یہ واقعہ پوڑیا ہاٹ تھانہ حلقہ کے مٹیانی گاؤں میں پیش آیا، جہاں ایک ہجوم نے مویشی چوری کا الزام لگاتے ہوئے پپو انصاری کو پیٹ-پیٹ کر مار ڈالا۔ مبینہ طور پر وہ روزی روٹی کے لیے مویشیوں کی نقل و حمل کا کام کرتے تھے۔ اہل خانہ نے الزام لگایا کہ ان کا مویشی چوری سے کوئی لینا دینا نہیں تھا اور یہ ان کے مذہب کی وجہ سے ہوا ہے۔
(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)
نئی دہلی: جھارکھنڈ کے گوڈا ضلع میں بدھ (7 جنوری) کو مویشی چوری کے شبہ میں ایک 45 سالہ مسلم شخص کو نامعلوم افراد کے ایک گروپ نے مبینہ طور پر پیٹ-پیٹ کر ہلاک کر دیا۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ انہیں ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔
خبر رساں ایجنسی
پی ٹی آئی نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ یہ واقعہ بدھ کی رات پوڑیاہاٹ پولیس اسٹیشن کے تحت مٹیانی گاؤں میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت پپو انصاری کے نام سے ہوئی ہے، جو پتھرگاما پولیس اسٹیشن کے تحت رانی پور گاؤں کا رہنے والا تھا۔ ان پرمویشی چوری کا الزام لگانے کے بعد لوگوں کے ایک گروپ نےانہیں پیٹ-پیٹ کر مار ڈالا۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، پپو انصاری بہار کے بانکا ضلع کے شیام بازار مویشی ہاٹ سے واپس آ رہے تھے جب یہ واقعہ سگابتھان علاقے میں مٹیانی فٹ بال گراؤنڈ کے قریب پیش آیا۔
ان کی اہلیہ عائشہ بیگم کی شکایت پر 8 جنوری کو پوڑیاہاٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایف آئی آر کے مطابق، نامعلوم افراد نے ان کی گاڑی روکی اور ان سے پوچھ گچھ شروع کی۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے، ‘انہوں نے ان کا نام پوچھا اور پھر حملہ کر دیا ۔’
اس میں بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے کلہاڑی، درانتی اور تیرجیسے تیز دھار ہتھیاروں کا استعمال کیا، موقع پر ہی ان کوہلاک کر دیا اور لاش کو پاس کے ایک کھیت میں پھینک دیا۔
پسماندگان میں بیوی، چار بیٹیاں اور ایک بیٹاہے۔ وہ چار بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
‘قتل مذہب کی وجہ سے ہوا، چوری سے لینا دینا نہیں‘
اخبار نے مہلوک کے بہنوئی فرقان انصاری کے حوالے سے کہا، ‘وہ شام کو مویشی بازارگئے تھے اور رات کو واپس آرہے تھے۔ رات 11 بجے کے قریب ایک گروپ نے گاڑی روکی۔ ڈرائیور نے بتایا کہ وہاں تقریباً 25 لوگ تھے۔’
اہل خانہ کا الزام ہے کہ ہجوم نے پوچھ گچھ کے بہانے گاڑی کو روکا۔ فرقان نے کہا، ‘جب ہجوم پرتشدد ہو گیا تو پپو نے ڈرائیور اور دیگر لوگوں سے کہا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے گاڑی لے کر نکل جائیں۔’ انہوں نے کہا کہ باقی لوگ بھاگنے میں کامیاب رہے، جبکہ پپو کو پکڑ کر مارا پیٹا گیا۔
فرقان نے الزام لگایا کہ حملہ آوروں نے’ان کا نام پوچھنے اور یہ جاننے کے بعد کہ وہ مسلمان ہے،’ان پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا،’ان کا مویشی چوری سے کوئی تعلق نہیں، یہ مذہب کا معاملہ ہے۔’
‘قانونی کام کرتے تھے‘
فرقان انصاری کے مطابق، پپو قانونی طور پر مویشیوں کے ٹرانسپورٹر کے طور پر کام کرتے تھے۔ انہوں نے کہا،’ان کے پاس ایک پک-اپ تھا اور وہ مویشیوں کو ایک منڈی سے دوسری منڈی تک پہنچاتے تھے۔ یہی ان کا واحد ذریعہ معاش تھا اور وہ یہ کام کئی سالوں سے قانونی طور پر کر رہے تھے۔’
انہوں نے کہا کہ پپو باقاعدگی سے بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان جانوروں کی نقل و حمل کرتے تھے اور ان کے پاس تمام ضروری دستاویز تھے۔
گوڈا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مکیش کمار نے کہا کہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا قتل کا تعلق ان کے مذہب سے ہے، تو ایس پی نے کہا کہ تحقیقات کے بعد ہی وجہ سامنے آئے گی۔
انہوں نے کہا،’ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور تمام پہلوؤں کی جانچ کی جا رہی ہے۔ واقعے کی اصل وجہ کا تعین کرنے میں تقریباً ایک ہفتہ لگے گا۔’
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جے پی این چودھری نے کہا کہ یہ جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں کہ یہ واقعہ کیسے ہوا اور اس میں کون لوگ ملوث تھے۔
ڈی ایس پی نے یہ بھی بتایا کہ مقتول کا مجرمانہ ریکارڈ تھا اور وہ کئی بار جیل بھی جا چکا تھا۔ پولیس کے مطابق، اس کے خلاف مویشی چوری اور تانبے کی چوری سے متعلق دو مقدمات پتھرگاما اور مفصل پولیس اسٹیشنوں میں درج ہیں۔