مالیگاؤں بلاسٹ: تمام ملزمین سے تین دسمبر کو عدالت میں حاضر ہو نے کو کہا گیا

سال2008 میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ہوئے بم دھماکہ میں چھ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 101 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں بھوپال سے ایم پی پر گیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، رمیش اپادھیائے، اجے راہرکر، سدھاکر دھر دویدی، سمیر کلکرنی اور سدھاکر چترویدی ملزم ہیں۔

سال2008 میں مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں ہوئے بم دھماکہ میں چھ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 101 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ اس معاملے میں بھوپال سے ایم پی  پر گیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ  کرنل پرساد پروہت، رمیش اپادھیائے، اجے راہرکر، سدھاکر دھر دویدی، سمیر کلکرنی اور سدھاکر چترویدی ملزم ہیں۔

پر گیہ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ  کرنل پروہت (فوٹو: پی ٹی آئی)

پر گیہ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ  کرنل پروہت (فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مالیگاؤں میں2008 میں ہوئے بم دھماکوں کے معاملے میں شنوائی کر رہی ایک اسپیشل  این آئی اے عدالت نے منگل کوبی جے پی ایم پی پر گیہ سنگھ ٹھاکر اور لیفٹیننٹ  کرنل پرساد پروہت سمیت تمام سات ملزمین کو تین دسمبر کو اس کے سامنےپیش ہونے کی ہدایت دی۔

ایک متاثرہ فیملی نے معاملے میں روزانہ شنوائی کی گزارش کی تھی، جس کے بعد عدالت نے ہدایت  دی۔ معاملے کی جانچ این آئی اے کر رہی ہے۔جسٹس پی آر سترے نے تمام ملزمین کو جمعرات  کو عدالت میں حاضر رہنے کی ہدایت  دی۔

روزانہ شنوائی کی عرضی پر خصوصی پبلک پراسیکیوٹر اویناش رسل نے کہا کہ وہ جلداز جلدشنوائی مکمل کرنے کو تیار ہیں، لیکن انہیں گواہوں کا پتہ لگانا ہے، جو بہت بوجھل کام ہے۔عدالت نے اس معاملے میں اکتوبر 2018 میں لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، پر گیہ سنگھ ٹھاکر اور پانچ دیگر ملزمین کے خلاف دہشت گردی  کے معاملے میں الزام طے کیےتھے۔

این آئی اے نے کہا کہ الزام طے کیےجانے کے بعد وہ معاملے میں تیزی سے شنوائی پوری ہونے کی ہرممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ معاملے میں 400 گواہوں میں سے تقریباً 140 کی جانچ ہو چکی ہے۔جانچ ایجنسی نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ معاملے میں قبل میں شنوائی کر رہے جج کے سبکدوش ہونے اور کووڈ 19کی وجہ سے شنوائی میں تاخیر ہوئی ہے۔

بتا دیں کہ مہاراشٹر کے ناسک ضلع کے مالیگاؤں میں بھیکو چوک کے قریب29 ستمبر 2008 کو ہوئے بم دھماکہ میں چھ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور 101 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ملزمین پر یو اے پی اےکی دفعہ16(دہشت گردانہ کام کرنا) اور 18(دہشت گردانہ سازش)کے تحت الزام  لگائے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ان پر آئی پی سی کی وفعہ120بی(مجرمانہ سازش)، 302(قتل)، 307 (قتل کی کوشش)، 324 (جان بوجھ کر چوٹ پہنچانا) اور 153اے (دو کمیونٹی کے بیچ دشمنی کو بڑھاوا دینا) اور دھماکہ خیز اشیا رکھنے سے متعلق ایکٹ کے تحت الزام  لگائے گئے ہیں۔

اس معاملے میں سال 2019 میں بھوپال سے لوک سبھا انتخاب  جیتنے والی پر گیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت، رمیش اپادھیائے، اجے راہرکر، سدھاکر دھر دویدی، سمیر کلکرنی اور سدھاکر چترویدی ملزم ہیں۔

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)