نیپال کی حالیہ قدرتی آفت خطے کے لیے ایک کڑا انتباہ ہے؛ ایسے میں ’نیچر‘ گروپ کے جریدے میں شائع ہونے والی تازہ ترین سائنسی تحقیق، جو جموں و کشمیر کے پہاڑی سلسلوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے سنگین خطرات کو اجاگر کرتی ہے، ہندوستان اور پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہونی چاہیے۔

نیپال کے ضلع نواکوٹ میں تریشولی ڈیم کے قریب سیلابی ریلے کے بعد کیچڑ اور گاد سے اٹا علاقہ۔ تصویر: پی ٹی آئی/ارون شرما
نیپال کے مناظرنے ہر شخص کے رونگٹے کھڑے کر دیے ہیں۔پوری کی پوری بستی مٹی اور ملبے تلے غائب ہو چکی ہے۔ اس تباہی کا شاید سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس خطرے کی نوعیت سے کبھی کوئی بے خبر نہیں تھا۔
سائنسدان، ماہرین ماحولیات اور پہاڑی آبادیاں برسوں سے متنبہ کر رہی ہیں کہ ہمالیہ کوئی عام پہاڑی سلسلہ نہیں ہے جس پر بغیر کسی انجام کی پروا کیے سڑکیں، سرنگیں، ہوٹل، پن بجلی کے منصوبے، فوجی تنصیبات، زیارت گاہوں کی سہولیات اور پھیلتی ہوئی بستیاں لا متناہی طور پر مسلط کی جاتی رہیں۔
ہمالیہ نو عمر پہاڑ ہونے کی وجہ سے ارضیاتی طور پر متحرک، انتہائی ڈھلوان دار، خستہ حال اور کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے لیے غیر معمولی حد تک حساس ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اب شدید بارشوں، تیزی سے بدلتے گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں اور بلندی پر موجود زمین کے پگھلاؤ کے ذریعے اس میں عدم استحکام کی ایک اور تہہ شامل کر رہی ہے۔
چنانچہ نیپال میں جو کچھ ہوا اسے محض ایک اورقدرتی آفت کے بجائے ایک ایسے پہاڑی سلسلے کی جانب سے تازہ ترین وارننگ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس کے انتباہات کا اعتراف ہم تباہیوں کے فوراً بعد کرتے ہیں اور ملبہ ہٹتے ہی انہیں فراموش کر دیتے ہیں۔
ہندوستان اور پاکستان کے لیے اس انتباہ نے اب غیر معمولی فوری اہمیت اختیار کر لی ہے۔ 28 اگست کو ’نیچر‘گروپ کے جریدے سائنٹفک رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک اہم سائنسی تحقیق نے جموں و کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کے حوالے سے شاید سب سے واضح اور تازہ ترین جائزہ پیش کیا ہے۔
چونکہ ہمالیہ کا ایک بڑا حصہ جموں و کشمیر سے وابستہ ہے، اس لیے اس کے نتائج ہندوستان اور پاکستان کے پالیسی سازوں کے لیے لازمی مطالعہ ہونے چاہئیں۔
جموں یونیورسٹی کے اوتار سنگھ جسروٹیا کی قیادت میں محققین نے تقریباً 43,000 مربع کلومیٹر رقبے کا جائزہ لیا اور سیٹلائٹ تصاویر، ریموٹ سینسنگ، زمینی مشاہدات اور جیوگرافیکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کی تکنیکوں کا استعمال کرتے ہوئے لینڈ سلائیڈنگ کے 669 واقعات کی ایک تفصیلی فہرست تیار کی۔
زیر مطالعہ علاقے کا تقریباً 24.43 فیصد حصہ لینڈ سلائیڈنگ کے شدید خطرے کے زمرے میں آتا ہے اور مزید 3.65 فیصد انتہائی شدیدزمرے میں ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو زیر جائزہ خطے کا 28 فیصد سے زیادہ رقبہ لینڈ سلائیڈنگ کے شدید یا انتہائی شدید خطرے کی زد میں ہے۔مزید 51.56 فیصد حصہ درمیانے درجے کے خطرے کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ صرف 1.54 فیصد رقبے کو بہت کم خطرے کے حامل علاقے کے طور پر شمار کیا گیا۔ دوسرے لفظوں میں، خطرہ جموں و کشمیر کے جغرافیے میں کوئی استثنیٰ نہیں بلکہ اس کی بناوٹ میں ہی سرایت کیے ہوئے ہے۔
