معید رشیدی: میری جاں عشق نہیں، میں نے قیامت کی ہے

معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔

معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے۔

معید رشیدی اور کتاب کا سر ورق، فوٹو: ارینجمنٹ / دی وائر

کم عمری میں جن شاعروں نے اپنی تخلیقی پختگی کا احساس دلایا ان میں معید رشیدی کا نام خاصا نمایاں ہے۔یہ پختگی ذہنی بالیدگی،کشادہ قلبی، بالغ نظری، زبان شناسی،نکتہ رسی اور آوارہ مزاجی کے سبب حاصل ہو سکی ۔

ان کے اِن فنکارانہ اوصاف کا ثبوت ان کی نثری تحریروں سے بھی مل جاتا ہے۔ مثلاً ان کی یہ سطریں-خواب وہ نہیں جو ہمیں تھپک کر سلادیں۔خواب تو وہ ہیں جو ہمارا جینا حرام کر دیں۔ جاگتی آنکھوں کے خواب انقلاب لاتے ہیں…– ان کے فن کارانہ اپروچ کی غمازی کرتی ہیں ۔

معید رشیدی کو ان کے ہمعصروں میں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ ان کی نثر نگاری میں بھی شعری آہنگ محسوس ہوتا ہے ۔

 شاعری  کے’آخری کنارے پر‘کھڑے ہو کرجب اس نے حیات و کائنات کے نشیب و فراز پر نگاہیں مرکوز کیں تو آنکھوں میں خوابوں کا ایک سلسلہ ابھرتا چلا گیا ۔طرح طرح کے خواب آنکھوں میں جمع ہونے لگے۔یہ وہ خواب تھے جو عمر کے مختلف مراحل پر مختلف اوقات میں مختلف زاویوں سے دیکھے گئے تھے۔ ان میں یہ خواب بھی تھے؛

سارے خواب ہمارے ہی تھے سب تعبیریں اپنی تھیں

 ہم  اپنے  ہی خوابوں کی تعبیر  سے لڑنے  نکلے تھے

آنکھوں سے نکل کر دل کی جانب محو سفر ہیں خواب

ہر مکےسے ہجرت میں ایک مدینہ پڑتا ہے

نئے    سفر    پہ   نکلنا    ہے   یا   ٹھہرنا   ہے

ہمارے خواب بھی ہم سے خیال پوچھتے ہیں

آتے رہیں یہ خواب تو جاتا رہے ملال

جاتے رہیں یہ خواب اگر زندگی نہ دیں

خواب تیرے بہت ستانے لگے

نیند میں روز روز آکے مجھے

کہ اب شورِ جنوں میں رات بھی اپنی نہیں رہتی

محبت کرکے  دیکھو  خواب  بھی اپنا  نہیں رہتا

مرے ہر خواب میں بس ایک ہی چہرہ چمکتا ہے

کرم   ہے، مہربانی  ہے ، عنایت  ہے   چلے   آؤ

یہ اور اس طرح کے اور بھی کئی خواب اس کے عشق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔اس عشق کی طرف جو کسی روایتی شاعر کا عشق نہیں بلکہ اس شاعر کا عشق ہے جو کہتا ہے؛

عشق میں جان کی بازی  ہی لگا دی  میں نے

اس سے بڑھ کر کوئی نقصان تو ہونے سے رہا

 اس  جہاں  میں نہیں آسان محبت  کا سفر

میری جاں عشق نہیں ,میں نے قیامت کی ہے

عشق نے چھوڑ دیا سخت  اذیت کے لیے

اب تلک جان نہیں لی تو رعایت  کی   ہے

معلوم  ہوا  عشق   میں نقصان  بہت  ہے

اس کام میں سنتے تھے خسارہ نہیں ہوتا

ہار کر بھی تو محبت نے مجھے جیت لیا

کوئی  بتلائے  مرے  درد کا،چارہ  کیا  ہے

اے  عشق آج فخر کر  کہ  دل  ہوا  ہے بادشاہ

اے عشق تیری سلطنت پہ دیکھ کیسا نور ہے

عشق ومحبت کے جن تجربوں سے معید رشیدی کو گزرنا پڑا ان سارے تجربوں کا نچوڑ اس غزل میں سما گیا ہے؛

