ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے اجلاس میں ہندوستان کی شرکت، امریکی صدر نے دہرایا ہندوپاک تنازعہ روکنے کا دعویٰ

03:40 PM Feb 20, 2026 | دی وائر اسٹاف

ہندوستان نے جمعرات کو واشنگٹن میں غزہ پر ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہفتہ بھر  پہلے ہندوستانی وزارت خارجہ نے بورڈ میں شامل ہونے کی امریکہ کی پیشکش کو زیر غور قرار دیا تھا۔ نئی دہلی نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ صرف آبزرور رہے گا یا مستقبل میں بورڈ کی مکمل رکنیت بھی اختیار کرے گا۔

فوٹو بہ شکریہ: وہائٹ ہاؤس

نئی دہلی : ہندوستان نے جمعرات (19 فروری) کو غزہ پر ڈونالڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ ’بورڈ آف پیس‘کے پہلے اجلاس میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی۔

واضح ہو کہ اس ادارے کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا جا رہا  ہے، کیونکہ اسے اقوام متحدہ کی اہمیت کم کرنے کی سعی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں منعقد اس اجلاس میں تقریباً 50 ممالک اور یورپی یونین نے حصہ لیا، جن میں کئی ممالک صرف آبزورور کے طور پر شامل ہوئے۔ ہندوستان کی نمائندگی واشنگٹن ڈی سی واقع سفارت خانے کی افسر نمگیا کھمپا (چارج ڈی افیئرز) نے کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے اس دعوے کابھی اعادہ کیا کہ انہوں نے گزشتہ سال ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے تصادم کو بھاری ٹیرف اور تجارتی پابندیوں کی دھمکی دے کر رکوا یا تھا۔

تقریباً ایک ہفتہ قبل ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اس بورڈ میں شامل ہونے کی امریکی پیشکش کو ‘زیر غور‘ قرار دیا تھا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ اس دعوت پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ غور طلب ہے کہ 22 جنوری کو ڈیووس میں جب ٹرمپ نے باضابطہ طور پر اس بورڈ کا افتتاح کیا تھا، تو ہندوستان اس تقریب میں شامل نہیں ہوا تھا۔

فی الحال ہندوستان کی جانب سے اس اجلاس میں شامل ہونے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ نئی دہلی نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ وہ محض آبزرور رہے گا یا مستقبل میں مکمل رکنیت اختیار کرے گا۔

ٹرمپ کا ہندوپاک تنازعہ روکنے کا دعویٰ

بورڈ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئی جھڑپوں کے دوران 11’بے حد مہنگے جیٹ‘گرائے گئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کو خبردار کیا تھا کہ اگر تصادم جاری رہا، تو امریکہ 200 فیصد ٹیرف لگائے گا اور تجارتی معاہدے روک دے گا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ذاتی طور پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کو فون کیا اور ان سے کہا کہ جب تک کشیدگی ختم نہیں ہوتی، وہ تجارتی معاہدےکو آگے نہیں بڑھائیں گے۔

ٹرمپ نے کہا،’جب بات پیسے کی آتی ہے تو پیسے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی مداخلت کے فوراً بعد کشیدگی ختم ہو گئی۔

بورڈ آف پیس کے بانی رکن کی حیثیت سے موجود پاکستانی وزیر اعظم شریف نے ٹرمپ کی مداخلت کو سراہا اور انہیں ’امن کا سفیر‘ قرار دیتے ہوئے جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان روکنے کا سہرا دیا۔

قابل ذکر ہے کہ ہندوستان نے ہمیشہ تیسرے فریق کی ثالثی کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔ ہندوستان کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ بندی دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن (ڈی جی ایم او) کے درمیان براہ راست رابطے کے ذریعے دوطرفہ طور پر ہوئی تھی۔

مئی 2025 میں ڈرون اور میزائل حملوں سے ہوئی یہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی تھی جب ہندوستان نے اپریل میں پہلگام حملے (جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے) کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بناتے ہوئے آپریشن سیندور شروع کیا تھا۔

سابق خارجہ سکریٹری کنول سبل نے ٹرمپ کے بیانات کو ’انتہائی تشویشناک‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ’بورڈ آف پیس‘کے دائرے کو غیر ضروری طور پر بڑھا رہے ہیں۔ سبل نے خبردار کیا کہ ’امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات بلاشبہ اہم ہیں، لیکن ہمیں ٹرمپ کی سنک  سے ہمارے مفادات کو لاحق خطرات اور جوکھم کا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔‘

