مدھیہ پردیش: گائے کے پیشاب اور گوبر سے کینسر کے علاج کے پروجیکٹ میں 3.5 کروڑ روپے کی بے ضابطگی، 1.75 کروڑ روپے کی مشکوک خریداری

12:58 PM Jan 12, 2026 | دی وائر اسٹاف

مدھیہ پردیش حکومت کی مالی اعانت سے چلنے والا پنچگویہ ریسرچ پروجیکٹ اب مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہاہے۔ جانچ میں سامنے آیا ہے کہ کینسر کے علاج کے نام پر ملے کروڑوں روپے پروجیکٹ سے غیر متعلق مد- سفر، گاڑی، آلات اور فرنیچر-پر خرچ کیے گئے، جبکہ تحقیق کے ٹھوس نتائج برآمد نہیں ہوئے۔

تصویر بہ شکریہ: www.ndvsu.org

نئی دہلی: کینسر کے علاج میں گوبر، گائے کے پیشاب اور دودھ کے استعمال پر مبنی جس تحقیقی پروجیکٹ کو مدھیہ پردیش حکومت کے تعاون سے چلنے والی پہل کے طور پر مشتہر کیا گیا تھا، وہی اب ناناجی دیشمکھ ویٹرنری سائنس یونیورسٹی میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات کے دائرے میں آ گیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق، ریسرچ فنڈ کے غلط استعمال کی شکایات کے بعد جبل پورکلکٹر راگھویندر سنگھ نے معاملے میں تحقیقات کا حکم دیا اور ایڈیشنل کلکٹر آر ایس ایس مراوی کی سربراہی میں دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ تحقیق کے نام پر ملنے والے سرکاری فنڈ کا استعمال اس پروجیکٹ سے غیر متعلق مدوں میں کیا گیا۔

ایڈیشنل کلکٹر مراوی نے بتایا کہ دستاویزوں کی ابتدائی جانچ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً تین لاکھ روپے ہوائی سفر پر خرچ ہوئے ہیں، جبکہ تحقیق سے متعلق کسی دورے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا۔ مزید برآں، پروجیکٹ کے فنڈ سے ایک کار خریدی گئی، اور گاڑیوں کی مرمت، پیٹرول اور ڈیزل پر تقریباً 15 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔

یہ نام نہاد ‘پنچگویہ پروجیکٹ’ 2011 میں شروع کیا گیا تھا، جب ریاستی حکومت نے گوبر، گائے کے پیشاب اور دودھ کے استعمال سے کینسر جیسی سنگین بیماریوں کے علاج کےریسرچ کے لیے 3.5 کروڑ  روپےمنظور کیےتھے۔ تاہم تحقیقات سے ابھی تک ٹھوس اور قابل اعتماد نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق، خام مال اور مشینری کی خریداری پر تقریباً 1.75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، لیکن یہ آلات مارکیٹ ویلیو سے کئی گنا زیادہ قیمتوں پر خریدے گئے۔ مزید برآں، ریسرچ فنڈ سے تقریباً15 لاکھ روپے فرنیچر اور الکٹرانکس آلات پر خرچ کیے گئے، اور تقریباً5 لاکھ روپے دیگر مدوں میں خرچ کیے گئے۔

مراوی نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ کلکٹر کو سونپ دی گئی ہے اور مزید کارروائی کا فیصلہ انتظامی سطح پر کیا جائے گا۔

دریں اثنا، یونیورسٹی کے وائس چانسلر مندیپ شرما نے کہا کہ ریسرچ پروگرام 2018 میں ختم ہو چکا تھا، اور اس وقت تکنیکی اور مالیاتی ریکارڈ کو منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی اب پروجیکٹ کے دستاویزوں کا دوبارہ جائزہ لے رہی ہے اور ریکارڈ کی جانچ کے بعد میڈیا کو باضابطہ معلومات فراہم کی جائے گی۔

روایتی علم کو سائنسی بنیاد دینے کے مقصد سے شروع کیا گیا یہ پروجیکٹ اب شفافیت اور احتساب کے حوالے سے کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہا ہے۔