رام مندر چڑھاوا چوری: سابق کاؤنٹنگ انچارج نے جیل میں دیے بیان میں ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام اجاگر کیے

Tap to expand

رام مندر چڑھاوا چوری معاملے میں سابق کاؤنٹنگ انچارج سبھاش شریواستو کے پنشن اکاؤنٹ کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ جیل میں دیے گئے اپنے بیان میں انہوں نے ٹرسٹ اور بینک کے 14 ملازمین کے نام بتائے ہیں، جو نقدی کی گنتی اور چھانٹنے کے عمل سے وابستہ تھے۔

رام مندر ٹرسٹ کے سابق اکاؤنٹنٹ سبھاش شریواستو (بائیں) (تصویر: ارینجمنٹ)

نئی دہلی:ایودھیا جیل سے جاری کیے گئے بیان میں، رام مندر ٹرسٹ کے سابق کاؤنٹنگ انچارج سبھاش شریواستو نے مندر ٹرسٹ کے 14 ملازمین کے ساتھ ، ٹرسٹ کے بینکر-اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی)، کا نام لیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ان کا رول صرف کاؤنٹنگ روم کے نگراں کا تھا۔

بینک سے ریٹائرڈ سبھاش شریواستو ایودھیا رام مندر میں چندے اور فنڈ میں مبینہ خردبرد کے معاملے میں گرفتار کیے گئے آٹھ لوگوں میں شامل ہیں۔ شریواستو کو مندر میں ملے چڑھاوے کی گنتی کی نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس معاملے میں دو ایس آئی ٹی تشکیل دیے جانے سے پہلے کافی ہنگامہ ہوا، لوگوں میں غصہ دیکھنے کو ملا اور عدالت کو بھی ہدایات جاری کرنا پڑیں۔

ملزم سبھاش شریواستو نے اپنے بیان میں وکیل کو کاؤنٹنگ روم میں تعینات لوگوں سے متعلق سکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزیوں کے بارے میں بتایا ہے۔ ٹرسٹ اور بینک کی نمائندگی کرنے والے بعض ملازمین کے ناموں کے علاوہ، شریواستو کے بیان سے یہ بھی پتہ چلتاہے کہ ایس آئی ایس لمیٹڈ کے کچھ سکیورٹی گارڈون نے بھی کاؤنٹنگ روم کے داخلی اور خارجی راستوں پر سکیورٹی چیک کو نظرانداز کیا۔

شریواستو نے دعویٰ کیا ہے کہ میز پر رکھے ڈیوٹی روسٹر میں ٹرسٹ اور بینک- دونوں کے نمائندوں کے نام شامل ہیں، لیکن وہ کبھی بھی نقدی چھانٹنے کی ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

حال ہی میں سامنے آیا یہ باغیانہ تیور والا بیان ایک ایسے شخص کا ہے ،جو راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کاسرگرم اور بھروسےمند رکن رہا ہے۔ فیلڈ رپورٹنگ کے دوران دی وائرنے پایا کہ سبھاش شریواستو آر ایس ایس کی (اجلاسوں) کے ایک پرجوش منتظم تھے اور ان کے گھر پر کچھ مقامی بی جے پی رہنما اکثر آیا کرتے تھے۔

دی وائر نے سبھاش شریواستو کے دیے گئے بیان کی ایک کاپی دیکھی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایودھیا کی اینٹی کرپشن کورٹ میں شریواستو کے پنشن اکاؤنٹ کو ضبط کرنے سے متعلق قانونی کارروائی جاری ہے اور ان کے کینرا بینک اکاؤنٹ سے ہونے والی متعدد لین دین کی جانچ کی جا رہی ہے۔

یہ پیش رفت رام مندر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کے نو صفحات پر مشتمل اس خط کے میڈیا میں سامنے آنے کے چند دن بعد ہوئی ہے، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سابق مشیر اور ٹرسٹی نریپیندر مشرا پر الزام لگایا گیا تھا کہ مندر کی تعمیر کے لیے کچھ کمپنیوں کو شامل کرنے میں مشرا نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