ٹرمپ کا اعلان

ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس ‘ کے اس اجلاس کو اپنی خارجہ پالیسی کے مرکزی ستون کے طور پر پیش کرنے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے اعلان کیا؛

–  نو (9) ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا عہد کیا ہے۔

– پانچ (5)ممالک نے فلسطینی علاقے میں ایک ’عالمی استحکام فورس‘ کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجنےکے عزم کا اظہار کیا ہے۔

بتایا گیا ہے انڈونیشیا، مراکش، قزاقستان، کوسووو اور البانیہ نے اپنی فوج تعینات کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، جبکہ مصر اور اردن نے فلسطینی پولیس اہلکاروں کی تربیت کی ذمہ داری لی ہے۔ اس تعیناتی کا ابتدائی مرکز جنوبی غزہ کا شہر ’رفح‘ ہو سکتا ہے، جو اس وقت اسرائیلی کنٹرول میں ہے اور بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے۔

اس’عالمی استحکام فورس‘ کی قیادت کرنے والےمیجر جنرل جاسپر جیفرز نے کہا کہ منصوبے کے مطابق غزہ کے لیے 12 ہزار پولیس اہلکار اور 20 ہزار فوجی تعینات کرنے کا ہدف ہے۔

مالی امداد

ٹرمپ نے یہ بھی دہرایا کہ امریکہ اس بورڈ کو 10 ارب ڈالر دے گا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی یا یہ کیسے مختص کی جائے گی۔ اب تک موصول ہونے والی مجموعی امداد (7 ارب ڈالر + امریکی وعدہ) اس 70 ارب ڈالر کے تخمینے کا صرف ایک چھوٹا حصہ ہے، جس کی ضرورت  اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سالہ جنگ کے بعد غزہ کی تعمیرنو کے لیے ہے۔

مالی امداد کا عہد کرنے والے ممالک میں قزاقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت شامل ہیں۔

اس دوران ٹرمپ نے ان اتحادی ممالک پر بھی تنقید کی جو ابھی تک باضابطہ طور پر اس بورڈ میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے طنزکرتے ہوئے کہا کہ کچھ ممالک ’ہوشیاری کا مظاہرہ کررہے ہیں‘، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اشارہ دیا کہ کئی دیگر ممالک ابھی اپنی سطح پرقانون سازی کی منظوری حاصل کرنے کے عمل میں ہیں۔

معلوم ہو کہ’بورڈ آف پیس‘کا آغاز بنیادی طور پر ٹرمپ کی اس 20 نکاتی منصوبہ بندی کے حصے کے طور پر ہوا تھا، جس کا مقصد غزہ تنازعہ کوختم کرنا اور جنگ کے بعد استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم، اکتوبر میں ہوئی جنگ بندی کے بعد اس کا دائرہ کار خاصہ وسیع ہو چکا ہے۔

ٹرمپ نے اشارہ دیا  ہے کہ یہ بورڈ اب دنیا کے دیگر تنازعات کے حل میں بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ بورڈ اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر انداز میں کام کرنے میں مدد دے گا اور اس کی’نگرانی‘ کرے گا تاکہ وہ ٹھیک سے کام کرے۔ بورڈ کے مسودہ چارٹر میں اسے ایک نیا بین الاقوامی ادارہ اور ’ٹرانزیشنل گورننگ ایڈمنسٹریشن‘کہا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کی تمہید میں خاص طور پر ’غزہ‘ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ چارٹر کے مطابق، اس کے چیئرمین کو رکنیت اور اس کی تجدید جیسے اہم فیصلوں پر وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ رکن ممالک کی مدت رکنیت عام طور پر تین سال ہوگی۔

اس پورے عمل میں سب سے اہم مسئلہ حماس کا ہتھیار ڈالنا بنا ہواہے۔ یہ  اسرائیل کا بنیادی مطالبہ اور جنگ بندی کے خاکے کا لازمی جزو بھی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ ’فوجیوں کے انخلا کے بغیر کوئی تعمیر نو نہیں ہوگی۔‘

تاہم، ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ حماس نے ہتھیار ڈالنے کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو حماس کو ’سنگین نتائج‘بھگتنے ہوں گے، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی تفصیلی حکمت عملی بیان نہیں کی۔

(اے پی کے ان پٹ کے ساتھ)