دہلی فسادات: کیا دہلی پولیس ہے فیضان کی موت کی ذمہ دار

دہلی فسادات کے دوران سامنے آئے ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر پڑے کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔زخمیوں میں سے ایک فیضان کی موت ہو چکی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا ہے کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے […]

دہلی فسادات کے دوران سامنے آئے ایک ویڈیو میں کچھ پولیس اہلکار زمین پر پڑے کچھ زخمی نوجوانوں سے قومی ترانہ گانے کو کہتے دکھ رہے تھے۔زخمیوں میں سے ایک فیضان کی موت ہو چکی ہے۔ ان کی ماں کا کہنا ہے کہ پولیس کسٹڈی میں بےرحمی سے پیٹے جانے اور وقت پر علاج نہ ملنے سے ان کی جان گئی ہے۔

23 سال کے فیضان۔(سبھی فوٹو : دی وائر)

23 سال کے فیضان۔(سبھی فوٹو : دی وائر)

شمال مشرقی دہلی کے فسادات میں پولیس کے کردار پر لگاتارسوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ سماجی کارکنان سے لےکر شمال مشرقی دہلی کے کئی علاقوں کےباشندوں کا بھی کہنا ہے کہ پولیس نے فسادیوں کو روکنے کے لئے مناسب قدم نہیں اٹھائے۔

سوشل میڈیا پر وائرل کئی تصویروں کے بعد کئی لوگوں کا یہ بھی الزام ہے کہ پولیس پتھراؤ کرنے والی بھیڑ کے ساتھ کھڑی تھی۔ لیکن انہی فسادات میں 24 فروری کا ایک ویڈیو سامنے آنے کے بعد دہلی پولیس نئے سوالوں کے گھیرا میں آگئی ہے۔

اس ویڈیو میں پانچ نوجوان زخمی حالت میں زمین پر لیٹے ہوئےہیں اور قومی ترانہ گاتے دکھائے دے رہے ہیں۔ ان لوگوں کے چاروں طرف کم سے کم سات پولیس والے ہیں۔

ان میں سے دو پولیس اہلکار ان کے چہرے کی طرف لاٹھی لےجاتے ہوئے کہتا ہے، ‘اچھی طرح گا۔ ‘ اس ویڈیو میں پولیس ان کو بری طرح سے پیٹتی دکھ رہی ہے۔ فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوزنے اس ویڈیو کی تصدیق کی ہے۔

اس ویڈیو میں دکھ رہے تین جوانوں کے اہل خانہ سے دی وائرنے بات چیت کی ہے۔ یہ پانچوں نوجوان کردمپوری  محلے اور اس سے لگی ہوئی کچی کالونی کے ہی رہنے والے ہیں۔

کردمپوری باشندہ 23 سالہ فیضان کی اب موت ہو چکی ہے۔دہلی کے گرو تیغ بہادر (جی ٹی بی) ہسپتال میں گزشتہ27 فروری کو فیضان کی موت  کااعلان کر دیا گیا۔

فیضان کی ماں  کا الزام ہے کہ دہلی پولیس کے بےرحمی سے پیٹنے اور اس کے بعد دو دن تک کسٹڈی میں رکھنے کی وجہ سے علاج نہ مل پانے سے ہی فیضان کی موت ہوئی ہے۔

اپنے بیٹے کی تصویریں اور آدھار کارڈ دکھاتے-دکھاتے وہ رونے لگتی ہیں اور بتاتی ہیں،’جب میرے ایک جاننے والے نے مجھے بتایا کہ فیضان کوپولیس نے بہت مارا ہے اور اپنے ساتھ لے گئی ہے۔ مجھے خبر ملی تھی کہ سوموار (24فروری) کو اس کو جی ٹی بی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔ ‘

وہ آگے بتاتی ہیں،’وہاں اس کو کوئی پہچان کا ملا تو اس کو میرے بیٹے نے اپنی جیب سے 1500 روپے دئے اور کہا یہ میری ماں کو دے دینا اوران کو بتا دینا۔ خبر ملنے پر میں وہاں بھاگ‌کر گئی پر تب تک فیضان وہاں نہیں تھا۔اس کے بعد میں جیوتی نگر تھانہ گئی اور فیضان کی فوٹو دکھاکر اس کے بارے میں پوچھاکہ کیا یہ بچہ یہاں ہے انہوں نے حامی بھری۔ میں نے ان سے کہا اس کو چھوڑ دو یا کم سے کم دکھا تو دو پر انہوں نے منع کر دیا۔