شریواستو کے بیان سے اتر پردیش پولیس کی جانب سے گزشتہ تین ماہ سے اس معاملے میں کی جانے والی تحقیقات پر بھی سوال اٹھتے ہیں، کیونکہ اب تک درج ایف آئی آر میں ان 14 ناموں میں سے کسی کا بھی ذکر نہیں ہے۔

رام مندر چڑھاوا چوری معاملے میں گرفتار ملزم سبھاش شریواستو کی جانب سے منعقد کی گئی آر ایس ایس کی بیٹھک۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

ہم نے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر دیے گئے رابطہ نمبر اور ای میل کے ذریعے ٹرسٹ کے ارکان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ ٹرسٹ کی جانب سے جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

دی وائر نےآر ایس ایس ممبر اور سابق ٹرسٹی انل مشرا سے بھی رابطہ کیا۔ مشرا نے جنوری 2022 میں سبھاش شریواستو کو ٹرسٹ میں کاؤنٹنگ انچارج کے طور پر شامل کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے ہماری کال کاٹ دی کہ،’میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے۔‘

رپورٹر کی جانب سے ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے کو کی گئی کال وائس میل پر چلی گئی۔ رپورٹر نے جواب پانے کے لیے ایک پیغام چھوڑا ہے۔ رپورٹ کی اشاعت تک رائے کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا  ہے۔

ایودھیا کے انجنی پورم میں سبھاش شریواستو کے پڑوسی جانتے ہیں کہ وہ رام مندر چڑھاوا چوری کے معاملے میں ملزمین میں سے ایک ہیں، حالانکہ پولیس نے شریواستو کو 20 جون کو ان کے گھر سے گرفتار نہیں کیا تھا۔ 30 سال پہلے بسی اس کالونی میں- جہاں زیادہ تر متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لوگ رہتے ہیں- اس معاملے میں ان کی مبینہ شمولیت کی خبر تیزی سے پھیل گئی۔

سترسالہ شریواستو کو مندر کے احاطے سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت عدالتی حراست میں ہیں۔

’اس گھر میں ایک مندر بھی ہے،‘ پڑوس میں رہنے والی ایک خاتون نے کہا۔ وہ شریواستو کے گھر کو کسی لینڈ مارک کے ذریعے پیچان گئیں۔

دواور تین جولائی کے درمیان اپنے وکیل کل شیکھر سنگھ کو جیل میں دیے گئے بیان میں شریواستو نے براہ راست بتایا کہ انہیں کس نے کام پر رکھا تھا اور ٹرسٹ میں ان کے کردار کی کیا شرائط تھیں۔

’انل مشرا کی درخواست پر ہی میں مندر ٹرسٹ کو اعزازی بنیادوں پر خدمات فراہم کر رہا تھا،‘ شریواستو نے اپنے بیان میں کہا۔

یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ شریواستو نے سابق رام مندر ٹرسٹی انل مشرا کا نام لیا ہے، جو آر ایس ایس کے ممبر ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے ناگپور واقع آر ایس ایس، جو اب اپنی صد سالہ مدت سے آگے بڑھ چکی ہے، کو ’دنیا کی سب سے بڑی این جی او (غیر سرکاری تنظیم)‘ قرار دیا ہے۔

آر ایس ایس، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مربی تنظیم ہے۔ اس کے ’این جی او‘ ہونے کی حیثیت پر بارہا سوال اٹھائے گئے ہیں اور اس کے کام کاج کے لیے ملنے والی فنڈنگ (رقم) کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔

دی نیوز منٹ‘ کی ایک حالیہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ سرکاری کمپنی آئل اینڈ نیچرل گیس کارپوریشن (او این جی سی) نے 2013 سے آر ایس ایس سے وابستہ 20 اداروں کو 668.01 کروڑ روپے عطیہ کیے ہیں۔ یہ رقم اس کے لازمی کارپوریٹ سوشل ریسپانسبلٹی (سی ایس آر) فنڈ کا تقریباً 15 فیصد ہے۔

