اڑیسہ کے بالاسور ضلع میں بدھ کی صبح جب ایک 35 سالہ مسلمان شخص وین میں جا رہے تھے، تب وین میں مویشیوں کی نقل و حمل پر اعتراض کرتے ہوئے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ کی علاج کے دوران موت ہو گئی۔ مہلوک کے بھائی کی شکایت پر پولیس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔
(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)
نئی دہلی: اڑیسہ کے بالاسور ضلع میں بدھ کی صبح ایک 35 سالہ مسلم شخص کو ہجوم نے مبینہ طور پرپیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا۔
دی نیو انڈین ایکسپریس کی ایک
رپورٹ کے مطابق، الزام ہے کہ جس وین میں وہ سفر کر رہے تھے، اس میں مویشیوں کی نقل و حمل پر اعتراض کرنے والے کچھ لوگوں نے ان پر حملہ کر دیا۔ مہلوک کی شناخت شیخ مکرند محمد کے طور پر ہوئی ہے، جن کی بالسور ڈسٹرکٹ ہسپتال میں علاج کے دوران موت ہو گئی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، پک اپ وین جئےدیو قصبے کی طرف سے آرہی تھی تبھی مبینہ طور پر کچھ لوگوں نے گاڑی کو روک لیا اور ڈرائیور اور محمد پر حملہ کردیا۔ حملہ آوروں نے دونوں پر لاٹھیوں اور دیگر ہتھیاروں سے بے رحمی سے حملہ کیا۔
اس واقعے کا ایک مبینہ ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے، جس میں حملہ آوروں کو محمد سے ‘جئے شری رام’ کا نعرہ لگواتے ہوئے دیکھا جا سکتاہے۔
تاہم، پولیس نے ابتدائی طور پر حملے کا ذکر کیے بغیروین ڈرائیور اور مالک کے خلاف ریاست کے گائے ذبیحہ امتناع ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
دو ایف آئی آر میں الگ الگ واقعات
انڈین ایکسپریس کے مطابق ، واقعے کے بعد بالاسور صدر پولیس اسٹیشن میں تعینات ایک سب انسپکٹر کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی، جس میں وین کے ڈرائیور اور مالک کو نامزد کیا گیا، لیکن حملے کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ ڈرائیور اور مالک کے خلاف پریوینشن آف کرولٹی ٹو اینیملز ایکٹ، اڑیسہ پرہیبیشن آف کاؤ سلاٹر ایکٹ، اور بھارتیہ نیائےسنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
اس ایف آئی آر کے مطابق، مویشیوں کو لے جانے والی ایک پک اپ وین مبینہ طور پر جئے دیو قصبے کی طرف سے تیزی اور لاپرواہی سے چلائی جا رہی تھی۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گاڑی کنٹرول کھو بیٹھی اور سڑک کنارے الٹ گئی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ کےجائے وقوعہ پر پہنچنے تک وین ڈرائیور کو علاج کے لیے اسپتال بھیج دیا گیا تھا اور جائے وقوعہ سے ایک گائے برآمد کی گئی تھی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے،’گائے کو قبضے میں لے کر ماں بھارتی گئو شالا لے جایا گیا، اور پک اپ گاڑی کو پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ شکایت کنندہ نے گاڑی کے مالک اور ڈرائیور کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے ایک تحریری درخواست دی ہے۔’
تاہم، مہلوک کے بھائی شیخ جتیندر محمد کی شکایت پر اسی شام دوسری ایف آئی آر درج کی گئی۔ اپنے بیان میں انہوں نے الزام لگایا کہ پانچ افراد نے وین کو روکا اور اس کے بھائی پر ہتھیاروں سے جان لیوا حملہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی ایک گشتی گاڑی جائے وقوعہ پر پہنچی اور اس کے بھائی کو بالاسور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لے جایا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔
دوسری شکایت کی بنیاد پر پولیس نے پانچ ملزم کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس)کی دفعہ 103(2) کے تحت معاملہ درج کیا ہے، جو ماب لنچنگ کی سزا سے متعلق ہے۔
بالاسور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ پرتیوش دیواکر نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزدپانچوں ملزم کو بدھ کی رات کئی جگہوں پر چھاپوں کے دوران حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
تاہم، حکام نے ابھی تک دونوں ایف آئی آر میں درج حالات میں فرق کے حوالے سے کوئی وضاحتی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ حملے میں اور لوگ ملوث تھے یا نہیں ۔ معاملے کی تفتیش جاری ہے۔