گزشتہ جمعرات کو جموں میں سرکاری زمین پر بنے ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے مقامی صحافی ارفازاحمد ڈینگ کے گھر کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ ڈینگ نے ایک پولیس افسر کے منشیات کے اسمگلروں سے روابط کے بارے میں رپورٹ کی تھی۔ اب جموں کے ہی ایک سماجی کارکن نے صحافی کو اپنی زمین عطیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈینگ نے ایسے وقت میں سچ بولا، جب بہت کم لوگوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی۔
ارفاز احمد ڈینگ، ان کامسمار شدہ گھر، اور کلدیپ شرما۔ (تصویر: ویڈیو اسکرین شاٹ، دی وائر اور ارینجمنٹ)
سری نگر: ہندو مسلم ہم آہنگی کی ایک انوکھی مثال قائم کرتے ہوئےجموں کے ایک سماجی کارکن نے اپنی زمین ایک مقامی صحافی کو عطیہ کی ہے ،جن کے گھر کو
حکام نے اسی ہفتے مسمار کر دیا تھا ۔
صحافی ارفازاحمد ڈینگ کو زمین کے کاغذات سونپتے ہوئے جیول علاقے کے رہنے والے کلدیپ شرما کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس دوران انہوں نے جموں میں ہندو مسلم اتحاد کو برقرار رکھنے کا بھی عہد کیا۔
معلوم ہو کہ جموں بھارتیہ جنتا پارٹی کا گڑھ ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا مرکز بھی ہے۔
شرما نے ڈینگ سے کہا، ‘میں آپ کے لیے گھر ضرور بناؤں گا، چاہے مجھے پیسوں کے لیے بھیک کیوں نہ مانگنی پڑے۔ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے کی سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔ ہمارا بھائی چارہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ آپ ایک اچھے انسان ہیں۔ آپ کے بچے ترقی کریں۔’
قابل ذکر ہے کہ ڈینگ کے گھر کو حال ہی میں اس وقت مسمار کر دیا گیا، جب کچھ دن پہلے ہی انہوں نے ایک پولیس افسر – ایک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جو سب ڈویژنل پولیس آفیسر، جموں (ایسٹ) کے طور پر تعینات تھے اور جن کا 26 اکتوبر کو تبادلہ کیا گیا تھا – کو منشیات کی اسمگلنگ کے ایک بڑے ریکٹ میں گرفتار مشتبہ اسمگلروں سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔
تاہم، جموں و کشمیر انتظامیہ نے صحافی کو چنندہ طور پر نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے اور دلیل دی ہے کہ یہ گھر سرکاری زمین پر بنایا گیا تھا۔
جموں و کشمیر پولیس کے ایک سینئر افسر نے منشیات کی برآمدگی پر ڈینگ کی رپورٹنگ میں سچائی ہونے سے بھی انکار کیا ہے۔
‘حکومت کو شرم آنی چاہیے‘
جموں کے چنی علاقے میں ڈینگ کا گھر، جواب کھنڈر میں تبدیل ہو چکا ہے، اس کے پاس بنے ایک عارضی ترپال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شرما نے مزید کہا، ‘دیکھیے، ان کے بچے کھلے میں بیٹھے ہیں۔ حکومت کو شرم آنی چاہیے۔ اس ملک کے شہری ہونے کے باوجود لوگوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔’
سماجی کارکن کی بیٹی تانیہ شرما نے صحافیوں کو بتایا کہ انہیں اپنے والد کے فیصلے پر فخر ہے۔
تانیہ کے مطابق، ‘میں بہت اداس ہوں، کوئی راتوں رات بے گھر کیسے ہو سکتا ہے؟ وہ (ڈینگ) میرے لیے بھائی جیسے ہیں۔ صرف میں ہی نہیں، میرا خاندان اور پوری کمیونٹی ان کے ساتھ کھڑےہیں۔’
کلدیپ شرما اور تانیہ (دائیں) (تصویر: ارینجمنٹ)
انہوں نے دی وائر کو بتایا کہ ‘ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کرنے’ کے ‘سیاسی پروپیگنڈے’ کے باوجود جموں و کشمیر کے لوگوں کو متحد رہنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا،’مجھے اپنے والد پر فخر ہے۔ انہوں نے ایک عظیم مثال قائم کی کہ ہمیں ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنا چاہیے۔’
‘جے ڈی اے نےگھر گرانے سے پہلے قانونی ضابطےکی پیروی نہیں کی‘
