ایک آر ٹی آئی کے توسط سے وزارت خارجہ سے پوچھا گیا تھا کہ ایران پر حملے کے بعد خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کی حفاظت کے لیے حکومت نے کیا اقدامات کیے اور اس سلسلے میں ہونے والی خط و کتابت کے دستاویز فراہم کیے جائیں۔ وزارت نے جواب میں کہا کہ ایسی معلومات اس کے ریکارڈ میں نہیں ہیں۔

ہندوستانی حکومت نے دسمبر 2025 میں پارلیامنٹ میں بتایا تھا کہ خلیج کے کل چھ ممالک میں 99 لاکھ ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں۔
نئی دہلی: 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے کے بعد مغربی ایشیا میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ اس پس منظر میں خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کو لے کر خدشات کے درمیان ایک آر ٹی آئی درخواست دائر کی گئی۔ لیکن تقریباً ایک مہینے بعد موصولہ جواب میں وزارت خارجہ نے کہا کہ مانگی گئی معلومات اس کے ریکارڈ میں دستیاب نہیں ہے۔
رائے پور کے رہائشی اور چھتیس گڑھ کانگریس کے آر ٹی آئی شعبے کے چیئرمین نتن راجیو سنہا نے 17 مارچ 2026 کو آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) کو ایک درخواست بھیجی تھی۔
درخواست میں انہوں نے پوچھا تھا کہ ایران پر حملے کے بعد ہندوستانی حکومت نے خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے، اور اس سلسلے میں خلیجی ممالک کے ساتھ ہونے والی کسی بھی خط و کتابت یا بات چیت کے دستاویز فراہم کیے جائیں۔

آرٹی آئی درخواست۔
یہ درخواست 25 مارچ 2026 کو وزیر اعظم کے دفتر کے توسط سے وزارت خارجہ کو بھیجی گئی اور 6 اپریل 2026 کو وزارت کے آر ٹی آئی سیل کو موصول ہوئی۔ اس کے بعد 10 اپریل 2026 کو اسے وزارت خارجہ کے گلف ڈویژن کے سی پی آئی او کے پاس منتقل کر دیا گیا۔
آخر کار، 15 اپریل 2026 کو وزارت خارجہ کے گلف ڈویژن کے سیکشن افسر اور سی پی آئی او انوراگ ناگر نے اس درخواست کا جواب دیا۔ اپنے تحریری جواب میں انہوں نے کہا کہ درخواست میں مانگی گئی معلومات ’اس دفتر کے ریکارڈ میں دستیاب نہیں ہے۔‘
تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت اپنے بیرون ملک مشنز اور سفارت خانوں کے ذریعے خطے میں بڑی ہندوستانی آبادی کی حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے ضروری کوششیں کر رہی ہے۔

آرٹی آئی کا جواب۔
اس موضوع پر مزید وضاحت کے لیے نامہ نگار نے وزارت خارجہ کو ای میل کے ذریعے سوال بھیجے ہیں۔
وزارت سے پوچھا گیا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانی شہریوں کی حفاظت کے لیے کون سے ٹھوس اقدامات کیے گئے، کیا اس سلسلے میں متعلقہ ممالک کے ساتھ کوئی باضابطہ یا غیررسمی بات چیت ہوئی، اور صورتحال بگڑنے کی صورت میں کیا کوئی ہنگامی منصوبہ (کنٹینجنسی پلان) یا انخلا کی کوئی تیاری ہے۔
اس رپورٹ کی اشاعت تک وزارت خارجہ کی طرف سے ان سوالوں کا جواب موصول نہیں ہوا تھا۔ جواب ملنے پر اس رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
’سفارت خانے نے نہیں کیا رابطہ ‘
پنجاب کے رہنے والے گرجندر، جو کویت کے ایک ایئرپورٹ پر کام کرتے ہیں، نے دی وائر کوبتایا، ’سفارت خانے کی طرف سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ حفاظت کافی حد تک خود ہی سنبھالنی پڑی۔ اگر کوئی مدد ملتی تو بہتر ہوتا۔‘
گرجندر کے مطابق، اب حالات پہلے سے معمول پر ہیں۔’فی الحال جنگ رکی ہوئی ہے اور کام جاری ہے۔ تاہم حملوں کے دوران کام متاثر ہوتا تھا، اکثر ایسی صورت میں چھٹی دے دی جاتی تھی،‘ انہوں نے کہا۔
گرجندر کی طرح ہی کویت میں رہنے والے تقریباً آدھا درجن ہندوستانیوں سے رابطہ کیا گیا۔ سب کا کہنا تھا کہ اس دوران سفارت خانے کی طرف سے ان سے کوئی براہ راست رابطہ نہیں کیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، دنیا کے مختلف ممالک میں 150 لاکھ سے زیادہ ہندوستانی رہتے ہیں، جن میں سے 66 فیصد خلیجی ممالک میں مقیم ہیں۔ ہندوستانی حکومت نے دسمبر 2025 میں پارلیامنٹ میں بتایا تھا کہ خلیج کے چھ ممالک میں 99 لاکھ ہندوستانی تارکین وطن رہتے ہیں، جن میں سب سے بڑی تعداد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں ہے۔

پارلیامنٹ میں حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار۔
ان میں بڑی تعداد مزدوروں کی ہے، جو تعمیرات، خدمات، تیل اور گیس، اور گھریلو کام جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہزاروں ہندوستانی طلبہ بھی ان ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اگرچہ طلبہ کی تعداد مزدوروں کے مقابلے میں کافی کم ہے۔
ایسی صورت میں، جب خطے میں کشیدگی بڑھی، تو یہ فطری تھا کہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کیے گئے اقدامات کی معلومات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ لیکن وزارت خارجہ کا یہ کہنا کہ اس سلسلے میں کوئی معلومات اس کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے، کئی سوالوں کو جنم دیتا ہے-کیا واقعی کوئی باضابطہ خط و کتابت نہیں ہوئی، یا پھر یہ معلومات عوامی سطح پر شیئر نہیں کی جا رہی؟