گیان واپی کیس میں فیصلہ دینے والے جج نے ایک دیگر فیصلے میں سی ایم یوگی کو ’فلسفی راجا‘ کہہ کر ان کی تعریف کی

بریلی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج روی کمار دیواکر نے ایک فیصلے میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کرتے ہوئےلکھا ہے کہ حکومت کا سربراہ مذہبی شخص کو ہونا چاہیے، کیونکہ ان کی زندگی عیش و عشرت سے نہیں بلکہ قربانی اور وقف سے عبارت ہوتی ہے۔ دیواکر نے 2022 میں وارانسی کی گیان واپی مسجد سے متعلق معاملے میں وہاں کے ایک حصے کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

بریلی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج روی کمار دیواکر نے ایک فیصلے میں سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی تعریف کرتے ہوئےلکھا ہے کہ حکومت  کا سربراہ مذہبی شخص کو ہونا چاہیے، کیونکہ ان کی زندگی عیش و عشرت سے نہیں بلکہ قربانی اور وقف سے عبارت ہوتی ہے۔ دیواکر نے 2022 میں وارانسی کی گیان واپی مسجد سے متعلق معاملے میں وہاں کے ایک حصے کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا۔

جج روی کمار دیواکر۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@DiwakarJudge)

جج روی کمار دیواکر۔ (تصویر بہ شکریہ: X/@DiwakarJudge)

نئی دہلی: اترپردیش میں ایک نچلی عدالت کے جج نے 2010 میں بریلی میں ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے ایک واقعے میں مسلمان عالم اور سیاستدان کے خلاف قتل کی کوشش سمیت سنگین مجرمانہ الزامات لگاتے ہوئے حکومت کے سربراہ کے عہدے پر فائز وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی  ایک ‘مذہبی شخص’ کے طور پر تعریف کی۔

اپنے اسی فیصلے میں جج نے کئی متنازعہ تبصرے کیے ہیں اور یہ بھی ذکر کیا ہے کہ وارانسی میں واقع گیان واپی مسجد کے معاملے کو حل کرتے ہوئے انہیں مسلم تنظیموں کی طرف سے دھمکی ملی تھی۔

جج نے یہاں تک کہا کہ ان کے فیصلے کی ایک کاپی آدتیہ ناتھ کو بھیجی جانی چاہیے تاکہ وزیر اعلیٰ ان سینئر پولیس افسران اور عملے کے خلاف کارروائی کر سکیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملزم مولانا توقیر رضا خان کی مدد کی اور اس وقت کے فیصلے پر قانون کے مطابق عمل نہیں کیا (اس وقت یوپی میں بہوجن سماج پارٹی کی حکومت تھی)۔

یہ فیصلہ صادرکرنے والے بریلی کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج- فاسٹ ٹریک کورٹ روی کمار دیواکر نے 2022 میں وارانسی میں جج کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے گیان واپی مسجد سے متعلق  متنازعہ ہدایات بھی دی تھیں۔

سول جج (سینئر ڈویژن)  کی حیثیت سے دیواکرنے مغلیہ دور کی مسجد کے ایک حصے کو سیل کرنے کا حکم دیا تھا، جو ایک ہندو درخواست گزار کے اس دعوے کے بعد دیا گیا تھا جس میں کہا گیا  تھا کہ  وضو خانے میں  ‘شیولنگ’ پایا گیا تھا۔

اب بریلی میں تعینات جج دیواکر نے 5 مارچ کو 2010 کے بریلی فسادات کیس کی سماعت کرتے ہوئے خان کا نام چارج شیٹ میں شامل کیا ہے اور انہیں 11 مارچ کو حاضر ہونے کو کہا۔ بریلوی فرقے کے ایک ممتاز عالم اور سیاسی جماعت اتحاد ملت کونسل کے صدر خان کو 2 مارچ 2010 کو ایک تنازعہ کے بعد بریلی میں بھڑکے فسادات کا ‘ماسٹر مائنڈ’ قرار دیا گیا تھا۔ مذکورہ  تنازعہ مسلمانوں کے ایک مذہبی جلوس کے روٹ کو لے کر ہوا تھا۔ اس واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ شہر میں کئی روز تک کرفیو نافذ رہا۔

گواہوں کے بیانات درج کرنے کے بعد جسٹس دیواکر نے نتیجہ اخذ کیا کہ مسلمانوں کے ایک اجتماع میں خان کی تقریر کی وجہ سے تشدد بھڑکا تھا۔

مذہب کو حکومت میں شامل کرنے کی حمایت کرتے ہوئے انہوں نے فلسفی افلاطون کا حوالہ ہوئے کہا ‘اگر کوئی مذہبی شخص اقتدار کی کرسی پر بیٹھتا ہے تو اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں، جیسا کہ فلسفی افلاطون نے اپنے مقالے ‘ریپبلک’ میں ‘فلسفی بادشاہ’ کا تصور دیا ہے۔ افلاطون نے کہا ہے کہ ہماری شہری ریاستوں میں اس وقت تک مصائب کا خاتمہ نہیں ہوگا، جب تک کہ فلسفی بادشاہ نہ ہو۔’

انہوں نے فیصلے میں مزید لکھا کہ ‘انصاف راجا کے لیے آکسیجن کی طرح ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موجودہ دور میں ہم انصاف کا لفظ قانونی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں، جبکہ افلاطون کے وقت انصاف کا لفظ مذہب کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ اس لیے اقتدار کا سربراہ مذہبی شخص کو ہونا چاہیے، کیونکہ مذہبی شخص کی زندگی عیش و عشرت سےنہیں، قربانی اور وقف سے عبارت ہوتی ہے۔

اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ آدتیہ ناتھ کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘مثال کے طور پر مہان سدھی پیٹھ گورکھ ناتھ مندر کے موجودہ سربراہ مہنت بابا یوگی آدتیہ ناتھ جی، جو اس وقت ہمارے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں، نے مذکورہ تصور کو صحیح ثابت کیا ہے۔’

وہ فیصلے میں مزید لکھتے ہیں، ‘لیکن اگر کوئی مذہبی شخص مذکورہ حقائق کے خلاف کام کرے، جیسے کہ اپنی برادری کے لوگوں کو اکسانا وغیرہ تو امن و امان میں خلل پڑتا ہے اور فسادات ہوتے ہیں جس کی ایک مثال مولانا توقیر رضاخان ہیں۔’

