منریگا کو کانگریس کی ناکامیوں کی یادگار بتانے والے مودی اسی کے سہارے بحران سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں

کو رونا بحران سے بڑھتی بےروزگاری میں منریگا ہی واحد سہارا رہ گیا ہے۔ لوگوں کو روزگار دینے کی صحیح پالیسی نہیں ہونے کی وجہ سے مودی سرکار کو اپنی مدت کار میں منریگا کا بجٹ لگ بھگ دوگنا کرنا پڑا ہے اور حال ہی میں اعلان کیےگئے اضافی 40000 کروڑ روپے کو جوڑ دیں تو یہ تقریباً تین گنا ہو جائےگا۔

کو رونا بحران سے بڑھتی بےروزگاری میں منریگا  ہی واحد سہارا رہ گیا ہے۔ لوگوں کو روزگار دینے کی صحیح پالیسی نہیں ہونے کی وجہ سے مودی سرکار کو اپنی مدت کار میں منریگا کا بجٹ لگ بھگ دوگنا کرنا پڑا ہے اور حال ہی میں اعلان کیےگئے اضافی 40000 کروڑ روپے کو جوڑ دیں تو یہ تقریباً تین گنا ہو جائےگا۔

 (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے 27 فروری 2015 کو لوک سبھا میں منریگا کا مذاق اڑاتے ہوئے اس کو کانگریس کی ناکامیوں کی یادگاربتایا تھا۔انہوں نے کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا، ‘میری سیاسی سوجھ بوجھ کہتی ہے کہ منریگا کو کبھی بند مت کرو۔ میں ایسی غلطی نہیں کر سکتا ہوں۔ کیونکہ منریگا آپ کی ناکامیوں کی جیتی جاگتی یادگار ہے۔آزادی کے 60 سال کے بعد آپ کو لوگوں کو گڑھے کھودنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ یہ آپ کی ناکامیوں کی یادگار ہے اور میں گاجے باجے کے ساتھ اس کاڈھول پیٹتا رہوں گا۔’

نریندر مودی جب ایسا بول رہے تھے تو پارلیامنٹ میں ان کے ساتھی ہنس رہے تھے اور تالیاں پیٹ رہے تھے۔ حالانکہ اب کو رونا کی وجہ سے شدیدبحران میں مودی سرکار کو منریگا کا بجٹ بڑھانا پڑا ہے اور وہ اسی کے سہارے ملک میں کھڑی ہوئی بےروزگاری کاحل ڈھونڈ رہے ہیں۔

سرکار کو منریگا کا بجٹ اس لیے بھی بڑھانا پڑ رہا ہے کیونکہ مرکز کے پاس اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا مضبوط ڈھانچہ یا پالیسی نہیں ہے جو اتنی بڑی آبادی کو گارنٹی کے ساتھ کام دلا سکے۔منریگا قانون بنانے میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار کے علاوہ کئی بڑے ماہرین اقتصادیات، سماجی کارکنوں اور ملک کی زمینی حقیقت سے واقف لوگوں کی غیرمعمولی خدمات تھیں۔

منریگا کو سال 2005 میں پارلیامنٹ سے پاس کیا گیا اور شروع میں اس کے تحت سال میں 100 دن روزگار دینے کا کام یقینی بنایا گیا تھا۔اس وقت منریگا کو لےکر کافی چرچہ اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ مودی کے آتم نربھر بھارت پیکیج کی پانچویں اور آخری قسط کی تفصیلات دیتے ہوئے نرملا سیتارمن نے اعلان کیا کہ اس سال منریگا کے تحت اضافی 40000 کروڑ روپے دیےجائیں گے۔

سیتارمن نے کہا، ‘اس سے 300 کروڑپرسن ورکنگ ڈے پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور شہروں سے لوٹ رہے مزدوروں کو کام دیا جا سکےگا۔’یہ بات درست ہے کہ مرکز نے منریگا کے لیے اضافی رقم مختص کی ہے لیکن اس کو راحت پیکیج کے حصہ کی صورت میں نہیں دیکھا جانا چاہیے کیونکہ منریگا قانون کہتا ہے کہ جتنی مانگ ہوگی، سرکار کو اتنے لوگوں کو روزگار دینا ہوگا۔

