انتخابی خرچ کے معاملے میں بی جے پی ایم پی سنی دیول کو نوٹس

07:04 PM Jun 20, 2019 | دی وائر اسٹاف

ضلع الیکشن آفیسر کے مطابق؛ گرداس پور لوک سبھا سیٹ سے نو منتخب رکن پارلیامان سنی دیول کا انتخابی خرچ شروعاتی حساب میں 70 لاکھ روپے سے زیادہ پایا گیا ہے، جس کے سبب ان کو خرچ کا بیورہ دینے کو کہا گیا ہے۔

17ویں لوک سبھا کے پہلے سیشن کے لئے پارلیامنٹ  پہنچے گرداس پور سے بی جے پی کے رکن پارلیامان سنی دیول (فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: فلم ایکٹر اور گرداس پور سے بی جے پی کے رکن پارلیامان سنی دیول سے حالیہ لوک سبھا انتخاب میں اپنے خرچ کا بیورہ  دینے کو کہا گیا ہے کیونکہ پتا لگا کہ ان کا انتخابی خرچ 70 لاکھ روپے کی آئینی حدود سے زیادہ تھا۔ایک افسر نے بدھ کو یہ جانکاری دی۔ گرداس پور ضلع انتخابی افسر اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر ویپل اجّْول نے دیول کو اپنے انتخابی خرچ کا بیورہ دینے کے لئے نوٹس جاری کیا۔

اُجّْول نے کہا، ‘ پتا لگا ہے  کہ ان کا انتخابی خرچ 70 لاکھ روپے سے زیادہ تھا۔ ‘ انڈین ایکسپریس کے مطابق، انہوں نے کہا کہ وہ صحیح  اعداد و شمار نہیں بتا سکتے کہ یہ خرچ کتنا زیادہ ہے کیونکہ یہ ‘ آخری اعداد و شمار ‘ نہیں ہے۔دیول نے گرداس پور سیٹ پر کانگریس کے امیدوار سنیل جاکھڑ کو 82459 ووٹ کے فرق سے ہرایا تھا۔

اُجّْول نے انتخابی خرچ‌کے اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا لیکن سرکاری ذرائع نے کہا کہ شروعاتی حساب کے مطابق، دیول کا انتخابی خرچ 86 لاکھ روپے پایا گیا۔ اُجّْول نے کہا کہ دیول کو کھاتوں کا اصل بیورہ پیش کرنے کے لئے نوٹس جاری کیا ہے۔دوسری طرف سنی کے قانونی صلاح کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی خرچ کا حساب-کتاب لگانے میں الیکشن  کمیشن کی ٹیم سے چوک ہوئی ہے۔

دینک بھاسکر کی خبر کے مطابق، سنی کے قانونی صلاح کار سنجے اگروال نے کہا، ‘ الیکشن  کمیشن نے سنی کے کھاتے میں نہیں جڑنے والے خرچ بھی جوڑ دئے ہیں۔ ہم نے اعتراض درج کروایا ہے۔ خرچ چھپانے جیسی کوئی  بات نہیں ہے۔ انتخابی خرچ کی  جانچ کر  رہے آبزرور کوصحیح خرچ کی تفصیلات دے دی جائے‌گی۔ ‘

اُجّْول نے کہا ہے کہ زیادہ خرچ پر تبصرہ کرنا جلدبازی ہوگی۔ انہوں نے آگے کہا کہ دیول کو بھیجے جانے والا خط ہر امیدوار کو بھیجا جاتا ہے، جس سے کہ خرچ کی گئی رقم کو ملایا جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ابھی بتائے گئے اعداد و شمار انتخابی ٹیم کے ذریعے بنائے جانے والے ‘ شیڈو رجسٹر ‘ پر مبنی ہے، اگر سنی دیول کو کوئی اعتراض ہوگا، تو اس کو بھی سنا جائے‌گا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)