شرم پورٹل پر رجسٹریشن کے لیے آدھار لازمی، ڈبلیو پی سی نے کہا-یہ ڈیجیٹل بٹوارے کو  بڑھاتا ہے

07:07 PM Aug 28, 2021 | دی وائر اسٹاف

مرکز  نے ای -شرم پورٹل کی شروعات کی ہے، جہاں غیر منظم شعبے اور مہاجر مزدوروں کا نیشنل ڈیٹا بیس ہوگا۔حالانکہ لیبر کے معاملوں پر کام کرنے والے ڈبلیو پی سی  نے کہا ہے کہ رجسٹریشن  کا مکمل نظام  ایسے مزدوروں  کے لیے رکاوٹ  بن رہا ہے، جن کے پاس انٹرنیٹ وغیرہ  کے ذریعے اس تک پہنچنے کی جانکاری نہیں ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹر آئی ڈی  کارڈ کو آدھار کارڈ کے متبادل  کے طورپر شناختی کارڈر کے روپ میں قبول کیا جانا چاہیے۔

(علامتی  تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی:مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ای-شرم پورٹل شروع کیا ہے، جہاں غیرمنظم شعبے اور مہاجر مزدوروں  کے بارے میں نیشنل ڈیٹا ہوگا۔مزدوراپنے آدھاراور بینک کھاتوں کی تفصیلات کے ساتھ اس پورٹل پر اپنا رجسٹریشن کرا سکتے ہیں، جس کے بعد انہیں 12اعداد والے ایک خصوصی  نمبر کے ساتھ ایک ای- شرم کارڈ جاری کیا جائےگا۔

محنت اور روزگارکے وزیر جناب بھوپیندریادو نے جمعرات کو اس پورٹل کی شروعات کی۔ اس کے ذریعے سرکار کاہدف غیر منظم  شعبے کے 38کروڑ مزدوروں  جیسےگھریلومزدوروں ، تعمیراتی مزدوروں،مہاجرمزدوروں، گگ اورپلیٹ فارم ورکرز کو پورٹل پر رجسٹرڈ  کرانا ہے۔

یادو نے کہا، ‘ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار 38 کروڑ غیرمنظم شعبے کے مزدوروں  کے رجسٹریشن  کا انتظام  کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف انہیں رجسٹر کرےگا، بلکہ مرکز اور ریاستی  سرکاروں کی جانب سے لاگو کی جا رہی مختلف سماجی  تحفظ کی اسکیموں کو پورا کرنے میں بھی مددگار ہوگا۔’

ورکنگ پیپلس چارٹر(ڈبلیوپی سی)نے مرکزی حکومت کے اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس کوصحیح  سے لاگو کیا گیا تو اس پورٹل کے ذریعےغیر منظم شعبے کے مزدوروں کو سماجی تحفظ  اورحق  دلانا ممکن ہو جائےگا۔

ڈبلیوپی سی غیر منظم شعبے اور مہاجر مزدوروں  کے حقوق  کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا ایک قومی  نیٹ ورک ہے۔

انہوں نے کہا، ‘اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مزدوروں نے یہاں تک پہنچنے کے لیے کافی بڑی قیمت ادا کی ہے۔ جب کووڈ 19 مہاماری کی وجہ سے بنا کسی پیشگی اطلاع کے لاک ڈاؤن کااعلان کر دیے جانے کے بعد مچی افراتفری کے بعد جب ہزاروں مزدور اپنے گھر پہنچنا چاہ رہے تھے، تو مرکز اور ریاستی  سرکار دونوں میں سے کسی نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی۔’

انہوں نے مزیدکہا، ‘وزارت محنت کی مزدوروں کی اس بڑی نقل مکانی  سے نمٹنے کی کوئی تیاری نہیں تھی اور اس کی قلعی تب کھل گئی جب وزارت نے بیان جاری کرکے کہا کہ مہاجر مزدوروں کا کوئی ڈیٹا اس کے پاس نہیں ہے۔ اب یہ ڈیٹابیس بڑی تعداد میں ان مزدوروں  کو کسی طرح کی مدد اورحق ان تک پہنچانے اور ان کو انصاف  اور عزت  دلانے میں کامیاب  ہو پا رہا ہے کہ نہیں،یہ وقت  ہی بتائےگا۔’

ورکنگ پیپلس چارٹر سےمتعلق  لیبرگروپس اور لیبرمعاملوں کے جانکاروں نے اس معاملے کو لےکرخدشات  بھی ظاہر کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس پورٹل کی ایک بڑی کمی یہ ہے کہ جن کے پاس آدھار کارڈ نہیں ہے وہ اس میں رجسٹریشن نہیں کرا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس وقت  سماجی  تحفظ کی اسکیموں اور حقوق اس عمل  کا حصہ نہیں ہیں۔ کچھ اسکیموں جیسے حادثاتی  بیمہ(دو لاکھ روپے تک)، پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا(پی ایم ایس بی وائی)تک پہنچ دلانے کی تجویز ہے، پر دوسری اسکیموں کے بارے میں کوئی تفصیلات درج  نہیں ہے۔