انہوں نے فیصلے میں ذکر کیا ہے کہ مولانا توقیر رضا خان بریلی کی درگاہ اعلیٰ حضرت کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ درگاہ اعلیٰ حضرت کی مسلم معاشرے میں بڑی مقبولیت ہے۔ خان چونکہ ایک مذہبی گھرانے کے مذہبی رہنما کی بھی حیثیت بھی رکھتے ہیں اور آئی ایم سی کے صدر بھی ہیں، اس لیے ان کا مسلم معاشرے پر کافی اثر ہے۔

جج دیواکر نے مزید کہا ہے کہ ‘ہندوستان میں فسادات کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہاں کی سیاسی جماعتیں ‘ایک خاص مذہب کے اپیزمنٹ’ میں لگی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے بھی فسادیوں کو ایک طرف حوصلہ ملتا ہے کہ اگر ان کی طرف سے فسادات کر دیے گئے یا  کروا دیے گئے تو عدلیہ سے سزا ملنا تقریباً ناممکن ہے۔’

آگے وہ وارانسی کی عدالت میں اپنی مدت کار اور گیانواپی مسجد کیس میں انہیں ملی  مبینہ دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں، ‘میرے ذریعے 2022 میں گیانواپی کیس کا حل  وارانسی میں کیا  جا رہا تھا۔ تب مجھے مسلم تنظیم کی طرف سے تقریباً 32 صفحات کا ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا، جس کے بارے میں وارانسی میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی۔ چونکہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے، لکھنؤ میں میری والدہ اور شاہجہاں پور میں سول جج میرے چھوٹے بھائی میرےلیےفکر مند ہیں اور میں ان کے بارے میں فکر مند ہوں۔’

وہ اپنے فیصلے میں لکھتے ہیں کہ اگر یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نہ ہوتی تو ملزم خان نے بریلی میں چند دن پہلے فساد کرا دیا  ہوتا۔ وہ  وزیر اعظم مودی کے خلاف خان کے مبینہ قابل اعتراض ریمارکس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں،’حال ہی میں مولانا توقیر رضا خان کی طرف سے بریلی شہر میں دوبارہ فسادات بھڑکانے کی کوشش کی گئی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف توہین آمیز باتیں کی گئیں، جسے میری اہلیہ نے بھی سنا اور کہا کہ جب یہ شخص ملک کے وزیراعظم کے بارے میں توہین آمیز باتیں کر سکتا ہے تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ بریلی میں کچھ دن پہلے خان نے فساد کروا دیا ہوتا، اگر اس وقت اتر پردیش میں عزت مآب شری یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت نہ ہوتی۔’

دیواکر پچھلے مہینے بریلی میں ہوئے پتھراؤ کے واقعے کا ذکر کر رہے تھے، جب گیان واپی مسجد کے تہہ خانے کو ہندوؤں کو پوجا کے لیے حوالے کرنے کے وارانسی کی ایک عدالت کے فیصلے کے خلاف خان کی طرف سے کیے گئے جیل بھرو احتجاج میں حصہ لینے کے بعد لوگ گھر واپس لوٹ رہے تھے۔

گیان واپی کیس پر اپنے فیصلے کے بارے میں وہ لکھتے ہیں، ‘جب سے میرے ذریعے گیان واپی کیس کا فیصلہ دیا گیا ہے، ایک خاص مذہب کے لوگوں اور اہلکاروں کا رویہ میرے تئیں عجیب سا ہو گیا ہے، گویا ایسا لگتا ہے کہ فیصلہ دے کر میں نے کوئی گناہ کیا ہو، جبکہ گیان واپی کیس میں میں نے قانونی دفعات کے تحت فیصلہ دیا تھا۔’

گیان واپی مسجد-کاشی وشواناتھ کیس میں تنازعہ کھڑا کرنے والے دیواکر واحد جج نہیں ہیں۔

دی وائر نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ وارانسی کے ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج اجئے کمار وشویش، جنہوں نے 31 جنوری کو اپنے آخری ورکنگ ڈےپر گیان واپی مسجد کے تہہ خانے کو ہندوؤں کو پوجا کے لیے حوالے کیا تھا، کو حال ہی میں ایک سرکاری یونیورسٹی کا لوک پال مقرر کیا گیا ہے۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔)

Next Article

روزہ یا پیسے کا جھگڑا: رمضان میں ’تبدیلی مذہب‘ کے الزام میں یوپی کی مسلم خاتون گرفتار

اتر پردیش کے جھانسی میں رمضان کے دوران ایک 40 سالہ مسلم خاتون کونابالغ ہندو لڑکی کا’مذہب تبدیل’ کروانےکے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ لیکن خاتون کا کہنا ہے کہ پڑوسی ہندو خاندان  نے ان سے لیا گیا قرض واپس کرنے سے بچنے کے لیے ‘فرضی کہانی’ بنائی ہے۔

نئی دہلی: ملک بھر میں رمضان کا مقدس مہینہ عام طور پر پرامن طور پر گزرا اور حال ہی میں عید الفطر منائی گئی۔ لیکن اتر پردیش کے جھانسی کے ایک محلے میں مبینہ طور پر روزہ رکھنے کا معاملہ ایک مجرمانہ معاملے کا موضوع بن گیا ہے۔

الزام ہے کہ پڑوس کی ایک مسلم خاتون نے مبینہ طور پر ایک نابالغ ہندو لڑکی کو اسلام قبول کرنے کے لیے بہلایا۔ اس معاملے میں 40 سالہ مسلم خاتون شہناز کو گرفتار کیا گیا ہے۔

دی وائر کی جانب سے دیکھے گئے دستاویزوں کے مطابق، اس خاتون نے بعد میں ایک مقامی عدالت میں دعویٰ کیا کہ تبدیلی مذہب  کا پورا معاملہ ایک مالی تنازعہ کی وجہ سے بنایا گیا ہے ۔

کیاہے معاملہ؟

جھانسی میں ایک ایف آئی آر 13 مارچ کو درج کی گئی،  جب ایک ہندو شخص نے الزام لگایاکہ اس کی 16 سالہ بیٹی کو اس کے پڑوس کی دو مسلم خواتین نے رمضان کے دوران روزہ رکھنے کے لیےبہلایا،  تاکہ اسے اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ کیا جا سکے۔

باپ نے کہا،’انہوں نے میری بیٹی کو بہلا پھسلا کریہ یقین دلایا کہ اگر وہ روزہ رکھے گی تو اس کے گھر میں برکت آئے گی۔ وہ امیر ہو جائے گی اور وہ اسے مناسب مدد فراہم کریں گے۔’

