تشدد سے متاثرہ منی پور کے چوڑاچاندپور ضلع کے سونگ کونگ گاؤں میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے ایک جھڑپ میں ایک مشتبہ عسکریت پسند کو مارنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، بی جے پی ایم ایل اے لیتزامن ہاؤکیپ اور سول سوسائٹی نے مہلوک کو بے گناہ شہری بتایا ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: تشدد سے متاثرہ منی پور کے چوڑاچاندپور ضلع میں منگل (16 جون) کو سکیورٹی فورسز کے ایک جوائنٹ آپریشن کے دوران ایک شخص کی موت ہو گئی۔ پولیس نے انہیں مشتبہ عسکریت پسند قرار دیا، جبکہ مقامی بی جے پی ایم ایل اے لیتزامن ہاؤکیپ نے الزام لگایا کہ مرنے والا شخص ایک بے گناہ شہری تھا۔
مہلوک کی شناخت لینمن سینگ ہاؤکیپ کے طور پر ہوئی ہے۔ تاہم، چوڑاچاندپور اسمبلی حلقہ سے بی جے پی ایم ایل اے لیتزامن ہاؤکیپ نے پولیس کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وہ شخص عسکریت پسند نہیں تھا۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئے ہاؤکیپ نے کہا کہ سونگ کونگ گاؤں، جہاں یہ واقعہ پیش آیا،پوری طرح سے کُکی برادری کا گاؤں ہے اور یہ میتیئی یا نگا اکثریتی علاقوں سے کافی دور ہے۔ انہوں نے کہا، ’مجھے نہیں پتہ کہ یہ قتل کیوں ہوا۔‘
ایم ایل اے نےآپریشن سے معتلق صورتحال پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق، واقعہ سے پہلے علاقہ میں کوئی گولی باری یا مسلح جھڑپ نہیں ہوئی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا،’سونگ کونگ گاؤں پوری طرح سے کُکی آبادی والا ہے۔ آس پاس کوئی میتیئی یا نگا بستی نہیں ہے۔ جب فورس گاؤں میں داخل ہوئی تو گاؤں والوں کی طرف سے نہ کوئی گولی باری ہوئی اور نہ ہی کوئی جوابی کارروائی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ گاؤں میں اس کارروائی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے، تو ہاؤکیپ نے کہا،’پچھلے سال اسی گاؤں میں ایک انڈرگراؤنڈتنظیم سے وابستہ چار لوگ مارے گئے تھے۔ مجھے شبہ ہے کہ یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ آسام رائفلز اور سکیورٹی فورسز دوبارہ اس گاؤں میں پہنچے ہوں۔‘
وہیں،بدھ کو جاری ایک بیان میں منی پور پولیس نے کہا کہ سکیورٹی فورسز سونگ کونگ میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف آپر یشن چلا رہے تھے، جب یہ جھڑپ ہوئی۔
بیان میں کہا گیا،’جھڑپ کے دوران ایک مشتبہ عسکریت پسند مارا گیا۔ موقع سے ایک اے کے-47 رائفل، میگزین، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیگر قابل اعتراض سامان برآمد کیا گیا۔ اس معاملے میں کیس درج کر لیا گیا ہے اور آگے کی تفتیش چل رہی ہے۔‘
پولیس کے بیان میں جھڑپ کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
احتجاج
واقعہ کے بعد کُکی خواتین نے چوڑاچاندپور کے کچھ علاقوں میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
سونگ کونگ دیہی انتظامیہ نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے منگل کو فوجی اہلکاروں کی جانب سے گاؤں پر کیے گئے حملے کی مذمت کی اور اسے ’سفاک اور غیر انسانی حملہ‘قرار دیا۔ بیان میں الزام لگایا گیا کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ڈرون اور بموں کا استعمال کیا اور لینمن سینگ ہاؤکیپ ایک بے گناہ شہری تھے۔
دیہی انتظامیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی موت کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے کپڑے اتار کر انہیں فوجی وردی پہنائی اور لاش کو وہاں سے منتقل کر دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ’اب تک ان کی لاش کا کوئی پتہ نہیں چلا ہے۔‘
رپورٹ کی اشاعت تک ان الزامات پر سکیورٹی فورسز کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
چوڑاچاندپور کے ہینگ لیپ علاقے میں موجود کئی کُکی شہری تنظیموں نے بھی مشترکہ بیان جاری کر کے ان الزامات کی حمایت کی۔
چار تنظیموں — ہینگ لیپ سب ڈویژن چیفس ایسوسی ایشن، کُکی اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (ہینگ لیپ بلاک)، کُکی کھانگلائی لامپی (ہینگ لیپ بلاک) اور ہینگ لیپ ویمن سوسائٹی – نے منگل کو اپنے بیان میں کہا کہ، ’اس طرح کی کارروائیاں اقتدار کے غلط استعمال اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی مثال ہیں۔‘
منی پور میں میتیئی اور کُکی برادریوں کے درمیان نسلی کشیدگی مئی 2023 میں پرتشدد واقعات میں تبدیل ہو گئی تھی۔ اس کے بعد سے اب تک 290 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں عام شہری اور ریاستی و مرکزی سکیورٹی اہلکار شامل ہیں، جبکہ تقریباً 60,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
دونوں برادریاں اب بھی ایک دوسرے سے جسمانی طور پر الگ ہیں اور ان کے درمیان ’بفر زون‘بنے ہوئے ہیں جہاں سکیورٹی فورسز گشت کرتی ہیں۔
ریاست کے ایک اور علاقے میں فروری میں کُکی اور نگا برادریوں کے درمیان بھی تصادم شروع ہوا، جس میں دونوں برادری کے لوگ مارے گئے، یرغمال بنائے گئے اور گھروں کو آگ لگا دی گئی۔
انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