مرکزی حکومت کو تمام صارفین کے کال ریکارڈ دینے سے موبائل آپریٹرز نے کیا انکار

سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا نے محکمہ ٹیلی کام کے سکریٹریک و خط لکھ‌کر کہا کہ محکمہ ٹیلی کام کی مقامی اکائیاں کئی وی وی آئی پی زون کےساتھ دہلی سمیت کئی ریاستوں میں کال ڈیٹا ریکارڈ مانگ رہی ہیں۔

سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا نے محکمہ ٹیلی کام کے سکریٹریک و خط لکھ‌کر کہا کہ محکمہ ٹیلی کام کی مقامی اکائیاں کئی وی وی آئی پی زون کےساتھ دہلی سمیت کئی ریاستوں میں کال ڈیٹا ریکارڈ مانگ رہی ہیں۔

علامتی فوٹو : رائٹرس

علامتی فوٹو : رائٹرس

نئی دہلی: سپریم کورٹ کے ذریعے صارفین کی لازمی پرائیویسی کی ہدایات کی مبینہ خلاف ورزی اور سرولانس کے سوالوں کو اٹھاتے ہوئے حکومت پچھلے کچھ مہینوں سےملک کے کئی علاقوں سے تمام موبائل صارفین  کا کچھ دنوں کا کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) مانگ رہی ہے۔انڈین ایکسپریس کے مطابق،یہ غیر معمولی درخواست محکمہ ٹیلی کام کی مقامی اکائیوں کے ذریعے ٹیلی کام آپریٹرز کو بھیجی گئی ہے۔

دہلی، آندھر پردیش، ہریانہ، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، کیرل،اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور پنجاب کے سرکل میں صارفین کے لئے ریکارڈ مانگے گئے ہیں۔اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر ٹیلی کام آپریٹر کے ایک سینئر افسر نے کہا،یہ کئی مہینوں سے ہو رہا ہے، لیکن جنوری اور فروری کےدوران ہم نے بڑی تعداد میں آنے والی ان درخواستوں پر دھیان دینا شروع کر دیا۔

گزشتہ12 فروری کو تمام اہم ٹیلی کام آپریٹروں کی نمائندگی کرنے والےسیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف انڈیا (سی او اے آئی)نے محکمہ ٹیلی کام کے سکریٹری انشو پرکاش کو ایک شکایت میں ان درخواستوں کو منظور کرنے سے انکار کر دیا۔انشو پرکاش کو بھیجے گئے اپنے نوٹ میں مخصوص راستوں / علاقوں کےلئے مانگی گئی سی ڈی آر سرولانس کے الزامات کو جنم دے سکتی ہے، خاص طورپر دہلی جیسی ریاست میں جہاں کئی وی وی آئی پی زون ہیں اور یہاں وزرا، رکن پارلیامان، جج وغیرہ کی رہائش گاہ اور دفتر ہیں۔

سی او اے آئی نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ اپنی درخواست میں ڈی اوٹی اکائیوں نے ان سی ڈی آر کی ضرورت کے لیے نہ تو مطلوبہ مقصد اور نہ ہی صارفین کی پہچان کا ذکر کیا ہے جو پرائیویسی  کے معیاری اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔آپریٹروں کے ساتھ محکمہ ٹیلی کام کے لائسنس سمجھوتہ کے کلاز نمبر39.20 کے تحت کم سے کم ایک سال کی تفتیش کے لئے لائسنس دہندہ (محکمہ ٹیلی کام) کےذریعے سی ڈی آر اور آئی پی ڈیٹیل ریکارڈس (آئی پی ڈی آر) کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔وہیں،لائسنس دہندہ ان ریکارڈوں کے بارے میں وقتا ًفوقتاً ہدایات جاری کرسکتا ہے۔

لائسنس کی شرط یہ بھی بتاتی ہے کہ موبائل کمپنیوں کے ذریعے سی ڈی آر قانون-نفاذ ایجنسیوں اور مختلف عدالتوں کو ان کی خصوصی درخواست یا ہدایتوں پرفراہم کیا جاتا ہے، جس کے لئے ایک طےشدہ پروٹوکال ہے۔2013 میں راجیہ سبھا میں حزب مخالف کےرہنما ارون جیٹلی سمیت کئی سیاستدانوں کی سی ڈی آر کے لئے ناجائز پہنچ کو لےکرہنگامہ کے بعد، یو پی اے حکومت نے کال ریکارڈ حاصل کرنے کے لئے ہدایات کو سخت کرنےکا فیصلہ کیا تھا۔

ہوم سکریٹری کی منظوری کے بعد اسی سال جاری کئے گئے نئے ہدایات کےتحت صرف ٹیلی کام سپرنٹنڈنٹ (ایس پی) اور اس سے اوپر کے افسروں کو ٹیلی کام آپریٹروں سے اس طرح کی تفصیل کی مانگ کرنے کے لئے اختیار دیا گیا تھا۔ اس کےعلاوہ، ایس پی کو ہر مہینے حاصل ہونے والے سی ڈی آر کے بارے میں ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کو ایک ضروری اعلان دینے کا اہتمام کیا گیا تھا۔

حالانکہ، حالیہ درخواست ان میں سے کسی بھی انضباطی ہدایات کے مطابق نہیں ہے۔ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) کے ایک سابق صدر نےکہا، یہ بہت غیرمعمولی ہے۔ ایک بار جب ان کے پاس ایک ڈیٹا بیس ہوتا ہے، تو وہ اس ڈیٹا بیس کا استعمال یہ پتہ لگانے کے لئے کر سکتے ہیں کہ کس نے-کس سے بات کی۔ سی ڈی آر ریکارڈ مانگنے کے لئے کوئی وجہ ہونی چاہیے اور اس سبب کے بغیر یہ ایک من مانی کارروائی اور پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے ۔

کچھ کمپنیوں کے ایگزیکٹو افسروں نے اس کو کال ڈراپ کی صورتحال کا پتہ لگانے کے  طریقہ بتایا۔ حالانکہ، ایک افسر نے کہا، اگر سی ڈی آر ریکارڈمانگنے کی یہ وجہ ہے تو ان کو آپریٹروں کو اس کے بارے میں بتانا چاہیے۔پرکاش کو بھیجے گئے اپنے خط میں سی او اے آئی نے کہا کہ محکمہ ٹیلی کام کی مقامی اکائیوں نے ماہانہ کی بنیاد پر کچھ خاص تاریخوں کے سی ڈی آر مانگےتھے۔ آندھر پردیش (مہینے کا پہلا اور 5 واں دن)، دہلی (18 واں دن)، ہریانہ (21 واں دن)، ہماچل، اتر پردیش اور جموں و کشمیر (پچھلے مہینے کا آخری دن)، کیرل اوراڑیسہ (15 واں دن)، مدھیہ پردیش اور پنجاب (پچھلے مہینے کا آخری دن اور رواں مہینےکا پہلا دن)۔

اس کے علاوہ محکمہ ٹیلی کام کی مقامی اکائیوں نے 2، 3 اور 4 فروری کو دہلی سرکل کے سی ڈی آر کی تفصیل مانگی تھی۔