ہم اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کر رہے ہیں کیونکہ اس سے ان  کی نابالغ بیٹی کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے۔

لڑکی کے والد کا الزام ہے کہ ان کی بیٹی نے تین چار روزے رکھے اور نماز بھی پڑھی۔

شکایت کنندہ کے مطابق،  13 مارچ کوکلیدی ملزم شہناز زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوئی اور ایک کمرے کو اندر سے بند کر کے پھانسی لگا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ یہ کمرہ شکایت کنندہ کے بھائی کا تھا۔ جب ہندو خاندان نے پولیس کو بلانے کے لیے 112 پر کال کی تو خاتون وہاں سے بھاگ گئی، لیکن جانے سے پہلے  ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دی۔ اسی دوران کچھ ہندو دائیں بازو کے کارکن بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے مسلم خواتین پر جبری تبدیلی مذہب کا الزام لگایا۔

اس کے بعد، شہناز اور کشناما نامی دو خواتین کے خلاف اتر پردیش کے غیر قانونی تبدیلی مذہب کی روک تھام کے قانون 2021 کی دفعہ 3 اور 5 (1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ تحقیقات کے دوران پولیس نے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دیگر دفعات بھی شامل کیں، جن میں جان سے مارنے کی دھمکی، املاک کو تباہ کرنے کی دھمکی اور  جان بوجھ کر توہین کرنا تاکہ امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو، شامل ہے۔

شہناز کا کیا کہنا ہے؟

شہناز نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ مقامی عدالت میں دائر اپنی ضمانت کی درخواست میں انہوں  نے کہا کہ ہندو خاندان نے انہیں پھنسانے کے لیے ‘فرضی کہانی’ بنائی ہے کیونکہ وہ ان سے لیے گئے قرض کی ادائیگی سے بچنا چاہتے تھے۔

شہناز کے مطابق، کچھ عرصہ قبل جب ہندو شخص بیمار ہوا تو اس کی اہلیہ نے شہناز سے 50 ہزار روپے ادھار لیے اور 10 دن میں واپس کرنے کا وعدہ کیا۔ لیکن رقم واپس نہ ہونے پر شہناز کئی بار ان  کے گھر گئی اور رقم واپس مانگی۔ انہوں  نے کہا، ‘ان  کی بیوی نے ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی تھی۔’

شہناز نے الزام لگایا کہ 13 مارچ کو صبح 10 بجے جب وہ ان کے گھر پیسے مانگنے گئی تو پڑوس کا بھائی، جو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اسی گھر میں رہتا تھا، نے اسے ایک کمرے میں بند کر دیا اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔

‘میں نے زور سے چلایا تو پڑوسی جمع ہو گئے۔’ انہوں نے کہا۔

شہناز نے الزام لگایا کہ لڑکی کے والد نے دائیں بازو کی تنظیموں کے لوگوں کو بلایا، جنہوں نے پولیس کو بلایا اور انہیں بچانے کے لیے جھوٹی کہانی بنا دی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولیس نے ان کی شکایت درج کرنے سے انکار کر دیا۔

انہوں نے واضح طور پر اس بات کی تردید کی کہ انہوں  نے نابالغ لڑکی کو اسلام قبول کرنے کو کہا یا اسے روزے رکھنے اور نماز پڑھنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے یہ بھی دلیل دی کہ لڑکی کے گھر میں اس کے والدین، بہن بھائی اور چچا اور چچی سمیت کئی لوگ رہتے ۔ ‘اگر لڑکی نے واقعی روزہ رکھا ہوتا تو اس کے گھر والوں کو ضرور معلوم ہوتا۔’ انہوں نے کہا۔

روزے کے عمل میں آدمی کو سورج نکلنے سے پہلے کھانا کھانا پڑتا ہے اور پھر سارا دن روزہ رکھنے کے بعد غروب آفتاب کے وقت افطار کرنا پڑتا ہے۔ شہناز نے کہا،’اگر لڑکی ایک بھی  روزہ  رکھتی تو گھر والوں کو ضرور پتہ چل جاتا’۔

شہناز کی درخواست ضمانت مسترد

گزشتہ 26 مارچ کو جھانسی کے ایڈیشنل سیشن جج وجئے کمار ورما نے شہناز کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے کہا کہ شہناز متاثرہ کی پڑوسی ہیں  اور وہ گواہوں یا شواہد پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں ۔ )

Next Article

وقف ترمیمی بل: اہم تبدیلیاں، تنازعات اور ہندوستانی مسلمانوں پر اس کے اثرات

مرکزی وزیر کرن رجیجو نے جمعرات کو راجیہ سبھا میں وقف بل  پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بل وقف بورڈ کو مضبوط بنانے کے ساتھ  خواتین، بچوں اور پسماندہ طبقات کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ارادےسے بنایا گیا ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے تھے۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے اپوزیشن کے تمام اعتراضات اور احتجاج کے باوجود لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 منظور کر ا لیا ہے۔ بل کی منظوری میں 12 گھنٹے سے زیادہ کا وقت لگا۔

بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے بل پر بحث کے لیے آٹھ گھنٹے کا وقت مختص کیا تھا، لیکن حکمران اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کے گرما گرم دلائل کی وجہ سے بحث طول پکڑ گئی۔ بحث بدھ (2 اپریل) کی دوپہر 12 بجے شروع ہوئی اور جمعرات (3 اپریل) کو 12:06 بجے ووٹنگ کے لیے پیش کیا گیا۔

ووٹنگ کے ذریعے بل کو پاس ہونے میں رات 2 کے  بج گئے۔ بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ پڑے۔ اس بل کی حمایت بی جے پی کے اتحادیوں، ٹی ڈی پی، جے ڈی (یو) اور ایل جے پی نے کی۔ جہاں حکومت نے ان ترامیم کو شفافیت بڑھانے، بدانتظامی کو روکنے اور وقف املاک کے بہتر نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا ماننا ہے کہ یہ مسلم کمیونٹی کی مذہبی خود مختاری میں مداخلت ہے۔

حکومت  کاکیا کہنا ہے؟

گزشتہ 2 اپریل کو پارلیامانی امور اور اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے متنازعہ وقف (ترمیمی) بل 2024 لوک سبھا میں پیش کیا اور حکومت کی جانب سے بحث کا آغاز کیا۔ اپنے خطاب کے دوران، رجیجو نے بل کی مخالفت کرنے والے اپوزیشن پر سخت حملہ کیا اور بتایا کہ تجویز کردہ ترامیم کو لاگو کرنا کیوں ضروری ہے۔

