دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دارالحکومت کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کے انقلاب کو سنا ہے، جب انہوں نے بہری کانگریس حکومت کے خلاف بم پھینکا تھا۔ عام آدمی پارٹی نے ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ریکھا گپتا نے تاریخ کا ایک ‘اپڈیٹیڈ’ ورژن پیش کیا ہے۔

دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رہنماؤں نے منگل (6 جنوری) کو دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاریخ کا ‘ری-مکس’ بنا رہی ہیں۔ ان کا یہ ردعمل اس وقت آیا، جب گپتا نے اسی دن اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران مبینہ طور پر مجاہد آزادی بھگت سنگھ کا ذکر کرتے بعض غلط حقائق پیش کیے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق ، دہلی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران ریکھا گپتا نے کہا کہ بھگت سنگھ اور ان کے ساتھیوں نے ‘بہری کانگریس سرکار’ کے خلاف بم پھینکا تھا – جبکہ وہ اس وقت ہندوستان میں برطانوی حکومت کے خلاف لڑ رہے تھے۔
وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ نادانستہ بتایا جارہاہے۔ اس کے بعد عآپ ایم ایل اے سنجیو جھا نے اسے ‘تاریخ کا اپڈیٹیڈ ورژن’ قرار دیا۔
جھا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ،’آج دہلی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے تاریخ کا ایک نیا ‘اپڈیٹیڈ ورژن’ پیش کیا ہے۔ انگریزوں کے خلاف لڑنے والے شہید اعظم بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو اب کانگریس حکومت کے خلاف بم پھینکنے والابتایا جا رہا ہے۔’
براڑی سے ایم ایل اے سنجیو جھا نے مزید کہا کہ اب تاریخ ‘ری مکس موڈ’ میں چل رہی ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ‘اگلی بارشایدہم یہ بھی سن سکتے ہیں کہ چندرگپت موریہ نے گاندھی جی کی ہدایت پر اپنی سلطنت کو وسعت دی تھی۔’
عآپ کے دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے بھی چیف منسٹر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ‘ملک کو شرمسار کر دیا ۔’
Big Big Breaking
CM Rekha Gupta embarrasses India
रेखा गुप्ता जी को यह भी नहीं पता कि शहीद भगत सिंह आज़ादी से पहले के समय के क्रांतिकारी थे ।
उन्हें लगता है कि आज़ादी के बाद कांग्रेस के विरोध में उन्होंने बम्ब फेंका ।
स्कूल के बच्चे भी जानते हैं कि शहीद भगत सिंह ने 1929… pic.twitter.com/HkuI8L8BF3
— Saurabh Bharadwaj (@Saurabh_MLAgk) January 6, 2026
انہوں نے کہا، ‘اسکول کے بچے بھی جانتے ہیں کہ شہید بھگت سنگھ نے 1929 میں برطانوی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج درج کرانے کے لیے سنٹرل اسمبلی میں بم پھینکا تھا۔’
ریکھا گپتا نے کیا کہا
منگل کو بجٹ اجلاس کے دوران دہلی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے دارالحکومت کی تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے مہابھارت کے حوالے سے شروعات کی، پرتھوی راج چوہان جیسی تاریخی شخصیات کا ذکر کیا، اور پھر 1929 میں بھگت سنگھ اور بٹوکیشور دت کے ذریعے سنٹرل اسمبلی پرپھینکے گئے بم کی بات کہی۔
انہوں نے کہا، ‘دہلی نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کے انقلاب کو سنا ہے، جب انہوں نے بہری کانگریس حکومت کے خلاف بم پھینکا تھا۔’
یہ بیان اسمبلی کے سرکاری ویب کاسٹ کے تقریباً 1 گھنٹہ 45 منٹ پر درج ہے۔
عآپ کی جانب سےکیے گئے ان تبصروں پرنہ تو وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا اور نہ ہی دہلی حکومت کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے آیا ہے۔
عآپ کے ممبران اسمبلی کے لیے ‘نو انٹری‘!
دریں اثنا، عام آدمی پارٹی نے بدھ (7 دسمبر) کو الزام لگایا کہ ایم ایل اے سنجیو جھا، کلدیپ کمار اور جرنیل سنگھ کو دہلی اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔
عآپ ایم ایل اے سنجیو جھا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا ،’کل دہلی اسمبلی میں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے کہا کہ بھگت سنگھ نے برطانوی راج کے خلاف نہیں بلکہ بہری کانگریس حکومت کے خلاف بم دھماکہ کیا تھا۔ بھگت سنگھ وہ انقلابی تھےجنہوں نے انگریزوں کے خلاف دہلی کی سنٹرل اسمبلی میں بم دھماکہ کیا اور ان کے خلاف لڑائی لڑی۔’
انہوں نے مزید کہا،’آج دہلی پولیس ہم منتخب ایم ایل اے کو ایوان میں داخل ہونے سے روک رہی ہے۔ یہ لوگ انگریزوں کے پٹھو، جو جمہوریت پر حملہ کر رہے ہیں؟ ہم صرف سوال کر رہے ہیں، شہید بھگت سنگھ کی توہین کرنے والوں معافی مانگو!’
وہیں، عام آدمی پارٹی نے کہا کہ بی جے پی حکومت میں آمریت کی حدیں پار ہو گئی ہیں۔
پارٹی کے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک پوسٹ میں کہا گیا ہے ،’ ریکھا گپتا سرکار کے فرضی واڑے خلاف مضبوطی سے آواز اٹھانے کی وجہ سےبی جے پی کی دہلی پولیس عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی کو اسمبلی احاطے میں بھی جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ انہیں سڑک پر ہی روکا جا رہا ہے۔’
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ، عآپ کے تین ممبران اسمبلی کو اسپیکر نےسوموار کو دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے باقی تین دنوں کے لیے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی تقریر میں خلل ڈالنے کے الزام میں معطل کر دیا تھا۔
