مدھیہ پردیش : پولیس حراست میں نوجوان کی موت، تھانہ انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکار معطل

07:25 PM Jun 20, 2019 | دی وائر اسٹاف

معاملہ بھوپال کے بیراگڑھ کا ہے۔ دو نوجوانوں کو ان کی گاڑی ٹکرانے کے بعد پولیس حراست میں لیا گیا، جہاں ایک نوجوان کی موت ہو گئی۔ اہل خانہ  کا الزام ہے کہ پولیس اہلکاروں کی پٹائی کی وجہ سے موت ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ نے معاملے کی عدالتی جانچ‌کے حکم دئے ہیں۔

نئی دہلی: مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں 25 سالہ شیوم مشرا کے بدھ کو پولیس حراست میں موت ہو گئی۔ اہل خانہ  کا الزام ہے کہ نوجوان کی موت پولیس اہلکاروں کی پٹائی  کی وجہ سے ہوئی۔اس معاملے میں بیراگڑھ تھانہ انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ شیوم اور اس کے دوست گووند شرما کی کار منگل-بدھ کی درمیانی شب  کوتقریباً ایک بجے بیراگڑھ علاقے میں بی آر ٹی کاریڈور سے ٹکرا گئی تھی۔بھوپال رینج کے پولیس انسپکٹر یوگیش دیش مکھ نے خبر رساں ایجنسی ‘ بھاشا ‘ کو بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور شیوم اور گووند کو میڈیکل جانچ کے لئے ہاسپٹل لے گئی۔ جانچ میں پایا گیا کہ شیوم شراب کے نشے میں تھا۔

دیش مکھ نے کہ اس کے بعد پولیس اہلکار دونوں کو بیراگڑھ پولیس تھانہ لے آئے، جہاں شیوم کی طبیعت بگڑنے لگی۔ دیش مکھ نے بتایا کہ شیوم کی حالت دیکھ‌کر پولیس اہلکار اس کو ہاسپٹل لے گئے، جہاں ڈاکٹروں نے اس کی  موت کا اعلان کر دیا۔انہوں نے کہا، ‘اہل خانہ  کا الزام ہے کہ شیوم کی موت پولیس اہلکاروں کی پٹائی سے ہوئی ہے۔ حالانکہ، ان الزامات کی اب تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ لیکن، متعلقہ پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے کیونکہ شیوم کی موت پولیس حراست میں ہوئی ہے۔ ‘دیش مکھ نے بتایا، ‘ اس معاملے میں کام میں لاپروائی برتنے کے لئے بیراگڑھ تھانہ انچارج اجئے مشرا، ایک پولیس سب انسپکٹر، ایک حولدار اور دو کانسٹبل کو معطل کر دیا گیا ہے۔ معاملے کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔ ‘

اس بیچ، شیوم کے دوست گووند شرما نے نامہ نگاروں کو بتایا، ‘ پولیس اہلکاروں نے مجھے اور شیوم کو پیٹا۔ ہماری کار بی آر ٹی ریلنگ پر چڑھ گئی تھی۔ اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا تھا، صرف کار کو نقصان پہنچا تھا۔ ‘ہاسپٹل میں بھرتی شرما نے کہا، ‘ ہم نے پولیس کو بتایا تھا کہ ہمیں طبی مدد کی ضرورت ہے لیکن ہماری مدد کرنے کے بجائے پولیس اہلکار ہمیں بری طرح پیٹنے لگے۔ ‘شیوم کے ماموں سنجئے بھارگو نے بتایا کہ شیوم اپنے دوست کے ساتھ بیراگڑھ کے ایک ہوٹل میں کھانا کھانے جا رہا تھا، تبھی اس کی کار بی آر ٹی ریلنگ سے ٹکرا گئی۔ پولیس اس کو اور اس کے دوست کو بیراگڑھ تھانہ لے گئی جہاں پولیس والوں نے ان کو بری طرح پیٹا۔

بھارگو نے الزام لگایا کہ شیوم نے تقریباً 15 تولے کے سونے کی زنجیر پہن رکھی تھی، جو غائب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے فیملی والوں کو شیوم کی موت کی اطلاع نہیں دی اور لاش کو حمیدیہ ہاسپٹل بھیج دیا۔ بھارگو نے بتایا کہ شیوم کے والد مدھیہ پردیش پولیس کی سائبر سیل میں ہیڈ کلرک ہیں۔دینک بھاسکر کی خبر کے مطابق، تھانہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں نوجوان گرتے ہوئے دکھ رہا ہے اور پولیس اہلکار اس کو گھسیٹ‌کر گاڑی میں ڈالتے نظر آ رہے ہیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ بالا بچن نے معاملے کی عدالتی جانچ‌کے حکم دے دئے ہیں۔رشتہ داروں کا الزام ہے کہ دونوں کو کوئی چوٹ نہیں لگی تھی۔ لیکن وہاں پاس ہی کھڑی ڈائل 100 گاڑی دونوں کو پولیس تھانے لے گئی اور حراست میں دونوں کو بری طرح سے پیٹا۔ اس بیچ حالت بگڑنے پر پولیس شیوم کو ہسپتال لے گئی، جہاں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ اعلان کر دیا۔

رشتہ داروں نے بتایا کہ جب شیوم کے تھانے میں پٹائی ہو رہی تھی، تب مردہ شیوم کے چچا جو اندور میں سب-انسپکٹر ہیں، نے بیراگڑھ ٹی آئی اجئے مشرا کو فون کرکے اس کی جانکاری دی تھی اور اپنے بھتیجے کو چھوڑنے کی التجا کی تھی۔ لیکن اس کے باوجود شیوم کو بےرحمی سے پیٹا گیا کہ اس کی موت ہو گئی۔رشتہ داروں نے پٹائی کرنے والے پولیس والوں کے ساتھ ہی بیراگڑھ ٹی آئی کو برخاست کرنے کی مانگ کی۔واقعہ کی جانکاری ملتے ہی پولیس کے اعلٰی افسر اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی ایم ایل اے رامیشور شرما بھی ہاسپٹل پہنچے۔ پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے بھیج دیا۔

ہنگامہ کے خدشہ کے مدنظر ہاسپٹل کے احاطہ میں بھاری تعداد میں پولیس دستہ کی تعیناتی کی گئی ہے۔ سابق وزیراعلی شیوراج سنگھ نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی حکومت کے احساسات مر چکے ہیں۔ پولیس انتظامیہ بےلگام ہو گیا ہے۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشاکے ان پٹ کے ساتھ)