محققین نے رام بن، ڈوڈہ، کشتواڑ، پونچھ اور راجوری میں خاص طور پر سنگین خطرات کے حامل جھرمٹوں کی نشاندہی کی ہے۔ سب سے زیادہ حساس علاقوں میں سے کئی علاقے اہم مواصلاتی راہداریوں کے ساتھ واقع ہیں، جن میں قومی شاہراہ 44، قومی شاہراہ 244، این ایچ 144-اے، مغل روڈ اور کشتواڑ-کیلانگ روڈ شامل ہیں۔
یہ کوئی غیر معروف پہاڑی پگڈنڈیاں نہیں ہیں بلکہ وہ شریانیں ہیں جن کے ذریعے عوام، سامان، سیاح، یاتری اور سکیورٹی اہلکار نقل و حرکت کرتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ان میں سے کئی سڑکوں کو کافی حد تک چوڑا یا اپ -گریڈ کیا گیا ہے۔
یہیں پر ایک بے چین کر دینے والی حقیقت سامنے آتی ہے۔ محققین نے آٹھ بڑے عوامل کا جائزہ لیا۔ ان میں زمین کی ڈھلوان، سمت، بلندی، ارضیات، ارضیاتی ساخت، زمین کا استعمال اور نباتاتی احاطہ، چشموں اور ندی نالوں سے قربت، اور سڑکوں سے قربت شامل ہے۔
ان کے ماڈلنگ کے تجزیے نے بار بار یہ ثابت کیا کہ سڑکوں سے قربت، ڈھلوان اور آبی گزرگاہوں سے نزدیکی، لینڈ سلائیڈنگ کی پیش گوئی کرنے والے سب سے مضبوط اشاریوں میں شامل ہیں۔
لہٰذا، پہاڑوں میں سڑکوں کی تعمیر محض ایک ایسے ماحول میں وقوع پذیر نہیں ہو رہی جو پہلے ہی لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے سے دوچار ہے، بلکہ بعض مخصوص حالات میں یہ عمل اس خطرے اور حساسیت کو پیدا کرنے یا اسے مزید شدت بخشنے کا سبب بن سکتا ہے۔
مطالعے میں نوٹ کیا گیا ہے کہ شاہراہوں کی اپ-گریڈنگ قدرتی ڈھلوانوں کو درہم برہم کر دیتی ہے۔
پہاڑی کناروں کو کاٹنے، پہاڑوں کی کھدائی کرنے اور قدرتی نکاسی آب کے نظام کو تبدیل کرنے سے زمین غیر مستحکم ہو سکتی ہے۔ سڑکوں کے پشتے پانی کے بہاؤ کا رخ بدل سکتے ہیں، جس سے کٹاؤ اور ریلوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
محققین نے اپنے جائزے کے ایک حصے میں ڈھلوان کو سب سے زیادہ اہمیت دی، جبکہ سڑکوں کی قربت کو بھی خاطر خواہ وزن دیا گیا۔
یہ رشتہ اس وقت اور بھی واضح ہو گیا جب محققین نے اپنے ماڈل کا موازنہ لینڈ سلائیڈنگ کے اصل مقامات سے کیا۔ نقشے پر درج کی گئی لینڈ سلائیڈنگ کے حیرت انگیز طور پر 87 فیصد واقعات انہی علاقوں میں پیش آئے جنہیں شدید یا انتہائی شدید خطرے کے حامل علاقوں کے طور پر درجہ بند کیا گیا تھا۔
اس تحقیق کے ضلعی سطح کے مشاہدات انتہائی چشم کشا ہیں۔ رام بن کے پرنوٹ میں ایک بڑے لینڈ سلائیڈ نے مکانات اور سڑکوں کو نقصان پہنچایا اور ریاسی کی طرف رابطہ منقطع کر دیا۔ ڈوڈہ کے ٹھاٹھری نئی بستی میں تودے گرنے سے مکانات اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا۔اودھم پور اور بانہال کے درمیان این ایچ-44 پر، جو جموں کو وادی کشمیر سے ملانے والی بنیادی سڑک ہے، لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد واقعات دستاویزی شکل میں درج کیے گئے۔ کشتواڑ میں این ایچ-244 اور کشتواڑ-کیلانگ روڈ کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ ریکارڈ کی گئی۔