فیضان کی ماں کا الزام ہے کہ انہوں نے دو دن میں کئی بارفیضان کو چھڑوانے کے لئے چکر کاٹے، پر پولیس نے نہ تو فیضان سے ملایا اور نہ ہی اس کو چھوڑا۔

فیضان کی ماں

فیضان کی ماں

فیضان کی ماں آگے کہتی ہیں، میں اگلے دن پھر صبح جلدی گئی اور ان سے بہت گڑگڑائی کہ میرے بچے کی کوئی غلطی نہیں ہے، وہ بہت اچھا لڑکاہے اس کو چھوڑ دو۔ انہوں نے کہا کہ اتناہی اچھا تو باہر کیا کر رہا تھا۔ پھر میں نے علاقے کے ایک وکیل گڈو چودھری سے کہا کہ میرے بچے کو چھڑوا دو۔ گڈو وکیل نےبھی ان کو فون کرکے کہا کہ اس کو چھوڑ دو۔

فیضان کی ماں کہتی ہیں کہ ان کو 26 فروری کی رات 11 بجےپولیس نے بلاکر کہا کہ اپنے بیٹے کو لے جاؤ۔

وہ کہتی ہیں، پولیس اسٹیشن سے اس کو لاتے-لاتے 1 بج گیا تھا۔ تب تک کوئی آس پاس کے ڈاکٹر کی کلینک نہیں کھلی تھی۔ بچہ صرف درد سےکراہ رہا تھا۔ اس کا پورا جسم نیلا تھا۔ پولیس والوں نے ڈنڈوں سے مار-مار‌کر اس کاجسم توڑ دیا تھا۔ وہ بہت پریشان تھا۔ نہ اس سے اٹھا جا رہا تھا نہ لیٹا جا رہاتھا۔

انہوں نے بتایا فیضان کو صبح پاس کے ہی ڈاکٹر شیروانی کےپاس لے جایا گیا جہاں ڈاکٹر نے ان کی حالت بہت نازک بتاتے ہوئے بڑے ہسپتال لےجانے کو کہا۔

فیضان کی ماں بتاتی ہیں کہ بہت کہنے کے بعد بھی ان کوپولیس نے کوئی کاغذ نہیں دیا کہ فیضان کو پولیس اسٹیشن سے رہا کیا گیا ہے۔

جی ٹی بی ہسپتال میں بھرتی کئے جانے سے پہلے فیضان کی ماں سے پرچی مانگی گئی تھی کہ فیضان کہاں سے آیا ہے۔ کچھ لوگوں کی مدد کے بعدڈاکٹر نے فیضان کو بھرتی کیا۔

وہ آگے بتاتی ہیں، جی ٹی بی ہسپتال میں نہ بچےکوگلوکوز چڑھ پایا اور نہ ہی کوئی دوا دی جا سکی۔ اس نے 11 بجے دم توڑ دیا۔ میں وہاں روتی رہی، کہتی رہی کہ اس کو کوئی دوا دے دو، اس کو آرام مل جائے اور سو جائے، پرڈاکٹر نے بتایا کہ اگر ایسی کوئی دوا دی تو وہ سوتا رہے‌گا۔

وہ کہتی ہیں، اس کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے باہر نکال دیااور بچے کو کہیں ڈال دیا۔ بہت محنت سے پالا تھا اس کو، پائی-پائی جوڑ‌کر یہ دوکمرے کا مکان بنایا تھا۔ اب کچھ نہیں بچا۔

ان کی پڑوسن ملکہ بھی کہتی ہیں کہ فیضان بہت اچھا لڑکاتھا، کوئی عیب نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا جب ہم نے ویڈیو دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ ہمارا فیضان ہی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے جانے کے بعد  محلے کے کئی لڑکوں کے دل میں خوف بیٹھ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اس ویڈیو میں رفیق کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ کردمپوری کی گلی نمبر 14 میں رہتے ہیں۔ قریب ہفتہ بعد رفیق کی حالت چلنے-پھرنے کی ہوئی تھی۔

جب ہم وہاں پہنچے تو رفیق ڈریسنگ کرواکر ہی لوٹ رہے تھے۔انہوں نے بتایا،ہمیں پولیس والے بری طرح سے پیٹ رہے تھے۔ میں تو بس اپنےگھروالوں کو دیکھنے گیا تھا۔ پبلک پولیس کے پیچھے سے ہی پتھراؤ کر رہی تھی۔