رجیجو نے یہ کہتے ہوئے شروعات کی ، ‘ہم نے بل میں مشترکہ پارلیامانی کمیٹی (جے پی سی) کی طرف سے دی گئی کئی تجاویز کو قبول کیا ہے اور ایک اہم ترمیم پیش کی ہے۔ اس سے ‘امید’ ملے گی کہ ایک نئی صبح آنے والی ہے۔ اس وجہ سےنئے ایکٹ کوامید (یونیفائیڈ وقف مینجمنٹ، امپاورمنٹ، ایفیشنسی، اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ) کا نام بھی دیا گیا ہے۔’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم کمیونٹی ان ترامیم کا خیر مقدم کر رہی ہے، ‘مسلم برادری کھلے دل سے اس بل کا خیر مقدم کر رہی ہے۔ یہاں کچھ لوگ اس کی مخالفت ضرور کر رہے ہیں، لیکن میں انہیں اپنے گھر بلانا چاہتا ہوں تاکہ وہ خود دیکھ سکیں کہ مسلم وفد مجھ سے مل رہے ہیں اور اس بل کی حمایت کر رہا ہے۔ اس سے ان کی سوچ بدل جائے گی۔ انہیں اندازہ نہیں ہے کہ اس بل کو مسلم کمیونٹی میں کتنی پذیرائی مل رہی ہے۔’

رجیجو نے مزید کہا، ‘ہم نے شیعہ، سنی، پسماندہ مسلمانوں، خواتین اور غیر مسلم ماہرین کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی اجازت دی ہے… اس میں دو غیر مسلم  ہوسکتے ہیں، اور اس میں دو خواتین بھی ہونی چاہیے۔ اب تک وقف بورڈ میں خواتین کہاں تھیں؟’

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کانگریس کی غلطی کو ٹھیک کررہی ہے۔ رجیجو نے کہا، ‘2013 میں، ایک اہتمام  کیا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص، کسی بھی مذہب کا، وقف بنا سکتا ہے۔ اس سے اصل ایکٹ کمزور ہو گیا۔ پھر یہ اہتمام  لایا گیاکہ شیعہ وقف بورڈ میں صرف شیعہ ہوں گے اور سنی وقف بورڈ میں صرف سنی ہوں گے۔ ایک اور شق لائی گئی کہ وقف بورڈ کسی بھی قانون سے بالاتر ہوگا۔ یہ کیسے قابل قبول ہے؟’

انہوں نے کہا کہ حکومت کسی مذہبی سرگرمی میں مداخلت نہیں کر رہی ہے۔ یہ صرف جائیدادوں کے انتظام کا معاملہ ہے، ‘یو پی اے حکومت کی جانب سے وقف ایکٹ میں کی گئی ترامیم نے اسے دوسرے قوانین پر ترجیح دی تھی، اس لیے نئی  ترامیم ضروری تھیں۔’

اس دوران رجیجو نے مارچ 2014 میں اس وقت کی یو پی اے حکومت کےذریعے  دہلی کی 123 بڑی جائیدادوں کو وقف بورڈ کے حوالے کرنے کے فیصلے کا ذکر کیا۔ رجیجو نے یہاں تک کہا کہ اگر ان کی حکومت یہ ترمیمی بل پیش نہیں کرتی تو جس عمارت میں ہم بیٹھے ہیں اس پر بھی وقف کا دعویٰ کیا جا سکتا تھا۔

انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، مارچ 2014 میں عام انتخابات کے ضابطہ اخلاق کے نافذ ہونے سے ایک رات قبل 123 جائیدادیں وقف بورڈ کو سونپ دی گئی تھیں۔ ان میں سے زیادہ تر جائیدادیں دہلی کے اہم علاقوں میں واقع ہیں، جیسے: کناٹ پلیس، متھرا روڈ، لودھی روڈ، مان سنگھ روڈ، پنڈارا روڈ، اشوک روڈ، جن پتھ، پارلیامنٹ ہاؤس علاقہ، قرول باغ ، صدر بازار،دریا گنج، جنگ پورہ۔

سال 2014 میں این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد مرکزی حکومت نے ان جائیدادوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ بعد میں، ایک دو رکنی پینل تشکیل دیا گیا، جس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دہلی وقف بورڈ کا ان جائیدادوں پر کوئی حق نہیں ہے۔

سال 2023 میں مرکزی حکومت نے ان 123 جائیدادوں کو دوبارہ اپنے اختیار میں لے لیا، جس کے بعد دہلی وقف بورڈ نے اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ یہ معاملہ فی الحال عدالت میں زیر سماعت ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی رجیجو کی بات کو دوہراتے ہوئے کہا کہ یو پی اے حکومت نے 2013 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل وقف ایکٹ کو ‘اپیزمنٹ’ کے لیے تبدیل کر دیا تھا۔ اگر 2013 میں یہ تبدیلی نہ کی جاتی تو آج اس بل کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔

شاہ نے پوچھا ، ‘1913 سے 2013 تک، وقف بورڈ کے پاس کل 18 لاکھ ایکڑ زمین تھی۔ 2013 سے 2025 کے درمیان جب نیا قانون نافذ ہوا تو وقف املاک میں 21 لاکھ ایکڑ اراضی شامل کی گئی۔ لیز پر دی گئی جائیدادیں پہلے 20000 تھیں لیکن 2025 میں یہ تعداد صفر ہو گئی… یہ جائیدادیں کہاں گئیں؟ کیا انہیں فروخت کیا گیا؟ کس کی اجازت سے؟’

‘وہ (اپوزیشن) کہہ رہے ہیں کہ اس پر توجہ نہ دیں… یہ پیسہ ملک کے غریب مسلمانوں کا ہے، نہ کہ کسی امیر دلالوں کے لیے۔ اس کو بند کرنا ہوگا… اور ان کے دلال یہاں بیٹھے ہیں، وہ اونچی آواز میں بات کررہے ہیں… وہ (اپوزیشن) سمجھتے ہیں کہ اس بل کی مخالفت کرکے وہ مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کریں گے اور اپنا ووٹ بینک مضبوط کریں گے۔ لیکن انہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔’ شاہ نے کہا۔

