بالاکوٹ ایئراسٹرائک کے اگلے دن ایئر فورس نے اپنے ہی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا : رپورٹ

05:56 PM May 24, 2019 | دی وائر اسٹاف

گزشتہ 27 فروری کو جموں و کشمیر کے بڈگام میں فضائیہ کا ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ اس میں فضائیہ کے 6 جوان شہید ہو گئے تھے، جبکہ ایک مقامی شہری کی موت ہو گئی تھی۔

27 فروری کو جموں و کشمیر کے بڈگام میں حادثے کا شکار ہندوستانی فضائیہ کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کا ملبہ(فوٹو : پی ٹی آئی)

نئی دہلی: گزشتہ 26 فروری کو پاکستان کے بالاکوٹ میں ایئرسٹرائک کرنے کے اگلے دن 27 فروری کو ہندوستانی فضائیہ نے اپنے ہی ایک ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔جموں و کشمیر کے بڈگام میں ہوئے اس حادثہ میں فضائیہ کے 6 جوان اور ایک شہری ہلاک  ہو گئے تھے۔؎ہندوستان ٹائمس  کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثہ کے متعلق سرینگر ایئربیس پر تعینات فضائیہ کے سب سے سینئر افسر (ایئر آفیسر کمانڈنگ-اے او سی) کو ہٹا دیا گیا ہے۔سرینگر کے پاس ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے حملے کے بعد کریش ہونے کے اس معاملے کی کورٹ آف انکوائری (سی او آئی) ابھی چل رہی ہے۔ رپورٹ داخل  کیا جانا ابھی باقی ہے۔

ہندوستان ٹائمس نے اس بارے میں  فضائیہ کے ترجمان سے بات کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کا دیا۔رپورٹ کے مطابق، حادثہ کی ابتدائی تفتیش سے یہ انکشاف  ہوا ہے کہ بالاکوٹ ایئرسٹرائک کے بعد 27 فروری کی صبح جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان نوشیرا سیکٹر میں ہوائی جدو جہد ہو رہی تھی اسی دوران بڈگام میں روس میں بنافضائیہ ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کریش ہو گیا تھا۔ حادثہ میں ہیلی کاپٹر میں بیٹھے فضائیہ کے 6 جوان ہلاک  ہو گئے تھے اور ایک شہری کی موت ہو گئی تھی۔

رپورٹ میں شروعاتی جانچ‌کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس ہیلی کاپٹر کو پاکستان کا سمجھ‌کر ہندوستانی فضائیہ کی سطح سے ہوا میں مار کرنے والی ایک میزائل سے غلطی سے اس پر حملہ کر دیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کی تفتیش پوری ہونے والی ہے اور فضائیہ اس بارے میں غور کر رہا ہے کہ لاپروائی برتنے والوں کے خلاف مجرمانہ معاملہ درج کرنا چاہیے یا نہیں۔ وزارت دفاع کے ایک سینئر افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہندوستان ٹائمس سے کہا ہے، ‘لاپروائی برتنے والوں کو بخشا نہیں جانا چاہیے۔ فضائیہ کی قیادت اس بارے میں واضح ہے کہ ایسی لاپروائی دوہرائی نہیں جا سکتی۔ ‘

فی الحال سرینگر ایئربیس پر تعینات اے او سی کو ہٹا دیا گیا ہے، کیونکہ یہ حادثہ ان کی ہی نگرانی میں ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق، شروعاتی تفتیش میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر اس  ناگوار حادثہ کے لئے کئی خامیاں ذمہ دار ہیں۔ مثال کے طور پر اس دن ہندوستانی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان ہوئی ہوائی جدو جہد کے بعد ٹریفک کنٹرول نے ہیلی کاپٹر کو واپس لوٹنے کو کہا تھا۔ وزارت دفاع کے ایک دیگر افسر نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا، ‘مثالی طور پرہیلی کاپٹر کو ایئربیس پر بلانے کے بجائے کسی محفوظ مقام پر بھیج دیا جانا چاہیے تھا۔ ہیلی کاپٹر کو پہلے سے طےشدہ راستے سے بھیجا جانا چاہیے تھا جو کہ اپنے ملک کے کسی ایئرکرافٹ کے لئے بنایا گیا ہوتا ہے۔ ‘

ایئر ڈیفینس الرٹ کے وقت تمام ایئربیس کے فرینڈلی ایئرکرافٹ (اپنے ملک کا کوئی ایئرکرافٹ) کے لئے ایئر اسپیس ہوتا ہے۔ وزارت دفاع کے اس افسر نے کہا، ‘ایسے وقت میں میزائل سسٹم اور دوسرے ہتھیاروں کو آزاد رکھا جاتا ہے، تاکہ وہ ایسے کسی بھی ایئرکرافٹ کو نشانہ بنا سکیں، جو اپنی پہچان آئی ایف ایف کے ذریعے’فرینڈلی'(دوستانہ) نہ بتا سکے۔ ‘آئی ایف ایف (دوست) اور ‘ فو ‘ (دشمن)، ٹرانسپانڈر پرمبنی شناختی سسٹم  ہوتا ہے، جو ایئر ڈیفنس رڈار کو یہ اطلاع دیتی ہے کہ سامنے سے آ رہا ہوائی جہاز دوست ہے یا نہیں۔حیرت انگیز طور پر اس حادثہ میں ایئرکرافٹ کی پہچان کرنے میں افسروں سے چوک ہوئی۔

 وزارت دفاع کے اس افسر نے سوال کیا،’کیا آئی ایف ایف نظام اس وقت بند تھا، کیونکہ ایئر ڈیفنس رڈار کم سے کم ہیلی کاپٹر کی پہچان دوست یا دشمن کے طور پر کر لیتا۔ ‘ہندوستان ٹائمس کی رپورٹ کے مطابق، ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر اپنے زمرہ کا ایک طاقتور ہیلی کاپٹر ہے، جس نے اسکواڈرن لیڈر سدھارتھ وششٹھ کی کمان میں اس دن صبح 10 بجے سرینگر ایئربیس سے اڑان بھری تھی۔تقریباً اسی وقت ہندوستانی فضائیہ میں در اندازی ہونے کا الرٹ بھی جاری کیا گیا تھا۔ نوشیرا میں ہندوستانی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان جدو جہد جاری تھی اور تقریباً 10:10 بجے بڈگام میں ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہو گیا۔میزائل حملے سے کریش ہیلی کاپٹر بڈگام کے گاریند کلاں گاؤں کے پاس میدان میں گرا تھا۔ حادثے میں مارے گئے شہری کی پہچان کیفیت حسین غنی کے طور پر ہوئی تھی۔

واضح  ہو کہ گزشتہ 14 فروری کو جموں و کشمیر کے پلواما ضلع‎ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے خودکش حملے میں 40 جوانوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی تھی۔اس کے بعد 26 فروری کو ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان کے بالاکوٹ میں ایئراسٹرائک کیا تھا۔اس کے اگلے دن 27 فروری کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئی ہوائی جدو جہد میں پاکستان نے ہندوستان کے مگ-21 ہوائی جہاز گرانے کا دعویٰ کیا تھا وہیں ہندوستان نے پاکستان کا ایف-16 ہوائی جہاز گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسی دوران بڈگام میں ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا تھا۔ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہوئے اس ہوائی جدو جہد میں ونگ کمانڈر ابھینندن کو پاکستان نے گرفتار کر لیا تھا۔