چونکہ اس وقت بہت بڑی تعداد میں مہاجر شہروں سے واپس اپنے گھروں کی اور لوٹ رہے ہیں، اس لیے منریگا کے تحت کام مانگنے والوں کی تعداد میں شدید اضافہ ہونے والا ہے۔اس لیے یہ فطری ہے کہ سرکار کو منریگا کے تحت اضافی  رقم دینی ہی پڑتی کیونکہ لوگوں کو روزگار دینے کا مرکز کے پاس کوئی اورذریعہ نہیں ہے۔ حالانکہ سرکار اس کو راحت پیکیج کےطور پر مشتہر کر رہی ہے۔

خاص بات یہ ہے کہ اپوزیشن، بالخصوص کانگریس، اس مرکزی حکومت پر حملہ آور ہے اور منریگا کی برائی والے مودی کے پرانے ویڈیو نکال کر سرکار پر طنز کر رہی ہے۔

کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے مودی کا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کرکے کہا، ‘وزیر اعظم نے یو پی اے کے دور میں بنائی گئی  منریگا اسکیم کے لیے 40000 کروڑ کےاضافی  بجٹ کو منظوری دی ہے۔ منریگا کی اہمیت کو سمجھنے اور اس کو بڑھاوا دینے کے لیے ہم ان کاشکریہ اداکرتے ہیں۔’

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مرکزی حکومت کو منریگا کا بجٹ بڑھانا پڑا ہے۔ مودی سرکار میں منریگا کا بجٹ لگ بھگ دوگنا ہو گیا ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ بےروزگاری بڑھنے کی وجہ سے لوگوں کو منریگا کے تحت کام مانگنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے مرکزی حکومت اس کے بجٹ کو بڑھا رہی ہے۔

سال 2014-15 میں منریگا کا بجٹ 33000 کروڑ روپے تھے، جسے 2020-21 میں بڑھاکر 61500 کروڑ روپے کرنا پڑا۔ اگر حال ہی میں اعلان کیے گئے 40000 کروڑ روپے کی رقم کو جوڑ دیں تو پچھلے سات سالوں میں منریگا کا بجٹ قریب تین گنا بڑھ گیا ہے۔

مودی سرکار میں منریگا کے تحت مختص رقم۔

مودی سرکار میں منریگا کے تحت مختص رقم۔

کو رونا بحران سے بڑھتی بےروزگاری میں منریگا دیہی روزگار کا واحد سہارا رہ گیا ہے۔ حالانکہ ابھی تک اس سال اپریل اور مئی مہینے(16 مئی تک)میں سرکار نے پچھلے سال اسی مدت کے دوران دیے گئے کل روزگار کے مقابلے 42 فیصدی لوگوں کو ہی روزگار دیا ہے۔

آئی آئی ایم احمدآباد کی پروفیسر رتیکا کھیڑا کامشورہ ہے کہ کام کے لیےرجسٹریشن  کو اب تک ختم کر دیا جانا چاہیے۔انہوں نے گزشتہ دنوں دی  وائر کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا، ‘سرکار کو کام مانگنے کے لیے لوگوں سے پوچھنا بند کرنا ہوگا۔ جو کوئی بھی کام کے لیے دکھتا ہے، اس کو کام دیا جانا چاہیے۔ اس سے بہت فرق پڑےگا۔’

کھیڑا نے یہ بھی مشورہ دیا تھا کہ کچھ حصہ کیش اور کچھ غذاکےٹرانسفر کی صورت میں ادائیگی  کرنی چاہیے۔سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی(سی ایم آئی ای)کے حالیہ اعدادوشمار کے مطابق ہندوستان میں بےروزگاری کی شرح مارچ مہینے میں سات فیصدی سے بڑھ کر اب 23 فیصدی سے زیادہ ہو گئی ہے۔ سی ایم آئی ای کے ذریعے کیے گئے سروے میں تقریباً 84 فیصدی فیملی نے بتایا تھا کہ ان کی آمدنی میں گراوٹ آئی ہے۔