اس موقع پر موجود ڈینگ کے والد غلام قادر نے شرما کو گلے لگاتے ہوئے کہا کہ 27 نومبر کو ان کا گھر گرائے جانے کے بعد ہزاروں لوگوں نے ان کے خاندان کا ساتھ دیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا،’میں فکرمندنہیں ہوں، عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہے، انہوں نے میرے بیٹے کا ساتھ دیا، یہ میرے لیے انمول ہے، میں اور کیا مانگ سکتا ہوں؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اب بھی قائم ہے۔میں سچ مچ بہت خوش ہوں۔’
قادر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا،’اب وہ وقت نہیں رہا جہاں سچ بولا جا سکے۔ بہت کم لوگ سچ کا ساتھ دیتے ہیں۔ بے ایمان اور بدعنوان، غیر قانونی تجارت کرنے والوں، درجنوں ایکڑ اراضی پر قبضہ کرنے والوں سے کوئی سوال نہیں کرتا۔’
انہوں نے کہا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) نے ایک ‘چنندہ کارروائی’ میں ان کے ایک منزلہ مکان کو نشانہ بنایا۔ قادر کا کہنا ہے کہ یہ گھر تقریباً 40 سال قبل چند مرلہ اراضی پر بنایا گیا تھا اور ان کے پاس کوئی دوسری جائیداد نہیں ہے۔
تاہم، جے ڈی اے نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ انتظامیہ نے اس پراپرٹی کو چنندہ طور پر نشانہ بنایا ہے۔
ڈینگ کا خاندانی گھر، جو اب ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ (تصویر: دی وائر)
قبل ازیں قادر نے صحافیوں کے سامنے پھوٹ پھوٹ کرروتے ہوئے کہا کہ اگر میرا بیٹا کرپٹ ہوتا تو وہ ہمارے لیے گھر بنالیتا۔ لیکن میں نے ہمیشہ اسے مشورہ دیا کہ اگر اسے وسیع تر عوامی بھلائی کے لیے اپنی جان کی قربانی دینی پڑے تو وہ دریغ نہ کریں، میں ہمیشہ یہی مانوں گا کہ میرے بیٹے نے ملکی آئین کی حفاظت کے لیے اپنی جان دےدی ۔’
جموں میں مقیم صحافی رشمی شرما، جنہوں نے سب سے پہلے صحافی کو زمین دینے والے کارکن کے بارے میں خبر دی، نے بتایا کہ سماجی کارکن نیوز سحر انڈیا کے ناظر اور فالوور تھے۔
معلوم ہو کہ نیوز سحر انڈیا ایک نیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے جو ڈینگ کے ذریعے چلایا جاتا ہے، جس کے سوشل میڈیا پر تقریباً پانچ لاکھ فالوورز اور سبسکرائبر ہیں۔
انہوں نے کہا،’شرما نیوز سحر انڈیا کو فالو کرتے تھے اور دیکھتے تھے۔ وہ ایک نیک انسان ہیں جنہوں نے اپنے پڑوس میں بہت سے ضرورت مندوں کی مدد کی ہے۔ وہ اس قسم کے شخص ہیں جو بھوکوں کو کھانا کھلانے کے لیے بھوکے سونے کو تیار ہیں۔ گھر توڑے جانےسے وہ بہت پریشان تھے، اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا۔’
انہوں نے بتایا کہ سماجی کارکن کی بیٹی پچھلے کچھ سالوں سے اپنے محلے کے غریب بچوں کو مفت ٹیوشن دے رہی ہے۔
اس سلسلے میں دی وائر سے بات کرتے ہوئے کلدیپ شرما نے کہا کہ ڈینگ جمعرات کی صبح سے ہی پریشان ہے جب انتظامی حکام کی ایک ٹیم، درجنوں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے ساتھ، ان کی خاندانی رہائش گاہ پر پہنچی۔
خاندان کا الزام ہے کہ جے ڈی اے کے عہدیداروں نے مکان کو گرانے سے پہلے قانونی ضابطے کی پیروی نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا،’ڈینگ نے ایسے وقت میں سچ بولا جب کم لوگوں نے ایسا کرنے کی ہمت کی۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے اہم عوامی مسائل کو اٹھایا، بدقسمتی سے، سچائی کی کوئی جگہ نہیں ہے، میں ان کے بچوں اور بزرگ والدین کا رونابرداشت نہیں کر سکا، اگر میں خاندان کے گھر کی تعمیر نو کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈال سکوں تو میرا بھگوان میرے جانے کے بعد بھی میرے سر پر چھت رکھے گا۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے
یہاں کلک کریں ۔