لگتا   ہے   آسان   محبت   کرنے   میں

لگ جاتی  ہے  جان محبت کرنے  میں

چلا گیا اک شخص تو رونا دھونا کیا

ہوتا  ہے  نقصان  محبت   کرنے   میں

نفرت کرنے والے  شان سے جیتے ہیں

مرتا  ہے  انسان  محبت   کرنے   میں

ہو جاؤگے پھر تم خود سے بھی انجان

لگا  رہے  گا دھیان  محبت  کرنے  میں

رفتہ  رفتہ   ہر   عاشق   ہو  جاتا  ہے

پھولوں کی دوکان محبت   کرنے  میں

یعنی محبت آسان نہیں،اس میں پوری جان لگ جاتی ہے۔ اگر محبوب بچھڑ جائے تو رونا دھونا کیا ،اس راستے میں نقصان تو ہونا ہی تھا۔نفرت کرنے والے شان سے جیتے ہیں مگر محبت کرنے والے کو جان سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔انسان کا دھیان محبت میں ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول جاتا ہے۔ اور آخرکار ہر سچا عاشق پھولوں کی دکان بن جاتا ہے۔

ان سارے تجربات سے گزرنا آسان نہیں۔ اس سفر میں پوری زندگی کھپ جاتی ہے مگر حیرت ہوتی ہے کہ معید رشیدی نے بہت کم عمر میں ہی اس کٹھن اور سنگلاخ زمین والے سفر کو طے کرلیا ۔

اس غزل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے ہر شعر میں لفظ محبت در آیا ہے۔ ظاہر ہے یہ شعوری کوشش نہیں بلکہ بحر ِ محبت کی موجوں کی سیل ہے جو ہرایک شعر میں اترتی گئی ہے۔ شاید اس مجموعے کی یہ واحد ایسی غزل ہے جس کے ہر شعر میں محبت اپنے نام کے ساتھ بھی موجود ہے۔

معید رشیدی نے محبت کے ایک اور تکیے کا ذکر کیا ہے جسے سرکے نیچے رکھا تو جاتا ہے مگر اسے پھول دار غلاف میں چھپا دیا جاتا ہے۔یہ تکیہ معید رشیدی نے بھی اپنے شعری بستر کے سرہانے رکھا ہے مگر اس نے پھول دار غلاف کو اتار دیا ہے۔ خول سے باہر آئے محبت کے اس تکیے کو آپ بھی دیکھیے؛

  جانے کس موڑ پہ کب کس سے محبت ہوجائے

عشق  میں  ایک  خدا  کے  نہیں  قائل  ہم  لوگ

ہاں چلو ٹھیک ہے تم نے بھی شرارت کی ہے

ایک ہی عشق پہ کب ہم  نے قناعت  کی ہے

اک شخص کی یادوں پہ گزارا نہیں ہوتا

یہ کس نے  کہا عشق  دبارہ  نہیں   ہوتا

اک محبت پہ گزارا نہیں  ہوتا اے  عشق

دیکھ لے تیری شریعت میں خلل پڑتا ہے

ایک کے بجائے کئی لوگوں سے عشق کرنےکا یہ مطلب نہیں کہ عاشق ہرجائی ہے بلکہ یہ انسانی فطرت کی بوقلمونی کا مظاہرہ ہے۔ عاشق اپنے معشوق کے اندر بہت کچھ دیکھنا چاہتا ہے مگر عام طور پر کسی ایک شخصیت میں وہ تمام عناصر نہیں ملتے ،اسی لیے ان میں سے کچھ اوصاف جب کسی دوسرے میں نظر آتا ہے تو ذہن و دل اس کی جانب ملتفت ہو جاتے ہیں اور کشش بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے پہلے محبوب سے الگ ہو جاتاہے۔

 کبھی کبھی تو جدائی کا غم یا بے وفائی کا جبر اتنا ستاتا ہے کہ عاشق دوسری پناہ گاہوں کی تلاش میں نکل پڑتا ہے۔

تخلیقیت کی سرشت میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ کسی بنے بنائےڈھانچے میں نہیں بلکہ نئے  نئے سانچوں میں ڈھلنا چاہتی ہے۔ نئی نئی صورتوں میں ظاہر ہونا چاہتی ہے۔ انوکھے قالب اختیار کرنا چاہتی ہے۔ نئے نئے روپ میں ظہور پذیر ہونا چاہتی ہے۔ مروجہ اور فرسودہ سانچوں سے بچنا چاہتی ہے۔