پونچھ میں مغل روڈ کے ساتھ لینڈ سلائیڈنگ نے شوپیاں کے ساتھ رابطے کو بار بار متاثر کیا۔ بارہمولہ میں اوڑی-کمان پوسٹ روڈ اور دیگر راستوں پر لینڈ سلائیڈنگ ریکارڈ کی گئی، جبکہ اننت ناگ میں سنتھن ٹاپ کی طرف این ایچ-244 پر ڈھلوانیں گرنے کے واقعات دیکھے گئے۔
سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سڑکوں کے قریب لینڈ سلائیڈ کے شکار علاقوں کے جھرمٹ اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ کھدائی، پہاڑیوں کی کٹائی اور نباتات کے خاتمے کے ذریعے ڈھلوانوں کو غیر مستحکم کرنے میں انسانی سرگرمیوں کا کتنا بڑا ہاتھ ہے۔ وہ خبردار کرتے ہیں کہ پہاڑی خطوں میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع خطرے کو نمایاں طور پر بڑھا سکتی ہے، تاوقتیکہ اس کے ساتھ محتاط منصوبہ بندی اور نقصانات سے بچاؤ کے اقدامات نہ کیے جائیں۔
اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہمالیہ میں سڑکیں نہ بنائی جائیں۔ پہاڑی بستیوں کو رابطے کی ضرورت ہے۔ دور دراز اضلاع کو ہسپتالوں، اسکولوں، منڈیوں اور قابل اعتماد ٹرانسپورٹ کی حاجت ہے۔ لیکن پہاڑوں میں بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنے اور پہاڑ پر غالب آنے کی کوشش کرنے کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہے۔
نیپال کی تباہی میں کشمیر کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ آج سے تیس سال پہلے اسی مہینے جنوبی کشمیر میں امرناتھ یاترا کے لیے جانے والے ہندو یاتریوں کو اگست 1996 میں غیر متوقع شدید خراب موسم، بھاری برفباری اور برفانی طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا۔
یاترا کے راستے اور اس کے آس پاس سے بالآخر 260 سے زائد لاشیں برآمد ہوئیں۔وہاں صرف موسم کی سختی نے ہی جانیں نہیں لیں، بلکہ ہجوم، ناقص ضابطہ کاری، پناہ گاہوں کی قلت، کمزور مواصلاتی نظام، ناکافی پیش گوئی اور انتہائی خطرناک حالات میں بیک وقت بے پناہ لوگوں کا اکٹھا ہو جانا بھی اس کا سبب بنا۔
سابق بیوروکریٹ نتیش سین گپتا کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے بعد ازاں اس راستے کے خوفناک حالات قلمبند کیے۔ایک موقع پر تقریباً 70,000 یاتری شدید برفباری اور تیز ہواؤں کے دوران ایک انتہائی تنگ اور پرخطر پہاڑی راہداری میں پھنسے ہوئے تھے یا حرکت کر رہے تھے۔
سین گپتا نے بیان کیا کہ کس طرح نڈھال یاتری بیٹھتے ہی جم کر رہ گئے، جبکہ دیگر ہجوم اور خچروں کی افراتفری کے دوران کھائیوں میں گر گئے۔
کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ کسی بھی دن چندن واڑی سے آگے ایک مخصوص قلیل تعداد سے زیادہ یاتریوں کو جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔کسی خطے کی سڑکوں، عمارتوں، گاڑیوں، کچرے اور انسانوں کو جذب کرنے کی صلاحیت محض اس لیے لا محدود نہیں ہو سکتی کہ ٹیکنالوجی نے اس توسیع کو ممکن بنا دیا ہے۔