رفیق آگے کہتے ہیں، ہمیں یہ نہیں پتہ وہ پولیس والےکہاں کے تھے۔ وہ ہم سے کہہ رہے تھے کہ آزادی چاہیے یہ لو آزادی۔ ہم سے زبردستی قومی ترانہ گانے کو کہا گیا تھا۔ اس کے بعد مجھے اتنا پیٹا گیا کہ مجھے ہوش نہیں رہا۔

رفیق کہتے ہیں، اس کے بعد جیوتی نگر تھانہ سے جپسی آئی اور ہمیں ہسپتال لے گئی اور پھر دو دن پولیس اسٹیشن میں رکھا۔ باہر خراب حالت ہونےکی وجہ سے ہمیں تھانہ میں ہی رکھا گیا۔

رفیق۔

رفیق۔

رفیق کی پولیس اسٹیشن سے ہاسپٹل لے جانے والی بات کی تصدیق آس-پڑوس کا کوئی آدمی نہیں کرتا۔ ان کی گلی میں رہنے والے آصف کہتے ہیں کہ رفیق اور دیگر لڑکوں کو پولیس نے ڈرایا دھمکایا ہے۔ ان کو پولیس اسٹیشن میں ماراگیا تھا۔ فیضان کی موت کے بعد یہ معاملہ دبانے کی کوشش ہوئی ہے۔

سونو بھی اسی  محلے میں رہتے ہیں۔ وہ بھی بتاتے ہیں کہ گلی میں لوگ متاثرین  کا گھر بتانے سے بھی ڈر رہے ہیں۔ کئی میڈیاوالے اسی وجہ سے واپس چلے گئے۔

آگے جاکر ایک تنگ گلی میں کوثر علی کا گھر ہے۔ کوثر علی بھی اس ویڈیو میں دکھ رہے ہیں، جن کو پولیس نے مارا ہے۔کوثر شادی شدہ ہیں اور کرائے کے مکان میں اپنی بیوی اوربیٹے کے ساتھ رہتے ہیں۔

جب ہم اس ایک کمرے کے گھر میں پہنچے، تب کوثر کی بیوی سینٹ اسٹیفینس ہسپتال میں بھرتی کوثر کو کھانا بھجوانے کی تیاری کر رہی تھیں۔

ان کی بیوی نے بتایا، معاشی تنگی کو کسی طرح جھیل رہے تھے کہ یہ مصیبت اور سر پر آ گئی۔ میرے شوہر پینٹ کا کام کرتے ہیں۔ روز کماتےہیں اور اسی یومیہ مزدوری  سے گھر کا خرچ چلتا ہے۔ اب ان کے ہاتھ اور پیر دونوں ٹوٹ گئےہیں۔ سر پر ٹانکے آئے ہیں۔ ہمارا کمانے-کھانے کا ذریعہ ختم ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ سر پر آئی چوٹ کی وجہ سے کوثر بار باربیہوش ہو جا رہے ہیں اور بات نہیں کر سکتے ہیں۔

وہ بتاتی ہیں، جب ہم ان کو جی ٹی بی ہسپتال لےکر گئےتھے، تو ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ ایک دم ٹھیک ہیں۔ پر بعد میں درد میں آرام نہیں ملا،یہ رات بھر کراہتے رہے اور پھر سینٹ اسٹیفینس ہسپتال لے گئے، جہاں پتہ چلا جسم میں کئی ہڈیاں ٹوٹی ہیں، پسلیوں میں چوٹ ہیں اور سر پر بھی ٹانکے آئے۔

ان کے پڑوسی گلفام بتاتے ہیں کہ کوثر کام سے لوٹ رہے تھےجب پولیس نے ان کو پکڑ لیا اور بےرحمی سے پیٹا۔وہ کہتے ہیں کہ ہم سب پڑوسی مل‌کر اس صورت حال سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جب ہم نے اس بارے میں دہلی پولیس سے پوچھا، تب ایس ایچ او اور تفتیشی اہلکار نے فون پر کہا کہ اس بارے میں صرف ڈی سی پی ہی بات کر سکتے ہیں اور کوئی پولیس افسر بات نہیں کر سکتا ہے۔

شمال مشرقی دہلی کے ڈی سی پی وید پرکاش سوریہ کے دفترمیں دی وائر کی ٹیم نے ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کیا، پر کسی بھی افسر نے بات نہیں کی۔پولیس کی طرف سے کوئی جواب ملنے پر اس کو اس رپورٹ میں جوڑا جائے‌گا۔