ایودھیا سے دی وائر کی دو حصوں پر مشتمل رپورٹ میں ان کارسیوکوں کے انٹرویو شامل تھے، جنہوں نے رام مندر فنڈ میں ہیرا پھیری کا معاملہ اجاگرکیا تھا۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیسے فروری 2020 میں بننے کے بعد سے ہی یہ ٹرسٹ وی ایچ پی-آر ایس ایس کی قیادت والے ایک دھڑے میں تبدیل ہو گیا، جس نے بتدریج ایودھیا کے سادھو سنتوں کے درمیان گروہ بندی کو فروغ دیا اور رام جنم بھومی تحریک کے زمینی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا۔

جب پولیس نے اس معاملے میں لوگوں کو گرفتار کرنا شروع کیا تو آر ایس ایس کے رکن انل مشرا اور ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے نے 27 جون 2026 کو استعفیٰ دے دیا۔

اس سلسلے کی دوسری قسط میں دی وائر نے ایودھیا کی سول سوسائٹی سے وابستہ لوگوں سے بات کی، جن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ضلع سکریٹری سوریہ کانت پانڈے بھی شامل تھے۔ انہوں نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک خط لکھا تھا۔

اس میں انہوں نے لکھا،’جب آر ایس ایس کے وہ لوگ، جو پہلے ٹرسٹ کے رکن تھے، اسے لوٹ سے نہیں بچا سکے، تو مجھے سنگھ کے ارکان کو فوراً شامل کرنا ٹھیک نہیں لگتا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ ٹرسٹ میں کسی مخصوص نظریے کے حامل لوگوں کو شامل کرنا نقصاندہ ثابت ہوگا۔‘

یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ شریواستو، جو آر ایس ایس کے ’نگر کاریہ واہ‘ (شہر کے انچارج) تھے اور باقاعدگی سے آر ایس ایس کی بیٹھک کرتے تھے، جیل سے دیے گئے اپنے بیانوں کے ذریعے رام مندر ٹرسٹ کوہی  کٹہرے میں کھڑا کر رہے تھے۔

دی وائر نے شریواستو کے پڑوسیوں، جن میں ان کی بیٹھک میں شرکت کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں، سے حاصل معلومات، ان کے وکیل کے ساتھ ہوئی بات چیت اور انٹرویو کی بنیاد پر شریواستو کی زندگی کی تفصیلات مرتب کی ہیں۔ ہم نے ایودھیا کی اینٹی کرپشن کورٹ میں جمع کرائے گئے ان دستاویزوں کا بھی جائزہ لیا ہے، جہاں شریواستو کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے سے متعلق کارروائی چل رہی ہے۔

آر ایس ایس اور بی جے پی سے رام مندر ٹرسٹ کے گنتی انچارج کے تعلقات

جولائی 2026 میں جب اس رپورٹر نے شریواستو کے انجنی پورم واقع گھر کا دورہ کیا تو وہ بند تھا۔ ان کے پڑوسیوں نے ان کے سنگھ پریوار سے تعلق کے بارے میں بتایا، تاہم کئی مرتبہ کوشش کرنے کے باوجود ان کے کرایہ داروں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ان میں سے ایک سنجے پانڈے تھے، جنہوں نے بتایا کہ وہ شریواستو کے گھر منعقد ہونے والی بیٹھکوں میں روزانہ شرکت کے لیے آتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’پہلے وہ قریبی رام لیلا میدان میں اور پھر اپنے گھر پر باقاعدگی سے بیٹھک کرتے تھے۔ ہمیں شرکاء کو وزیر اعظم جی کے مندر دورے سے پہلے گھروں میں اکشت (مقدس چاول) تقسیم کرنے کا کام دیا جاتا تھا۔ ‘

ایودھیا کے انجنی پور علاقے میں سبھاش شریواستو کے پڑوسی سنجے پانڈے۔ (تصویر: آکانکشا کمار)

پانڈے نے دعویٰ کیا کہ سبھاش سنڈیکیٹ بینک میں کام کرتے تھے، لیکن انہیں چند سال کے لیے سسپنڈ کر دیا گیا تھا اور 2010 یا 2012 کے آس پاس انہیں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ وہ 2016 میں ریٹائر ہوئے اور 2019 میں رام جنم بھومی-بابری مسجد اراضی تنازعے کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرسٹ کے لیے کل وقتی کام کرنے لگے۔

ایک اور پڑوسی نے بتایا کہ شری واستو کی بیٹھکوں میں قوم پرستی پر اکثر بحث ہوتی تھی۔ ایک دوسرے پڑوسی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا،’جب وہ مندر کے کاموں میں زیادہ مصروف ہو گئے تو بیٹھکیں بند ہو گئیں۔ ان بیٹھکوں میں کبیر نگر کے مقامی میونسپل کونسلر چندن سنگھ سمیت تقریباً 10 سے 15 لوگ شامل ہوتے تھے۔ ‘

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی کے ایودھیا ضلع صدر کملیش شری واستو صبح کی میٹنگوں میں باقاعدگی سے آتے تھے۔ یہ میٹنگیں آر ایس ایس کے نظریات کو غیر رسمی انداز میں پھیلانے کا ایک اور طریقہ ہیں۔

جب رپورٹر نے چندن سنگھ اور کملیش شری واستو سے ملزم سبھاش شری واستو کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ہمیں کوئی جواب نہیں ملا۔ ایک پڑوسی نے کہا، ’مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بڑی مچھلی پکڑی گئی ہے، حالانکہ انہیں کچھ وقت کے لیے ایسا ضرور لگا ہوگا کہ وہ پھنس گئے ہیں۔‘

جیل سے ملزم کا بیان

سبھاش شری واستو کے ایک صفحے پر مشتمل بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی ذمہ داری چندہ پیٹیوں سے نقد رقم کو ایک دوسری سیل بند پیٹی میں منتقل کرنا اور اس کی نگرانی کرنا تھی۔ ان پیٹیوں کی چابیاں ٹرسٹ اور ایس بی آئی کے نمائندوں کے پاس ہوتی تھیں۔

کیش ڈونیشن، چڑھاوے، چیک اور ڈرافٹ کی بہتر نگرانی کے لیے فروری 2024 میں ٹرسٹ اور ایس بی آئی نے ایک ایم او یو پر دستخط کیے۔ اس سمجھوتے سے متعلق دستاویز ایس بی آئی کی نیا گھاٹ برانچ میں جمع کیے جائیں گے۔

شری واستو نے اپنے بیان میں مندر ٹرسٹ کے 5 لوگوں کے نام لیے ہیں، جو رقم گننے کے عمل کے دوران نقد رقم کی چھنٹنی میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بینک کے 9 ملازمین کے نام بھی بتائے ہیں جو ’نوٹوں کی گڈیوں کی چھنٹائی کر رہے تھے۔ ‘

’دوسری طرف بنے سرور روم سے گنتی والے کمرے میں لگے 6 کیمروں کی نگرانی کی جاتی ہے۔ (سی سی ٹی وی کیمروں کی اس نگرانی کے لیے) ٹرسٹ نے اپنی طرف سے ایک ملازم مقرر کر رکھا ہے۔‘ وہ لکھتے ہیں کہ  انہیں اس ایک اور شخص کا نام یاد نہیں آ رہا   ہے، جس کی ذمہ داری کیمروں پر نظر رکھنا تھی۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا، ’سرور روم ایک ’خفیہ کمرہ‘ (محدود رسائی والا کمرہ) تھا، جس کے انچارج ٹرسٹ ہی کے ایک ملازم تھے۔‘ انہوں نے ٹرسٹ کے اس ملازم کا نام بھی بتایا جو سرور روم کے کام کاج کی نگرانی کرتا تھا۔

جن 14 لوگوں کے نام انہوں نے لیے ہیں، خواہ وہ ٹرسٹ سے تعلق رکھتے ہوں یا ایس بی آئی سے، ان میں سے کسی کا نام بھی اس معاملے میں اب تک درج واحد ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے۔

کل شیکھر سنگھ کا کہنا ہے کہ انہیں اس معاملے سے متعلق کوئی بھی دستاویز نہیں ملا ہے—نہ  تو پولیس کیس ڈائری اور نہ ہی ریکوری میمو۔ سبھاش شری واستو کا بیان ابھی عدالت میں پیش کیا جانا باقی ہے۔

شری واستو کے بیان کے مطابق، رقم گننے اور چھنٹنی کرنے کے عمل میں کچھ اہم خامیاں تھیں؛

گنتی والے کمرے کے باہر حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی؛شری واستو اپنے بیان میں کہتے ہیں، ’اگرچہ ایس آئی ایس کی جانب سے ایک سکیورٹی گارڈ گنتی والے کمرے کے باہر رجسٹر اور قلم لے کر بیٹھتا تھا اور اندر جانے والے لوگوں کے نام اور ان کے دستخط نوٹ کرتا تھا، لیکن جب کوئی شخص وہاں (گنتی والے کمرے سے) باہر نکلتا تھا تو اس طرح کی کوئی جانچ نہیں کی جاتی تھی۔ یہ مکمل ذمہ داری ٹرسٹ کی نمائندگی کرنے والے سکیورٹی افسر (نام کا ذکر) اور ایس آئی ایس کے سربراہ (دوسرے نام کا ذکر) کی تھی۔‘

سال 2024 میں، جب رام مندر میں پران پرتشٹھا کی تقریب ہو رہی تھی، اس وقت مندر کے احاطے میں سکیورٹی گارڈ فراہم کرنے کی ذمہ داری ایس آئی ایس لمیٹڈ کو سونپی گئی تھی۔ کمپنی کے سرکاری چینل پر حال ہی میں پوسٹ کیے گئے ایک یوٹیوب ویڈیو کے مطابق، سکیورٹی اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کے لیے مندر میں تقریباً 300 ملازمین تعینات کیے گئے تھے۔

سیل بند بکسوں کی چابیوں سے متعلق ایس او پی ؛چھنٹنی کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے شری واستو نے اپنے بیان میں کہا، ’چھنٹنی کے عمل میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔ کیش کاؤنٹنگ ہال میں نقد رقم کی گنتی اور جسمانی تصدیق کے بعد، 10، 10 گڈیوں میں چھنٹنی کی گئی نقد رقم سے متعلق ڈاکٹ پر میں دستخط کرتا تھا۔ ‘

شری واستو اپنے بیان میں کہتے ہیں،’چھنٹنی کے عمل سے پہلے، جس بکس میں نقد چڑھاوے کی رقم رکھی جاتی تھی، اس کی چابی چابیاں رکھنے والی دراز میں رکھی جاتی تھیں۔ ٹرسٹ کی جانب سے چھنٹنی کے عمل کی نگرانی کرنے والے انچارج یہ جانچ کرتے تھے کہ کیش باکس سیل ہے یا نہیں۔ بینک کے ملازمین بھی اسی طریقہ کار پر عمل کرتے تھے۔ چھنٹنی کے کام میں میرا کوئی کردار نہیں تھا۔‘

وکیل کل شیکھر سنگھ نے دی وائر کو بتایا،’انہیں (سبھاش شری واستو) کبھی بھی چھنٹنی والی میز پر ڈیوٹی پر تعینات نہیں کیا گیا۔ گنتی کے معاملے میں ان کی ذمہ داری یہ یقینی بنانا تھی کہ جمع کی گئی رقم بینک میں جمع ہو جائے۔‘

کل شیکھر سنگھ نے کہا،’گنتی کی ڈیوٹی کے دوران سبھاش کے ساتھ بینک کے ملازمین موجود رہتے تھے۔ اسی طرح، چھنٹنی کے دوران بھی ٹرسٹ کی جانب سے ایک ملازم بینک کے ایک ملازم کے ساتھ موجود رہتا تھا۔ لہٰذا، اب انہوں (سبھاش شری واستو) نے ان تمام لوگوں کے نام بتائے ہیں۔ ‘

شری واستو پر الزام

اپنے ہی دعووں کے برعکس، رام مندر چڑھاوا چوری گھوٹالے سے خود کو دور رکھنے کی کوشش میں، ایک ایسا ایشو جسے اپوزیشن نے پارلیامنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران زور و شور سے اٹھایا تھا – سبھاش شری واستو، اصل مجرم نہ بھی ہوں، تو بھی اس جرم میں ملوث ضرور لگتے ہیں۔

بی بی سی کی ایک جانچ میں شری واستو کی مبینہ ملی بھگت سامنے آئی۔ جانچ سے پتہ چلا کہ چوری کے موجودہ الزام سامنے آنے سے پہلے ہی کاؤنٹنگ روم کے ایک ملازم نے انہیں اس بارے میں خبردار کر دیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، بات کو تقریباًتسلیم کرتے ہوئے شری واستو نے اس ملازم سے کہا، ’یہ پیسہ بھگوان کا ہے اور وہی اس کی نگرانی کر رہے ہیں۔ اب ایسی صورتحال میں ہم اور آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ایسا تو نہیں ہے کہ یہ پیسہ آپ کے یا میرے گھر سے لے جایا جا رہا ہے۔‘

بتادیں کہ23جون 2026 کو ریاستی حکومت اور ٹرسٹ کے پاس موجود اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی ابتدائی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’کاؤنٹنگ روم کے انچارج مسٹر سبھاش شری واستو اور دوسرے نگران عملے  ضروری حفاظتی اقدامات -جیسے مناسب طریقے سے تلاشی لینا، مقررہ ڈریس کوڈ اور مؤثر نگرانی- نافذ کرنے میں ناکام رہے۔ اس کی وجہ سے مسلسل چوری ہوتی رہی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا۔ ‘

ایودھیا کے انجنی پورم میں سبھاش شری واستو کا گھر، جس کے احاطے میں ایک مندر بھی ہے؛ پڑوسیوں کے مطابق یہاں آر ایس ایس کی بیٹھکیں منعقد کی جاتی تھیں۔ (تصویر: آکانکشا کمار)

ایس آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں چابیوں کے غلط مینجمنٹ کے لیے سبھاش شری واستو کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’ان لوگوں کے کردار کے حوالے سے بھی سنگین خدشات ہیں جو کسی تحریری حکم کے بغیر ہنڈی (چندہ/عطیات کے صندوق) کی چابیوں یا ان تک رسائی کے انتظام کو کنٹرول کر رہے تھے، جیسے رام شنکر یادو عرف ٹنو۔ اجازت کے بغیر عطیات کے صندوقوں کی چابیاں اپنے پاس رکھنے سے غیر مجاز رسائی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ گنتی کے انچارج اور ہنڈی کھولنے کے عمل کی نگرانی کرنے والے افسر کی حیثیت سے، سبھاش شری واستو اس غیر رسمی انتظام کو جاری رہنے دینے کے ذمہ دار ہیں۔‘

ٹنو یادو چمپت رائے کے پرانے ڈرائیور ہیں، جنہیں بعد میں رقم گننے والے عملے میں شامل کیا گیا تھا اور وہ جیل میں بند آٹھ ملزمیں میں سے ایک ہیں۔

لکھنؤ سے دی وائر سے فون پر بات کرتے ہوئے سابق آئی پی ایس افسر اور سیاسی جماعت ’آزاد ادھیکار سینا‘ کے بانی امیتابھ ٹھاکر نے کہا، ’ایسے بیان کی واحد اہمیت یہ ہے کہ متعلقہ شخص کچھ سراغ دےرہا ہے۔ یہ سراغ درست ہیں یا نہیں، یہ معلوم کرناجانچ افسر کی ذمہ داری ہے۔‘

ٹھاکر نے مندر ٹرسٹ کے پہلے کل وقتی چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) کے عہدے کے لیے درخواست دی تھی اور وہ اس عہدے کے لیے جاری انتخابی عمل میں شفافیت کی ضرورت کے بارے میں کھل کر بات کرتے رہے ہیں۔

ٹھاکر نے کہا،’وہ (سبھاش شری واستو) جو کہنا چاہتے ہیں، وہ 100 فیصد کام کا ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی، ممکن ہے کہ اس کا کوئی مطلب ہی نہ ہو۔ یقیناً، انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ایک سراغ ملا ہے۔ تاہم، جب تک یہ بیان باضابطہ طور پر (عدالت کو) نہیں بتایا جاتا، تب تک اس کی کوئی قانونی اہمیت نہیں ہے۔‘

مالی لین دین کی تحقیقات

اتر پردیش پولیس سبھاش شری واستو کے کینرا بینک اکاؤنٹ میں 9 لاکھ روپے سے زیادہ کے لین دین کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم، ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ یہ رقم انہیں اس بینک کے خلاف مقدمہ جیتنے کے بعد معاوضے کے طور پر ملی تھی، جہاں وہ پہلے ملازم تھے۔

ایودھیا کی اینٹی کرپشن کورٹ، جہاں شری واستو کے پنشن اکاؤنٹ کو ضبط کرنے سے متعلق معاملات کی سماعت جاری ہے، نے اتر پردیش پولیس سے ان دعووں کی تصدیق کرنے کو کہا ہے۔

کل شیکھر سنگھ کے مطابق، ’سبھاش شریواستو سنڈیکیٹ بینک کے خلاف ایک مقدمہ لڑ رہے تھے اور انہیں 18 دسمبر 2025 کو معاوضے کے طور پر 9 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم ملی تھی، جس میں سے انہوں نے 5 لاکھ روپے آن لائن ٹرانزیکشن کے ذریعے اپنے بینک آف بڑودہ اکاؤنٹ میں منتقل کیے۔ جب تمام ٹرانزیکشن آن لائن ہو رہے ہیں اور اس میں کوئی تیسرا شخص شامل نہیں ہے، تو کسی کو ملزم کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟‘

اس دوران ریاستی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ وہ ایک اور ٹرانزیکشن کی بھی تحقیقات کر رہی ہے، جو مبینہ طور پر 30,000 روپے کی ہے۔ تاہم شریواستو کے وکیل نے 30 جولائی کو عدالت میں اس پر اعتراض کرتے ہوئے کہا،’جانچ افسر نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ پنشن اکاؤنٹ کا کون سا ٹرانزیکشن رام مندر کے چڑھاوے کی چوری کی رقم سے متعلق ہے۔‘

شریواستو کے تینوں بینک اکاؤنٹ-دو کینرا بینک میں اور ایک بینک آف بڑودہ میں-کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

اینٹی کرپشن کورٹ کے خصوصی جج رجت ورما کی بنچ کے سامنے18 اگست کو جمع کرائے گئے جواب میں جانچ افسر آشوتوش تیواری نے کہا کہ ’ملزم سبھاش شریواستو کے معاملے میں 16 اکتوبر 2025 کو ان کے کینرا بینک اکاؤنٹ نمبر (جانکاری چھپائی گئی) میں جمع کرائی گئی 30,000 روپے کی نقد رقم مشتبہ پائی گئی ہے۔‘

تیواری کے جواب میں مزید کہا گیا،’مذکورہ اکاؤنٹ سے ملزم کے کینرا بینک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ (نمبر چھپایا گیا) میں کئی مرتبہ رقم کا لین دین ہوا ہے۔ اس اکاؤنٹ میں اس سے پہلے بھی بڑی رقم جمع کی گئی ہے۔ ملزم کے دیگر بینک اکاؤنٹس میں جمع کی گئی رقوم کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔‘ تیواری کے اس جواب کی ایک کاپی دی وائرنے دیکھی ہے۔

دفاعی وکیل سنگھ نے دی وائرکو بتایا،’مذکورہ 30,000 روپے کی رقم ایک وکیل کو فیس ادا کرنے کے لیے کینرا بینک کے اوور ڈرافٹ(او ڈی)اکاؤنٹ سے نقد نکالی گئی تھی۔ سماعت کی تاریخ میں کچھ تاخیر ہونے کی وجہ سے یہ رقم اسی اکاؤنٹ میں دوبارہ نقد جمع کر دی گئی۔ ‘

اوور ڈرافٹ اکاؤنٹ بینک اکاؤنٹ ہولڈرز کو اپنے اکاؤنٹ میں موجود بیلنس سے زیادہ ایک مقررہ رقم نکالنے کی سہولت دیتا ہے، جسے بعد میں سود سمیت واپس کیا جا سکتا ہے۔

شریواستو کی جانب سے اسپیشل کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے جواب میں کل شیکھر سنگھ نے 31 جنوری 2025 سے 30 جون 2026 کے درمیان کینرا بینک میں موجود اپنے پنشن اکاؤنٹ سے کیے گئے 45 ٹرانزیکشنز کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔

پنشن اکاؤنٹ سے ایک لاکھ روپے سے زیادہ کے ٹرانزیکشن

سات مئی 2025:1,40,000 روپے اوور ڈرافٹ اکاؤنٹ سے پنشن اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔

اٹھارہ دسمبر 2025: 9,82,091 روپے الہ آباد ہائی کورٹ میں مقدمہ جیتنے کے بعد ایمپلائی پنشن فنڈ سے پنشن اکاؤنٹ میں جمع کیے گئے۔

بائیس دسمبر 2025: 1,17,278.92 روپے ارنڈ لیو ان کیش منٹ (بچی ہوئی چھٹیوں کے بدلے ملنے والی رقم) کے طور پر جمع کیے گئے۔

دو فروری 2026: 5,00,000 روپے بینک آف بڑودہ اکاؤنٹ سے جمع کیے گئے۔

آٹھ مارچ 2026: 1,00,000 روپے نیٹ بینکنگ کے ذریعے کِشِتِج شریواستو سے موصول ہوئے۔

چوبیس مارچ 2026: 1,53,000 روپے کھیتی باڑی کے لیے قرض کی رقم کے طور پر جمع کیے گئے۔

چھبیس مئی 2026: 1,54,000 روپے کھیتی باڑی کے لیے قرض کی رقم کے طور پر جمع کیے گئے۔

سورس:اینٹی کرپشن کورٹ میں دفاعی وکیل کی جانب سے دیا گیا جواب۔

کشتِج، سبھاش شریواستو کے بیٹے ہیں۔ انہوں نے اس وقت ایک لاکھ روپے واپس کر دیے تھے جب وہ کرکٹ میچ ملتوی ہو گیا، جس میں وہ حصہ لینا چاہتے تھے۔

دی وائر نے اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے افسر اور ایودھیا پولیس کے سرکل آفیسر تیواری سے رابطہ کیا، لیکن انہوں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہیں ان کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر سوالوں کی ایک فہرست بھیجی گئی ہے۔ اگر ان کی جانب سے کوئی جواب موصول ہوتا ہے تو اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔

دہلی میں ایس آئی ایس لمیٹڈ کے کارپوریٹ دفتر میں کی جانے والی فون کالز کا کوئی جواب نہیں ملا۔ دی وائر نے کمپنی کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ میڈیا ریلیشنز سے متعلق ای میل آئی ڈی پر بھی سوال کی ایک فہرست بھیجی ہے۔

رپورٹر نے ایودھیا میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی نیا گھاٹ برانچ کے تین لینڈ لائن نمبروں پر بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، لیکن کال کنیکٹ نہیں ہو سکیں۔

شری رام جنم بھومی تیرتھ  ٹرسٹ سے بھی اس کی سرکاری ویب سائٹ پر دیے گئے رابطہ نمبروں کے ذریعے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ سبھاش شریواستو کے بیان میں کیے گئے حالیہ دعوؤں پر ٹرسٹ کا موقف جاننے کے لیے اس کی ای میل آئی ڈی پر سوالوں کی ایک فہرست بھیجی گئی ہے۔

دریں اثنا، سبھاش شریواستو کے وکیل کل شیکھر سنگھ کے مطابق، 8 ستمبر کو ایودھیا کی اینٹی کرپشن کورٹ نے سبھاش کے حق میں حکم دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پنشن اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کے غیر قانونی لین دین کی تصدیق نہیں ہو  پائی ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Show comments

Related Stories:

More