ذرا سوچیے کہ تیس سال بعد ہم کہاں کھڑے ہیں۔امرناتھ یاترا 2026 کا آغاز 3 جولائی کو ہوا تھا اور اسے 28 اگست تک تک جاری رہنا تھا۔ 9 اگست کو جب حکام نے بارشوں کی وجہ سے پہلگام-چندن واڑی اور بال تل دونوں راستوں کے حساس حصوں کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر یاترا کو عارضی طور پر معطل کیا، تب تک 480,000 سے زائد یاتری پہلگام کی بلندیوں میں واقع غار میں قائم مندر کے درشن کر چکے تھے۔
کسی مذہبی یاترا کو سہولت فراہم کرنے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔ مقدس مقام کی زیارت کا عقیدت مندوں کا حق تحفظ کا مستحق ہے۔ لیکن کسی زیارت کا تحفظ کرنا اور اس میں ایک مخصوص نظریہ کو تھوپنے کے نام پر لوگوں کی تعداد کو اندھا دھند بڑھاتے جانا ایک ہی چیز نہیں ہے۔
درحقیقت، حکومتیں یاتریوں کی سب سے بڑی خدمت یہ کر سکتی ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سیاسی وقار، سیاحت کے اہداف یا حاضری کے ریکارڈ کبھی بھی حفاظت اور ماحولیات پر غالب نہ آنے پائیں۔ہمالیہ کوئی اسٹیڈیم نہیں ہے جہاں کامیابی کا پیمانہ محض لوگوں کی حاضری ہو۔ یہ وہ سبق تھا جسے 1996 کے بعد پالیسی کا مستقل حصہ بن جانا چاہیے تھا۔
لینڈ سلائیڈنگ کشمیر کے ہمالیائی خطرات کا صرف ایک حصہ ہے۔ اس خطے میں گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلیں بھی موجود ہیں جن کا رویہ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو رہا ہے۔
ہندوستان کے مرکزی آبی کمیشن نے حال ہی میں ہمالیائی خطے میں اپنے مانیٹرنگ پروگرام کو غیر معمولی وسعت دی ہے۔ جون 2025 سے، وہ 10 ہیکٹر سے بڑی 2,843 گلیشیائی جھیلوں اور آبی ذخائر کی نگرانی کر رہا ہے، جبکہ پہلے یہ تعداد 902 تھی۔
اس فہرست میں جموں و کشمیر کی 76 گلیشیائی جھیلیں اور 16 دیگر آبی ذخائر شامل ہیں۔ لیکن صرف سیٹلائٹ کے ذریعے مشاہدہ کرنا ہی مکمل قبل از وقت انتباہی نظام نہیں بن سکتاہے۔ اس کے لیے حکومت کو مخصوص زونز میں تعمیرات کو روکنے، سیاحوں و یاتریوں کی غیر تعداد کو محدود کرنے، غیر مستحکم ڈھلوان پر ہوٹلوں کی تعمیر کی اجازت نہ دینے اور پہاڑی سڑک کو چوڑا کرنے کے لیے بارود کے استعمال کو روکنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
جموں و کشمیر کے بارے میں کی جانے والی نئی تحقیق واضح طور پر ڈھلوانوں کے تحفظ، سڑکوں کی کنٹرولڈ تعمیر اور مسلسل نگرانی کے ذریعے شدید اور انتہائی شدید خطرے والے علاقوں پر فوری توجہ دینے کی سفارش کرتی ہے۔
اس کے مطابق درمیانے خطرے والے علاقوں میں ترقیاتی کاموں سے قبل محتاط منصوبہ بندی اور ماحولیاتی اثرات کے جائزے کی ضرورت ہے۔سڑکوں کے حوالے سے اس کا انتباہ خصوصی توجہ کا مستحق ہے کیونکہ پورے ہمالیہ میں بنیادی ڈھانچے کی پالیسی اس کے بالکل برعکس سمت میں جا رہی ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی
ہمالیہ کی ہر آفت کے بعد ماحولیاتی تبدیلی کو موردِ الزام ٹھہرانا آسان لگتا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی بلا شبہ خطرے کی نوعیت کو بدل رہی ہے۔ لیکن ماحولیاتی تبدیلی کو ناقص منصوبہ بندی کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔
اگر بارشیں شدید تر ہو رہی ہیں، تو غیر مستحکم ڈھلوانوں کو کاٹنا کم خطرناک نہیں بلکہ مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔جموں یونیورسٹی کے محققین تسلیم کرتے ہیں کہ لینڈ سلائیڈنگ ایک پیچیدہ مظہر ہے جس میں ارضیات، جیومورفولوجی، ہائیڈرولوجی اور انسانی دخل اندازی سبھی شامل ہیں۔ ان کے ماڈل کی بھی کچھ حدود ہیں۔ بارش اور زلزلوں کے بارے میں ہائی ریزولوشن ڈیٹا اب بھی ناکافی ہے، اور چھوٹی لینڈ سلائیڈنگز سیٹلائٹ کی گنتی سے بچ نکلتی ہیں۔
اگست 1996 کے امرناتھ سانحے اور اگست 2026 میں نیپال میں برپا ہونے والی تباہی کے درمیان ایک تکلیف دہ تسلسل موجود ہے۔نیپال کے المیے کو محض دل دہلا دینے والی تصاویر کا ایک اور سلسلہ نہیں بننا چاہیے جو خبروں کا رخ بدلتے ہی عوامی حافظے سے محو ہو جائے۔
اس کے بجائے جنوبی ایشیا کے ممالک کو اس بات پر آمادہ کرانا چاہیے کہ وہ علاقائی آفات سے نمٹنے کے لیے’ سارک‘کو ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر از سرِ نو فعال کرے۔ گلیشیئرز، بادل پھٹنے کے واقعات، لینڈ سلائیڈنگ اور دریا کسی قومی سرحد کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ہمالیہ کے ایک حصے میں شروع ہونے والی آفت سینکڑوں کلومیٹر دور دوسرے ملک کی آبادیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
لہٰذا، سارک کو موسمیاتی، ہائیڈرولوجیکل، زلزلہ جاتی اور سیٹلائٹ معلومات کے حقیقی وقت میں تبادلے کے لیے مستقل علاقائی طریقہ کار قائم کرنا چاہیے۔ہندوستان کی موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت نے سارک کو غیر فعال بنا کر رکھ دیا ہے، اس کو اپنے رویہ پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
رکن ممالک کے موسمی اسٹیشنز، دریاؤں کے پیمانے، گلیشیائی جھیلوں کی نگرانی کے نظام اور دیگر سینسرز ایک مشترکہ ہمالیائی ارلی وارننگ نیٹ ورک سے جڑ سکتے ہیں، جس سے آفات کے پھوٹنے سے پہلے ہی حکومتوں اور حساس بستیوں تک انتباہات پہنچنا ممکن ہو سکے گا۔اس تعاون کو سارک سے آگے بھی پھیلانا ہوگا۔ چین اس عمل میں ناگزیر ہے کیونکہ ہمالیہ اور تبت کے بیشتر سرچشمے اسی کے علاقے میں واقع ہیں۔ سارک، چین اور بین الاقوامی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر ڈیٹا کے باضابطہ تبادلے کا ایک منظم فریم ورک تیار کر سکتا ہے۔
ایک ایسے ہمالیائی مانیٹرنگ گرڈ کا فریم ورک بنانے کی ضرورت ہے، جو قراقرم اور کشمیر سے لے کر ہماچل، اتراکھنڈ، نیپال اور بھوٹان سے ہوتا ہوا مشرقی ہمالیہ تک پھیلا ہو۔ زیادہ خطرے والے گلیشیئرز پر خودکار سینسر لگے ہوں۔ گلیشیائی جھیلوں کی سیٹلائٹ اور زمینی آلات کے ذریعے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہو۔
جموں و کشمیر کے لیے تیار کیے گئے حساسیت کے نقشوں کو سڑکوں کی منصوبہ بندی، سیاحتی پالیسی، یاترا کے انتظام اور تعمیراتی اجازت ناموں میں باقاعدہ شامل کیا جائے۔اگر جنوبی ایشیائی حکومتیں ہزاروں انسانی جانوں کو بچانے والی معلومات کے تبادلے کے لیے سیاسی اختلافات اور اپنی انا کوکنارے نہیں کرسکتی ہیں، تو ان کو ہمالیہ کی تباہیوں سے کوئی بچا نہیں سکے گا۔ بقول اقبال؛
زمین کو فراغت نہیں زلزلوں سے
نمایاں ہیں فطرت کے باریک اشارے
ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے