکل 370 اور 35 اے کے تحت پارلیامنٹ نے ایک قابل تعریف اور عوام کی بھلائی کا کام کیا ہے۔ لوگ اس قدم کی تعریف کر رہے ہیں ۔ اس سے ملک کو دنیا بھر میں ایک پہچان حاصل ہوئی ہے۔واضح ہوکہ احمد آباد میں کے شہری اور دیہی علاقوں میں 1050 سکینڈری اور ہائر سکینڈری اسکولوں میں تقریباً 2.75لاکھ اسٹوڈنٹ پڑھتے ہیں ۔

شہری علاقوں میں 600 اسکول ہیں جن میں 1.5لاکھ اور دیہی علاقوں کے 450 اسکولوں میں 1.25 لاکھ طلبا پڑھتے ہیں ۔سرکلر کے مطابق، اس طرح کے پروگرام کا مقصد طلبا میں آرٹیکل 370 اور 35 کو لے کر ان کی سمجھ کو بڑھانا ہے۔

سرکلر

دریں اثنا ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے جنرل سکریٹری ونود رائے نے ایسے کسی بھی سرکلر کی جانکاری سے انکار کیا ہے ۔ ضلع ایجوکیشن افسر راکیش ویاس نے اس کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس کا مقصد طلبا کو آرٹیکل 370 اور 35 اے کے بارے میں بتانا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش پر اس پروگرام کے انعقاد کے سوال پر ویا س نے کہا کہ ہمیں کسی ایک دن اس پروگرام کو کرنا تھا اس لیے وزیر اعظم مودی کے یوم پیدائش کو اس کے لیے منتخب کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ، کچھ لوگوں کو پی ایم مودی کے نام  پر اعتراض ہوسکتا ہے اس لیے ہم نے  سرکلر میں کسی کانام نہیں لکھا ہے ۔ ہم نے صرف وزیر اعظم لکھا ہے اس لیے اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