انہوں نے دہرایا، ‘حکومت وقف میں مداخلت نہیں کرنا چاہتی۔’ بی جے پی قائدین نے اپوزیشن پر اقلیتوں کے اپیزمنٹ، آئین کے خلاف جانے اور وقف املاک کے نام پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی کو فروغ دینے کا الزام لگایا۔

سرکار کےدعوے پر اپوزیشن نے کیا کہا؟

کانگریس ایم پی گورو گگوئی نے کانگریس کی طرف سے کمان سنبھالی ۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ وہ وقف (ترمیمی) بل 2024 کا استعمال آئین کو کمزور کرنے، اقلیتی برادریوں کو بدنام کرنے، ہندوستانی سماج کو تقسیم کرنے اور اقلیتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

بحث کے دوران سب سے سخت احتجاج اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے درج کرایا اور انہوں نے ترامیم کو ‘مسلمانوں کے عقیدے اور مذہبی روایات پر حملہ’ قرار دیا۔ انہوں نے علامتی طور پر بل کو پھاڑ دیااور اپنے قدم کا موازنہ مہاتما گاندھی کی غیر منصفانہ قوانین کے خلاف مزاحمت سے کیا۔

بحث کے دوران اویسی نے کہا، ‘یہ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے عقیدے اور عبادت کے طریقے پر حملہ ہے۔’ انہوں نے دلیل دی کہ یہ قانون مسلم کمیونٹی کے حقوق کو مجروح کرتا ہے۔

اویسی نے آرٹیکل 14 (جو تمام شہریوں کو قانون کے سامنے برابری کا حق دیتا ہے) کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا، ‘مسلمانوں کو وقف املاک پر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ تجاوزات کرنے والا راتوں رات مالک بن جائے گا۔ اس کامینجمنٹ کوئی غیر مسلم کرے گا – یہ آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے۔’

اس بل کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی طرف سے کرائی گئی یقین دہانیوں کی یاد دلائی۔ امت شاہ نے کہا تھا کہ وقف بورڈ اور کونسل مسلمانوں کی مذہبی روایات میں مداخلت نہیں کرے گی۔ اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ قانون لانے کی کیا ضرورت تھی؟’ اویسی نے کہا۔

حیدرآباد کے رکن پارلیامنٹ اویسی نے الزام لگایا کہ یہ بل مسلمانوں کو وقف املاک کے انتظامی کنٹرول سے محروم کرتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی، ‘ہندو، سکھ، جین اور بدھ برادریوں کو ان کے مذہبی اداروں کو چلانے کا حق دیا گیا ہے۔ پھر مسلمانوں سے یہ حق کیوں چھینا جا رہا ہے؟ یہ آرٹیکل 26 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔’

بحث کے دوران اویسی نے مرکزی وزیر کرن رجیجو سے اس بل میں ‘پریکٹسنگ مسلم’ کی تعریف پر سوال کیا۔ ‘کیا داڑھی رکھنا اس کی شرائط میں سے ایک ہوگا، یا پھر اسے آپ کی  طرح کلین شیو ہونا چاہیے؟’ انہوں  نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔

بی جے پی حکومت پر مسلمانوں کو حاشیہ پر دھکیلنے کا الزام لگاتے ہوئے اویسی نے کہا، ‘یہ بل مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔’

غیر منصفانہ قوانین کے خلاف مہاتما گاندھی کی مزاحمت کا موازنہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا، ‘جب گاندھی جی کو ایک ایسے قانون کا سامنا کرنا پڑا جسے وہ قبول نہیں کر سکتے تھے، تو انھوں نے کہا تھا، ‘میں اس قانون کو نہیں مانتا اور اسے پھاڑ دیتا ہوں۔’ ٹھیک اسی طرح میں اس قانون کو بھی پھاڑ رہا ہوں۔’

اس کے بعد انہوں نے احتجاجاً اسٹیپل والے صفحات کو الگ کر دیا۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ‘یہ غیر آئینی ہے۔ بی جے پی مندر اور مسجد کے نام پر سماج میں دشمنی پھیلانا چاہتی ہے۔’

کیا بدل جائے گا؟

ان مباحث کو جاننے کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ایوانوں میں ترامیم کی منظوری کے بعد کیا تبدیلی آئے گی ؟

ہندوستان میں وقف نظام نے تاریخی طور پر مذہبی، تعلیمی اور سماجی بہبود کے اداروں کی حمایت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ موجودہ قانون کے تحت، وقف ایک خیراتی بندوبستی ہے جس میں جائیداد مذہبی یا فلاحی مقاصد کے لیے عطیہ کی جاتی ہے، جس کی ملکیت ہمیشہ کے لیے اللہ کے سپرد ہوتی ہے، اور اس کی آمدنی مساجد، مدارس، یتیم خانوں اور دیگر فلاحی اقدامات کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 1995 کے وقف ایکٹ اور اس کی 2013 کی ترمیم نے ان جائیدادوں کو چلانے کے لیے قانونی ڈھانچہ تشکیل دیا اور ریاستی وقف بورڈ قائم کیے، جو ان کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔ تاہم، مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر بدانتظامی، فراڈ اراضی کے دعووں اور قانونی تنازعات کی وجہ سے انتظامیہ میں وضاحت اور جوابدہی لانے کے لیے وقف ایکٹ میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے۔

نئی ترامیم سے سب سے بڑی تبدیلی یہ ہوگی کہ اب ہر کوئی وقف کو جائیداد عطیہ نہیں کر سکے گا۔ جائیداد عطیہ کرنے والوں کے لیے اہلیت کے سخت معیار ہوں گے۔اب تک جو  قانون لاگو ہے اس کے تحت، کوئی بھی شخص، بلا لحاظ مذہب، وقف مقاصد کے لیے جائیداد عطیہ کر سکتا ہے۔ تاہم، نئی ترامیم اس حق کو صرف ان لوگوں تک محدود کرتی ہیں جو کم از کم پانچ سال سے اسلام پر عمل کر رہے ہوں۔

ترمیم شدہ بل کے مطابق، جائیداد دینے والے شخص کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کم از کم پانچ سال سے اسلام کا پیروکار ہے۔ حکومت کے مطابق، یہ اہتمام  من مانی یا دھوکہ دہی سے وقف دینے والے  کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، ناقدین کا خیال ہے کہ یہ شق ایک غیر ضروری مذہبی امتحان عائد کرتی ہے اور وقف میں حصہ ڈالنے کے خواہشمند افراد پر غیر ضروری پابندیاں عائد کرتی ہے۔

