راجیہ سبھا ایم پی منوج کمار جھا نے راہی معصوم رضا کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے یہ جذبات سے لبریز خط لکھا ہے۔ اس میں رضا کی ادبی وراثت، ان کی انسانی بصیرت اور آج کے زمانے میں ان کے الفاظ کی معنویت پر اپنائیت سے غور کیا گیا ہے۔
راہی معصوم رضا کے نام
راہی جی، یہ خط کسی بحث کے لیے نہیں، بس آپ کو یاد کرنے کے لیے ہے۔ جانتا ہوں، جہاں آپ ہیں وہاں تک شبد (لفظ) بھی تھک کر لوٹ آتے ہوں گے۔ پھر بھی لکھ رہا ہوں، کیونکہ کچھ یادیں لکھے بغیر سانس نہیں لے پاتیں۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ آپ کی کتابوں کے گاؤں اب بھی کہیں سانس لے رہے ہیں، کسی پگڈنڈی کے کنارے، کسی پرانے برگد کی چھاؤں میں، جہاں لوگ نام سے پہلے چہرے پہچانتے تھے۔ آپ کے سمئے کا دکھ شاید اتنا ہی گہرا تھا، مگر اس میں انسان ہونے کی تھوڑی سی جگہ بچی رہتی تھی۔ اب دکھ شور میں بدل گیا ہے، اور ہمدردی دھیرے دھیرے حاشیے پر سرکتی جا رہی ہے۔ آپ نے جن گلیوں کو کہانیوں میں بسایا تھا، وہاں اب نام بدل دیے گئے ہیں۔ پر چہرے وہی ہیں ڈرے ہوئے،چپ،
اور اپنے ہی سائے سے
اتنی ساری چیخوں کے بیچ
دھیرے سے کہتے—