تخلیقیت کی یہ سرشت معید رشیدی کے شعری اظہار میں بھی نظر آتی ہے۔ اس سرشت کا رنگ ان کے ڈکشن میں صاف طور پر نظر آتا ہے؛

اچھے بھلے تھے لوگ ہوئے عشق میں تباہ

تسبیح، ورد،ذکر ، وظیفوں  میں  آ گئے

کوئی قیس نہیں جاتا اب  ویرانے کی اور

مجنوں سارے شہر میں آج کمانے آتے ہیں

معید رشیدی کے اس شعری آئینے میں ان کے شاعرانہ وفور کے انعکاس کے ساتھ ساتھ ان کے وفورِ محبت کا عکس بھی جھلملا اٹھا ہے ۔گویا معید رشیدی کی محبت کااعادہ بھی ہو گیا ہے۔ میرے اس احساس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نناوے صفحے کی اس کتاب میں لفظ ِ محبت کا استعمال31 مرتبہ ہوا ہے اور عشق کا لفظ 28 بار آیا ہے۔ کسی تحریر میں کوئی لفظ بار بار یوں ہی نہیں آتا۔اس لفظ کا معنوی دباؤ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ لفظ نوک ِ خامہ سے بار بار ٹپک پڑتا ہے ۔

شدید محبت یا محبت کی شدت کا اندازہ معید رشیدی کے ان جملوں-ٹوٹ کر محبت کرنے والے ایک دن ٹوٹ جاتے ہیں۔خواب کی کرچیوں کو جوڑ کر شعر بنانے میں  نہ جانے کتنی بار یہ دل ٹوٹا ہے لیکن روح کے شکستہ تاروں کو جوڑ کر الفت کے سفر پر یہ پاگل پھر چل پڑتا ہے۔اس لیے کہ محبت ہی نجات کی آخری صورت ہے۔ ‘- سے لگایا جا سکتا ہے جو دیباچہ  ’تعبیر سے الگ‘میں درج ہوئے ہیں۔

رشیدی محبت کے دباؤ کی صورتیں دیکھ لیجیے؛

اس جہاں میں نہیں آسان محبت کا سفر

میری جاں عشق نہیں ،میں نے قیامت کی ہے

جان چلی جاتی ہے دل آزار محبت میں

تم اتنا  ہر بار خسارہ  کیسے  کرتے  ہو

تاریک سارے شہر کو نفرت نے کردیا

لیکن ہمیں چراغ محبت  نے    کر دیا

سانس کی ڈور سے باندھی تھی محبت میں نے

کتنا آسان تھا  کہنا کہ  چلو ختم  کریں

شاعر کے نزدیک محبت نجات کا ذریعہ اس لیے ہے کہ محبت  سر پر ایک ایسا سایہ کرتی ہے  کہ جس سے تمازت کی ساری سوئیاں جسم و جاں سے نکل جاتی ہیں۔ محبت نسوانی جسم کا ایک ایسا لمس فراہم کرتی ہے کہ جس سے آنکھوں میں سرمہ سا بھر جاتا ہے اور وہ سرمہ ایسی ٹھنڈک پہنچاتی ہے کہ سینے کی جلن کافور ہو جاتی ہے اور زخموں پر برف کے فاہے رکھ دیتی ہے۔

محبت اضطراب سے بھرے سر کو ایک ایسی آغوش فراہم کرتی ہے کہ جہاں اضطراب کو سکون مل جاتا ہے۔

 محبت کے رنگ میں ڈوبے اور محبت کے مختلف مراحل سے گزرنے والےشاعر سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اس مضمون کو سو رنگ سے باندھے گا اور اس کے شعروں میں رنگ ِ محبت کے وہ شیڈس بھی ہم دیکھ سکیں گے جو اس کے خامے کی نوک کے نیچے جمع ہیں، اور یہ شیڈس روشن بھی نظر آئیں گے کہ تخلیق کار کو لسانی فسوں کاری بھی حاصل ہے۔

(غضنفر معروف فکشن نویس ہیں۔)