اس کے علاوہ، ترمیم شدہ بل وقف املاک کی شناخت اور انتظام پر حکومتی نگرانی کو بھی بڑھاتا ہے۔ فی الحال، وقف سروے وقف سروے کمشنروں کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو وقف اراضی کے ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ہیں۔ ترمیم شدہ قانون کے تحت ضلع کلکٹر کو ایسی جائیدادوں کا سروے کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اگر وقف کا دعویٰ سرکاری اراضی سے متعلق ہے تو ترمیم میں تجویز کیا گیا ہے کہ کلکٹر کے عہدے سے اوپر کا ایک افسر اس دعوے کی تحقیقات کرے گا اور ریاستی حکومت کو رپورٹ پیش کرے گا۔

ترمیم شدہ بل کے سب سے متنازعہ پہلوؤں میں سے ایک وقف بورڈ میں غیر مسلم ممبران کو شامل کرنے کی شرط ہے۔ نئے بل کے تحت، سینٹرل وقف کونسل اور ریاستی وقف بورڈ میں کم از کم دو غیر مسلم ارکان کا ہونا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ وقف بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے لیے مسلمان ہونے کی شرط کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وقف انتظامیہ کو مزید جامع اور شفاف بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، مسلم مذہبی تنظیموں نے اس شق پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقف اسلامی قانون کے تحت ایک مذہبی وقف ہے، اور اس کے انتظام میں غیر مسلموں کو شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس ترمیم میں وقف املاک کو وقف کرنے سے پہلے خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے۔ بل میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ خاندانی وقف بنانے سے پہلے وقف کرنے والے شخص کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ تمام قانونی ورثاء بالخصوص خواتین کو جائیداد میں ان کا صحیح حصہ مل گیا ہے۔

اس کے علاوہ بل اس کو بھی لازمی بناتاہے کہ تمام متولی (وقف جائیدادوں کے منتظمین) چھ ماہ کے اندر مرکزی حکومت کے پورٹل پر جائیداد کی تفصیلات درج کریں۔ اس کے علاوہ، وقف ادارے جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے، اب انہیں ریاست کے مقرر کردہ آڈیٹرز سے لازمی طور پر آڈٹ کرانا ہوگا۔

Next Article

الہ آباد: سپریم کورٹ نے غیر قانونی طور پرتوڑے گئے مکانات کے مالکان کو دس-دس لاکھ روپےکا معاوضہ دینے کو کہا

ملک کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ان چھ لوگوں کو 10-10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے گی، جن کے گھر2021 میں غیر قانونی طور پر توڑے گئے تھے۔عدالت کا کہنا ہے کہ یہ واحد راستہ ہے، جس سے حکام ہمیشہ مناسب قانونی عمل کی پیروی کرنا یاد رکھیں گے۔

نئی دہلی: 1 اپریل کو ایک سخت فیصلے میں سپریم کورٹ نے الہ آباد، اتر پردیش کی پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) کو حکم دیا کہ وہ  ان چھ لوگوں کو دس دس  لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے ،جن کے مکانات غیر قانونی طور پر گرائے گئے تھے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت ‘بلڈوزر جسٹس’ کا دفاع کر رہی ہے، جس میں عام طور پر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ملزمین کی جائیدادوں کو منہدم کیا جا رہا ہے۔

دی وائر نے پہلےرپورٹ کیا تھا  کہ توڑے گئے مکانات میں سے ایک  مکان ریٹائرڈ اردو پروفیسر علی احمد فاطمی کا تھا۔ یہ کارروائی  ان کے لیے معاشی اور سماجی طور پر تباہ کن ثابت ہوا۔ انہوں  نے دی وائر کو بتایا،’میں اسے (مکان) دیکھنے کا حوصلہ بھی نہیں کر سکا۔’

پی ڈی اے نے ان کی بیٹی نائلہ فاطمی کے گھر کو بھی مسمار کر دیا تھا، اس کے ساتھ ہی وکیل ذوالفقار حیدر اور دیگر دو افراد کی جائیدادوں کو منہدم کر دیا تھا۔

لائیو لاء کے مطابق ، جسٹس ابھئے ایس اوکا اور اجول بھوئیاں کی بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یہ کارروائی قانونی عمل کی خلاف ورزی تھی۔

سپریم کورٹ نے اور کیا کہا؟

آئین کا آرٹیکل 21 شہریوں کی زندگی اورشخصی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور یہ من مانے ڈھنگ سے ذریعہ معاش سے محروم کرنے سے کو روکتا ہے۔

عدالت نے کہا، ‘انتظامیہ اور خاص طور پر ڈویولپمنٹ اتھارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ رہائش کا حق بھی آرٹیکل 21 کا ایک اہم حصہ ہے… چونکہ یہ غیر قانونی توڑ پھوڑآرٹیکل 21 کے تحت درخواست گزاروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے ہم پی ڈی اے کو متاثرین  کو 10 لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔’

جسٹس اوکا نے کہا، ‘ان معاملوں نے ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اپیل کنندگان کے گھروں کو زبردستی اور غیر قانونی طور پر مسمار کیا گیا… رہائش کا حق ہوتا ہے، قانونی عمل نام کی  بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔’

قابل ذکر ہے کہ دی وائر کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ فاطمی کو کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں  کہ ان کا گھر کیوں گرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس ان کے خلاف کوئی وجہ نہیں ہے، ‘ہم ہاؤس ٹیکس اور پانی کا بل باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔’

سپریم کورٹ نے اس سے قبل 13 نومبر 2023 کو بھی فیصلہ سنایا تھا کہ ‘کسی شخص کے گھر کو بغیر کسی قانونی کارروائی کے صرف اس لیے گرانا مکمل طور پر غیر آئینی ہے کہ وہ ملزم یا مجرم قرار دیا گیا ہے۔’

نوٹس چسپاں کرنا کافی نہیں

عدالت نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ افسران نے صرف گھروں پر نوٹس چسپاں کیا، جبکہ انہیں ذاتی طور پر یا ڈاک کے ذریعے نوٹس دینا چاہیے تھا۔ جسٹس اوکا نے کہا، ‘نوٹس چسپاں کرنے کا یہ رواج بند ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ سے لوگوں نے اپنے گھروں سے محروم ہوگئے۔’

عدالت نے اس عمل میں سنگین خامیوں کو بھی نوٹ کیا۔وجہ  بتاؤ نوٹس 18 دسمبر 2020 کو اتر پردیش ٹاؤن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ کی دفعہ 27 کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اسی دن نوٹس بھی چسپاں کر دیے گئے۔ مسمار کرنے کا حکم 8 جنوری 2021 کو جاری کیا گیا تھا، لیکن اسے رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نہیں بھیجا گیا۔

