کرناٹک: وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ نے کہا – کوئی مورل پولیسنگ یا بھگوا کرن نہیں ہونا چاہیے

بی جے پی کی سابقہ ​​حکومت کے دوران کرناٹک میں مورل پولیسنگ ایک بڑا معاملہ بن گیا تھا۔ نئی کانگریس حکومت میں وزیر اعلیٰ سدارمیا نے پولیس کے ساتھ پہلی میٹنگ میں کہا ہے کہ ہم اسے ختم کر دیں گے۔ عوام نے تبدیلی کی امید میں نئی ​​حکومت کو منتخب کیا ہے۔ حکام کو ان کی شکایتوں کا جواب دینا چاہیے۔

بی جے پی کی سابقہ حکومت کے دوران کرناٹک میں مورل پولیسنگ ایک بڑا معاملہ بن گیا تھا۔ نئی کانگریس حکومت میں وزیر اعلیٰ سدارمیا نے پولیس کے ساتھ پہلی میٹنگ میں کہا ہے کہ ہم اسے ختم کر  دیں گے۔ عوام نے تبدیلی کی امید میں نئی حکومت کو منتخب کیا ہے۔ حکام کو ان کی شکایتوں  کا جواب دینا چاہیے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ)

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا (فوٹو بہ شکریہ: فیس بک/ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ)

نئی دہلی: کرناٹک میں  کانگریس کی قیادت والی نئی حکومت کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے منگل (23 مئی) کو ودھان سودھ میں سینئر پولیس افسران کے ساتھ اپنی پہلی میٹنگ میں کہا کہ کوئی مورل پولیسنگ نہیں ہونی چاہیے۔

نیوز ویب سائٹ ساؤتھ فرسٹ کے مطابق، سدارمیا نے کہا کہ ہم اسے ختم کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام دوست پولیس ہواور امن و امان کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سدارمیا نے پولیس سے کہا کہ وہ ایسے سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف تیزی سے اور سختی سے کارروائی کرے، جو سماجی ہم آہنگی کو بگاڑ سکتی ہیں یا بعض گروپوں کو مشتعل کر سکتی  ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا، لوگوں نے تبدیلی کی امید میں نئی حکومت کو منتخب کیا ہے۔ حکام کو ان کی شکایتوں کا جواب دینا چاہیے۔

کرناٹک میں بی جے پی کی سابقہ حکومت کے دور میں مورل پولیسنگ ایک بڑا معاملہ بن گیا تھا۔ بی جے پی حکومت میں وزیر اعلیٰ رہے بسوراج بومئی نے منگلور میں کچھ لوگوں (وجیلینٹس) کے ذریعے مورل  پولیسنگ کی مثال کا دفاع کیا تھا۔

انہوں نے کہا تھا، ‘یہ ایک حساس مسئلہ ہے۔ معاشرے میں ہم سب کی ذمہ داریاں ہیں۔ معاشرے میں کئی طرح کے جذبات ہوتے ہیں اور لوگوں کو اس طرح سے کام کرنے کی ضرورت ہے کہ جذبات مجروح نہ ہوں۔ جب جذبات مجروح ہوتے ہیں تو عام طور پر عمل اور ردعمل ہوتا ہے۔

ساؤتھ فرسٹ کے مطابق ،ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار، وزیر کے جے جارج، کے ایچ منیپا، بی زیڈ ضمیر احمد خان، ایم بی پاٹل اور ستیش جارکی ہولی کے علاوہ چیف منسٹر کے ایڈیشنل چیف سکریٹری رجنیش گوئل نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔

دی ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، نائب وزیر اعلیٰ شیوکمار نے بھی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خیالات کی تائید کی۔ شیوکمار نے کہا کہ کانگریس حکومت ریاست میں پولیس فورس کا ‘بھگواکرن’ نہیں ہونے دے گی۔

بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں2021 میں منگلورو،بیجاپور اور باگل کوٹ میں چند مواقع پر پولیس اہلکاروں کےبھگوا  شال یا کپڑے پہننے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئےانہوں نے کہا، آپ کے افسران نے ‘منگلور، بیجاپور اور باگل کوٹ میں بھگوا  شال پہن کر پولیس محکمہ  کوشرمسارکیا ہے۔

سال2021 میں وجئے دشمی کی تقریبات کے دوران پولیس اہلکار مبینہ طور پر بھگوا لباس پہن کر ڈیوٹی کے لیے آئے تھے۔

انہوں نے کہا، ‘ہم اپنی حکومت میں پولیس کو بھگوا نہیں ہونے دیں گے۔’

رشوت ستانی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ پولیس افسران رشوت نہ لیں اور نہ دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم  (جو حکومت میں ہیں) آپ سے ایک پیسہ بھی نہیں چاہتے اور آپ کسی کو کچھ نہ دیں۔ اگر آپ اپنا کام صحیح طریقے سے کرتے ہیں تو کافی ہے۔

شیوکمار نے پولیس پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ سابقہ بی جے پی حکومت کے دوران ان کے، سدارمیا اور دیگر کانگریس لیڈروں کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر رہی تھی۔

انہوں نے کہا، ‘ہم رنجش نہیں رکھتے، ہم اس پر یقین نہیں رکھتے۔ آپ  بدلو، ماضی کو پیچھے چھوڑ دو،ایک  ایک نئی شروعات کرتے ہیں۔

اس رپورٹ کو انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