ڈبلیوپی سی نے کہا، ‘ڈیٹابیس صرف باپ  کا نام پوچھتا ہے، ماں کا نام نہیں۔ یہ صنفی امتیاز کو پیدا کرتا ہے۔ یہ اسکیم  صرف ان انفرادی  مزدوروں  کے لیے ہے،جو اس پر رجسٹریشن کراتے ہیں۔ اس میں گھر کےممبروں  اورانحصار کرنے والوں کی تفصیلات کو شامل کرنے کااہتمام نہیں ہے۔’

انہوں نے مزید کہا، ‘عمردراز مزدور، جو 60 سال کے اوپر کے ہیں، انہیں من مانے ڈھنگ سے چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ غور کرنے والی بات ہے کہ غیر منظم شعبےکے اکثر مزدوروں کو کوئی پنشن نہیں ملتی ہے۔ پورٹل پر رجسٹریشن  کے لیے مزدوروں کی تصدیق  شرم سودھا کیندر کرتی ہے۔ اس کولےکر ڈر ہے کہ اس کے لیے43 کروڑ مزدوروں کے ڈیٹابیس کو سنبھالنا مشکل ہوگا، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کے چھوٹ جانے کا خدشہ  ہے۔’

انہوں  نے کہا کہ رجسٹریشن  کے  پورے نظام میں‘ڈیجیٹل تقسیم ’کے مسئلے کا دھیان نہیں رکھا گیا ہے، جو ایسے مزدوروں کے لیے رکاوٹ  بن رہا ہے، جن کے پاس انٹرنیٹ وغیرہ  کے ذریعے اس تک پہنچنے کی جانکاری نہیں ہے۔

مزدوروں کو خصوصی نمبر دینے کے بعد آج تک کوئی پیغام/انفارمیشن لنک موصول نہیں ہوا ہے، یہاں تک کہ کارڈ مل جانے کے بعد بھی نہیں۔

اس طرح کی کئی پریشانیوں کو حل  کرنے کے لیے ڈبلیوپی سی نے ایک ایس اوپی سجھایا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ووٹر آئی ڈی کارڈ کو آدھار کارڈ کے متبادل کے طور پرقانونی  شناختی کارڈکے روپ میں قبول  کیا جانا چاہیے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ مزدور جن جانکاریوں  کو ساجھا کر رہے ہیں، اسے صحیح  مانا جائے بشرطیکہ وہ غلط ثابت نہ ہوں۔ جانکاریوں  کی صداقت کی جانچ کا بوجھ سرکار پر ہو نہ کہ کسی مزدور پر۔

آگے کہا کہ مزدوروں کے رجسٹریشن  میں سرکاری نظام کی وجہ سے کوئی دقت نہ ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ مزدوروں کی تنظیموں  کو رجسٹریشن کے عمل کا حصہ بنایا جائے تاکہ وہ  رجسٹریشن اور مزدوروں کی تصدیق  میں مدد کر سکیں اور سسٹم کی خرابی اس میں آڑے نہ آ سکے۔

انہوں نے آگے کہا، ‘جو مزدور کسی سرکاری پورٹل پر پہلے سے ہی رجسٹرڈ ہیں، انہیں دوبارہ رجسٹریشن کے لیے نہ کہا جائے اور نیشنل  ڈیٹابیس میں ان کا نام از خود ہی شامل کر لیا جائے۔ اس صورت میں مزدور کو یونک رجسٹریشن نمبر اسے ایس ایم ایس سے بھیج دیا جانا چاہیے یا اس فون نمبر پر اسے بتا دیا جانا چاہیئے جورجسٹرڈ ہے۔’

ڈبلیو پی سی نے کہا ہے کہ رجسٹریشن کیمپ  لگانے، مزدوروں کے دروازے پر جاکر رجسٹریشن کرنے جیسے کام  ریاستی/مرکزی حکومت کو کرنا چاہیے، نہ کہ رجسٹریشن کا سارا دارومدار مزدوروں پر چھوڑ دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی/ریاستی سرکار ایسا سسٹم بنائےکہ مزدوروں کو رجسٹریشن کےعمل کے بارے میں پوری جانکاری دی جا سکے، جیسے کہ انہیں رجسٹریشن کیوں کرانا چاہیے، اس سے انہیں کیا فائدہ ہوگا اور کون اس جانکاری  کا حقدار ہے۔

ورکنگ پیپلس چارٹر نے کہا کہ صوبہ/مرکز کو مدد کرنے کے لیے ایک سہ فریقی  صلاح کار کمیٹی کا قیام  ہو جو سماجی  تحفط  کے حق یقینی بنانے کے لیے مناسب منصوبہ  تیار کرے۔

بتا دیں کہ ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کرانے والے ہر غیرمنظم شعبے  کے مزدور کو 2 لاکھ روپے کا حادثاتی  بیمہ کور دینے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پورٹل پر رجسٹرڈاگر کوئی مزدورحادثے کا شکار ہوتا ہے، تو موت یا مستقل طور پرجسمانی معذوری  کی حالت  میں دو لاکھ روپے اور جزوی طور پر معذوری کا شکار ہونے پر ایک لاکھ روپے دیےجائیں گے۔

اس کے ساتھ ہی سرکار نے پورٹل پر رجسٹریشن کی مانگ کرنے والے مزدوروں کے سوالات کی مدد اور حل کے لیے نیشنل ٹول فری نمبر بھی جاری کیا ہے۔