ڈاک 1 مارچ 2021 کو بھیجی گئی اور 6 مارچ 2021 کو موصول ہوئی۔ متاثرہ افراد کو اپیل کرنے یا جواب دینے کا کوئی موقع فراہم کیے بغیر، اگلے ہی دن مکانات مسمار کر دیے گئے۔

افسران کو سبق سکھانے کا طریقہ-معاوضہ

عدالت نے کہا، ‘ہم اس پورے عمل (گھر کو مسمار کرنے) کو غیر قانونی سمجھتے ہیں۔ متاثرین  کودس دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔ اس اتھارٹی کے لیے یہ یاد رکھنے کا واحد طریقہ ہے کہ قانونی عمل کی پیروی کرنا ضروری ہے۔’

اس فیصلے سے واضح  ہے کہ قانون پر عمل کیے بغیر مکان گرانا نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کو ‘بلڈوزر جسٹس’ کے خلاف ایک بڑی وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

Next Article

چھتیس گڑھ پولیس نے محمد زبیر کے خلاف پاکسو کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی

چھتیس گڑھ پولیس نے فیکٹ چیکر محمد زبیر کے خلاف  2020 میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےپاکسوایکٹ کے تحت درج معاملے کو بند کر دیا ہے۔ اس کے بعد زبیر نے کہا ہے کہ ‘سچائی کو پریشان کیا جا سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی!’

محمد زبیر۔ (فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر/@zoo_bear)

نئی دہلی: چھتیس گڑھ پولیس نے آلٹ نیوز کے فیکٹ چیکراور صحافی محمد زبیر کے خلاف پاکسو ایکٹ کے تحت درج کیس میں کلوزر رپورٹ داخل کی ہے۔ ریاستی حکومت نے حال ہی میں چھتیس گڑھ ہائی کورٹ کو یہ جانکاری دی۔

یہ کیس  2020 میں زبیر کی طرف سے ایکس (سابقہ ​​ٹوئٹر) پر کی گئی پوسٹ کے سلسلے میں  درج کیا گیا تھا۔

لائیو لا کے مطابق، چھتیس گڑھ حکومت کے وکیل نے چیف جسٹس رمیش سنہا اور جسٹس اروند کمار ورما کی بنچ کے سامنے یہ جانکاری دی۔

اب عدالت نے زبیر کی درخواست نمٹا دی ہے، جس میں انہوں نے ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کی استدعا کی تھی۔ ایف آئی آر انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 67، تعزیرات ہند کی دفعہ 509بی  اور پاکسو ایکٹ کی دفعہ 12 کے تحت درج کی گئی تھی۔

کیاتھا معاملہ؟

زبیر نے ایکس پر 2020 میں جگدیش سنگھ نامی شخص کو ٹیگ کرتے ہوئے ایک پوسٹ کی تھی۔ انہوں نے سنگھ سے پوچھا تھا کہ کیا سوشل میڈیا پر گالی گلوچ کرنا ان کے لیے درست ہے، خاص طور پر جب ان کی پروفائل تصویر میں ان کی پوتی دکھائی دے رہی تھی۔

زبیر نے پوسٹ میں لکھا تھا: ‘ہیلو جگدیش سنگھ، کیا آپ کی پیاری پوتی کو معلوم ہے کہ آپ سوشل میڈیا پر لوگوں کو گالیاں  دیتے ہیں؟ میرا مشورہ ہے کہ آپ اپنی پروفائل تصویر تبدیل کرلیں۔’

اس پوسٹ میں زبیر نے لڑکی کے چہرے کو دھندلا کر دیا تھا،اس کے باوجود جگدیش سنگھ نے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس سے شکایت کی تھی۔

اس کے بعد نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس نے اس سلسلے میں دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھا، جس کے بعد رائے پور پولیس نے ایف آئی آر درج کی۔ زبیر نے اس ایف آئی آر کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

عدالت کا فیصلہ

اکتوبر 2020 میں ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ زبیر کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔ 2024 میں، عدالت نے جگدیش سنگھ کو ایکس پر زبیر سے معافی مانگنے کا حکم دیا۔

زبیر کا بیان

گزشتہ 2 اپریل 2024 کو زبیر نے ایکس  پر لکھا : ‘اس معاملے میں، نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کے سابق چیئرمین پریانک قانون گو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور میرے خلاف پروپیگنڈہ  چلایا۔ انہوں نے دہلی اور رائے پور پولیس کو خط لکھ کر دعویٰ کیا کہ میرا ٹوئٹ ایک نابالغ لڑکی کو ہراساں کرنے والا تھا۔ لیکن گزشتہ سال دہلی کی عدالت نے شکایت کنندہ کو مجھ سے سر عام معافی مانگنے کا حکم دیا تھا۔ اور اب چھتیس گڑھ پولیس نے کلوزر رپورٹ درج کر کے مجھے بے قصور قرار دیا ہے۔’

زبیر کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کل 10 ایف آئی آر درج ہیں، جن میں سے اب دو کو خارج کر دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وہ لکھتے ہیں، ‘سچ پریشان ہو سکتا ہے، لیکن شکست نہیں دی جا سکتی۔ انصاف کی جیت ہوتی  ہے!’

قابل ذکر ہے کہ محمد زبیر نے حکومت اور بی جے پی کے گمراہ کن دعوے کو بے نقاب کرنے والے فیکٹ چیکنگ  رپورٹس شائع کی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہندوتوا کے حامیوں اور پروپیگنڈہ چلانے والوں کے نشانے پر رہتے ہیں۔ اتر پردیش پولیس نے ان کے خلاف ہیٹ اسپیچ دینے والے یتی نرسنہانند سے متعلق پوسٹ کرنے پر بھی ان کے خلاف کیس  درج کیا ہے ۔

Next Article

لوک سبھا: منی پور میں صدر راج کو رات 2 بجے صرف 40 منٹ میں منظوری دی گئی

گزشتہ فروری میں منی پور کے سی ایم این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد صدر راج نافذ کیا گیا تھا۔ آرٹیکل 356 کے مطابق، صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ بدھ کی رات دیر گئے لوک سبھا میں 40 منٹ کی بحث کے بعد اسے منظور کیا گیا۔

