مہاراشٹر: 26 جنوری سے اسکولوں میں آئین کی تمہید ہوگی لازمی

کانگریس ایم ایل اے اور وزیر ورشا گایک واڑ نے کہا کہ طلبا آئین کی تمہید کی پڑھنت کریں گے تاکہ وہ اس کی اہمیت جانیں۔ حکومت کی یہ کافی پرانی تجویز ہے لیکن ہم اس کو 26 جنوری سے نافذ کریں گے۔ وزیر نے کہا کہ طلبا ہر روز صبح کی پریئر کے بعد تمہید کی پڑھنت کریں گے۔

کانگریس ایم ایل اے اور وزیر ورشا گایک واڑ نے کہا کہ طلبا آئین کی تمہید پڑھیں گے تاکہ وہ اس کی  اہمیت جانیں۔ حکومت  کی یہ کافی پرانی تجویز  ہے لیکن ہم اس کو  26 جنوری سے نافذ  کریں گے۔ وزیر نے کہا کہ طلبا ہر روز صبح کی پریئر کے بعد تمہید   پڑھیں گے۔

فوٹو: ٹوئٹر@CMOMaharashtra

فوٹو: ٹوئٹر@CMOMaharashtra

نئی دہلی: مہاراشٹر میں 26 جنوری سے سبھی اسکولوں میں روزانہ  صبح کی پریئر کے بعد آئین کی تمہید    لازمی طور طورپر پڑھی  جائے گی۔ریاستی وزیر ورشا گایک واڑ نے منگل کو یہ جانکاری دی۔

کانگریس ایم ایل اے اور وزیر ورشا گایک واڑ نے یہاں صحافیوں  کو بتایا، ‘طلبا آئین  کی تمہید پڑھیں گے تاکہ وہ اس  کی اہمیت جانیں۔ حکومت  کی یہ کافی پرانی تجویز ہے لیکن ہم اس کو  26 جنوری سے نافذ کریں گے۔’اس بارے میں سرکار نے فروری 2013 میں آفیشیل خط جاری کیا تھا۔ اس وقت  ریاست میں کانگریس اور این سی پی اتحاد  کی حکومت تھی۔ وزیر نے کہا کہ طلبا ہر روز صبح کی پریئر کے بعد تمہید  پڑھیں گے۔

بتا دیں کہ، مہاراشٹرحکومت  کا یہ فیصلہ  ایسے وقت میں آیا ہے جب ملک  بھر میں شہریت ترمیم قانون (سی اے اے ) اور ملک گیر مجوزہ این آرسی کے خلاف مظاہرے  ہو رہے ہیں اور ان میں بڑے پیمانے پر لوگ آئین کی تمہید  پڑھ رہے ہیں۔ وہ آئین کی تمہید کے بڑے بڑے پوسٹر بینر بھی ان مظاہروں  میں استعمال کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر کے وزیر سبھاش دیسائی نے منگل کو کہا کہ ریاستی حکومت  اگلے اسمبلی سیشن  میں ایک آرڈیننس  لائے گی  جس میں ریاست کے سبھی اسکولوں میں مراٹھی زبان  کی پڑھائی لازمی ہوگی، چاہے وہ کسی بھی میڈیم کے ہوں۔شیوسینا رہنما دیسائی نے کہا کہ اس بارے میں آرڈیننس  کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے۔ اسمبلی  کا اگلا سیشن فروری میں ہوگا۔

دیسائی کے حوالے سے ایک بیان میں کہا گیا، ‘سرکار اگلے مہینے اسمبلی سیشن  میں ایک قانون بنائے گی جس میں سبھی اسکولوں میں پہلی سے دسویں کلاس تک مراٹھی زبان  کی پڑھائی لازمی ہوگی چاہے ان میں کسی بھی میڈیم میں پڑھنے پڑھانے کا کام  ہوتا ہو۔’

دیسائی نے کہا کہ ریاست میں انگریزی میڈیم کے 25 ہزار اسکول ہیں اور ان کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ان اسکولوں میں مراٹھی نہیں پڑھائی جاتی یا اسے آپشنل  سبجیکٹ کے طور پر  کھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ایسے سبھی اسکولوں میں مراٹھی زبان  کی پڑھائی لازمی ہوگی۔’

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)