نئی دہلی: شمال -مشرقی ریاست منی پور میں نسلی تشدد کے 23 ماہ بعد اور ریاست میں صدر راج نافذ ہونے کے تقریباً دو ماہ بعد بدھ (3 اپریل) کورات  2 بجے لوک سبھا میں منی پور میں صدر راج کے اعلان کے قانونی قرارداد پر بحث شروع ہوئی۔

لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے 12 گھنٹے کی بحث کے بعد وقف ترمیمی ایکٹ 2025 کی منظوری کے بعداس  مسئلے کو اٹھایا۔ اس وقت گھڑی میں دو بج رہے تھے۔

معلوم ہو کہ یہ بحث تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی، جس میں ارکان پارلیامنٹ نے عجلت میں تقریریں کیں۔

اپوزیشن ارکان نے اتنی دیر سے بحث شروع کرنے پر احتجاج کیا، لیکن اسپیکر برلا نے اس موضوع پر بحث جاری رکھی۔ یہ بحث تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی، جس کے بعد مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے تقریباً 10 منٹ تک اپنا جواب دیا۔

واضح ہوکہ آرٹیکل 356 کے مطابق صدر راج کے نفاذ کے دو ماہ کے اندر اسے پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرنا ضروری ہے۔ پارلیامنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 4 اپریل کو ختم ہو رہا ہے۔

‘اپنا کام نہیں کیا’

کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے یہ کہہ کر بحث شروع کی کہ تاخیر کی وجہ سے وہ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ ‘کبھی نہ ہونے سے دیر بہترہے’۔

انہوں نے کہا، ‘مجھے یہ کہنا ضروری ہے کہ کبھی نہ ہونے سے دیر بہتر ہے۔ ہم سب نے منی پور کی ہولناکی دیکھی ہے۔ 2023 میں شروع ہونے کے بعد سے بدامنی آہستہ آہستہ بڑھی ہے، جو صدر راج کے نفاذ سے 21 ماہ تک جاری ہے۔ اس دوران ہم نے کم از کم 200 افراد کو ہلاک، 6.5 لاکھ گولہ بارود لوٹتے، 70000 سے زائد افراد کو بے گھر اور ہزاروں کو ریلیف کیمپوں میں رہنے کو مجبور ہوتے دیکھا ہے۔ اور یہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واضح طور پر امن و امان برقرار رکھنے کے ذمہ دار لوگوں نے اپنا کام نہیں کیا ہے۔’

تھرور نے کہا کہ منی پور میں صدر راج کے نفاذ کا یہ 11واں واقعہ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال  ملک وقوم کے ضمیر پر دھبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال تک اس معاملے میں’کوئی فیصلہ کن کارروائی نہیں کی گئی’ اور صدر راج صرف وزیر اعلیٰ این بیرین سنگھ کے استعفیٰ کے بعد لگایا گیا۔

اپنے جواب میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ ریاست میں تشدد کی وجہ ‘فساد یا دہشت گردی’ نہیں تھی۔ منی پور ہائی کورٹ کی 2023 کی ہدایت کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ‘یہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی تشریح کی وجہ سے دو گروپوں کے درمیان نسلی تشدد تھا۔’

انہوں نے ریاستی حکومت کو میتیئی برادری کو درج فہرست قبائل کی فہرست میں شامل کرنے پر غور کرنے کے لیے کہا۔

‘اپوزیشن کے دور اقتدار کا کیا؟’

امت شاہ نے کہا کہ وہ نسلی تشدد کی فہرست نہیں بنانا چاہتے جو اپوزیشن کے دور حکومت یا بی جے پی کے دور میں ہوئے تھے، لیکن پھر انہوں نے 1993 سے شروع ہونے والے تشدد کے تین واقعات کا ذکر کیا۔

انہوں نے کہا، ‘ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے دور میں کوئی واقعہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نے اسے کنٹرول کیا۔ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعدجن  260 افراد  کی بدقسمتی سےموت ہوئی، ان میں  سے 80 فیصد ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پہلے ایک مہینے کے دوران مارے گئے۔ جبکہ تشدد کے تین واقعات،  پانچ سال اور چھ ماہ تک ، یو پی اے کی مخلوط حکومتوں کے دوران پیش آئے۔’

شاہ نے کہا کہ صدر راج کے نفاذ کے بعد تمام برادریوں کے درمیان میٹنگ ہوئی ہیں اور اس معاملے پر ‘سیاست’ نہیں کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا، ‘منی پور میں گزشتہ چار ماہ سے کوئی تشدد نہیں ہوا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ صورتحال تسلی بخش ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ میں صدر راج کی منظوری لینے آیا ہوں۔ کانگریس کے پاس عدم اعتماد کی تحریک لانے کے لیے اتنے ارکان پارلیامنٹ نہیں ہیں۔ پہلے صدر راج اس لیے نہیں لگایا گیا کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا نہیں تھا۔ جب ہمارے وزیر اعلیٰ نے استعفیٰ دے  دیا اور کوئی دوسری پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی تو صدر راج نافذ کر دیا گیا۔ حکومت امن چاہتی ہے اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتی ہے۔’

‘ایمانداری سے بولنے کا وقت’

بحث کے دوران سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ لال جی ورما نے کہا کہ اپوزیشن کے مسلسل مطالبے کے باوجود بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے منی پور میں صدر راج نافذ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا، ‘جب صدر راج لگانے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا تو بی جے پی حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے اقلیتوں کو ڈرایا اور صدر راج نافذ نہیں کیا۔ جس طرح وقف بل اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے لایا گیا، اسی طرح منی پور میں بھی اقلیتوں کو ڈرایا گیا اور تشدد کو روکنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے متحد ہو کر صدر راج کا مطالبہ کیا تھا۔ ہم اس تجویز کے ساتھ ہیں، لیکن حکومت کو معمول کے حالات کو یقینی بنانا چاہیے اور لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا موقع دینا چاہیے۔’

ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے کہا کہ منی پور میں امن قائم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا گیا ہے اور منی پور میں ایک منتخب حکومت کی واپسی ہونی چاہیے جو امن اور ہم آہنگی کو یقینی بنائے گی۔ نیز، ایک ایسی حکومت ہونی چاہیے جو لوگوں کو ایک ساتھ لائے نہ کہ  ان کے درمیان تفرقہ بازی کی سیاست کرے۔

کنیموزی نے مزید کہا، ‘یہ وقت ہے کہ آپ ایماندار بنیں اور اس ملک کے لوگوں کو جواب دیں۔’

(انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں )