کووڈ 19: آر ٹی آئی کارکن نے آلات پر ہو ئے خرچ کی تفصیلات پوچھی، وزارت صحت نے انکار کیا

04:03 PM May 31, 2020 | دی وائر اسٹاف

ممبئی کے ایک آر ٹی آئی کارکن نےمرکزی حکومت کے پورٹل پر آن لائن درخواست دائر کرکے کووڈ 19 کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئےا قدامات، خریدے گئے آلات اور سامانوں کے نام اور ان پر کئے گئے خرچ کی تفصیلات پوچھی تھی۔

(فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مرکزی وزارت صحت نے ملک میں کووڈ 19سے نپٹنے کے لیے آلات کی خریداری  پر کئے گئے خرچ کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ایسےاعدادوشمار آر ٹی آئی ایکٹ  کے تحت دی جانے والی‘جانکاری’کے دائرے میں نہیں آتے ہیں۔ممبئی کے آر ٹی آئی کارکن انل گلگلی نے مرکزی حکومت کے پورٹل پر آن لائن درخواست دائر کرکے کووڈ 19 کے انفیکشن کو پھیلنے سے روکنے کے لیے اٹھائے گئےا قدامات، خریدے گئے آلات اور سامانوں کے نام اور ان پر کئے گئے خرچ کی تفصیلات پوچھی تھی۔

یہ درخواست وزارت صحت  کے سی پی آئی او کو سونپی گئی۔

آر ٹی آئی درخواست  کے 22 دن بعد گلگلی کو جواب ملا، جس میں کہا گیا تھا کہ سی پی آئی اووزارت کے تحت آنے والی پبلک سیکٹرکی کمپنی ایچ ایل ایل لائف کیئر لمٹیڈ سے جڑے معاملوں کو دیکھتے ہیں۔

جواب میں کہا گیا ہے، ‘سی پی آئی اوکو ایسی جانکاری دینے کی ضرورت نہیں ہے جس میں دخل دینے اور/یا تصور کرنے یا درخواست گزارکے ذریعے اٹھائے گئے مسائل کوحل کرنے یا فرضی سوالوں  کا جواب دینے کی ضرورت پڑتی ہو۔ مانگی گئی جانکاری آر ٹی آئی قانون، 2005 کی دفعہ 2(ایف)کے تحت جانکاری کی تعریف  کے دائرے میں نہیں آتی ہے۔ اس لیے سی پی آئی او کے پاس دینے کے لیے ایسی کوئی خاص جانکاری نہیں ہے۔’

آر ٹی آئی ایکٹ کی دفعہ 2(ایف)کے مطابق، شفافیت سے متعلق قانون کے تحت کوئی بھی شہری  جو جانکاری  مانگ سکتا ہے، وہ ریکارڈ، دستاویز، میمو، ای میل، رائے، صلاح، پریس ریلیز،سرکلر، آرڈر، لاگ بک، معاہدے، رپورٹ، کاغذات، نمونے، ماڈل، کسی بھی الکٹرانک صورت میں ڈیٹا مواد اور کسی نجی یونٹ سے جڑی ایسی جانکاری  ہے جس کو کوئی عوامی اتھارٹی  کچھ وقت کے لیے کسی دوسرے متعلقہ قانون کے تحت حاصل کر سکتا ہے۔

آر ٹی آئی قانون کے مطابق، اگر سی پی آئی او کے پاس جانکاری نہ ہو تو انہیں دفعہ 6 (3) کے تحت اس درخواست کو اپنے معاون  کے پاس بھیجنا چاہیے جس سے اس عرضی کے ملنے کے پانچ دنوں کے اندر جانکاری اکٹھاکرنے کی امید کی جاتی ہے۔

گلگلی نے کہا کہ یہ سی پی آئی او کا ‘غیر پیشےور’ رویہ ہے اور اگر ایسا ہی تھا تو اس نے جانکاری  دینے سے منع کرنے میں 22 دن کیوں لگائے؟انہوں نے کہا، ‘یہ جانکاری  نہ صرف آر ٹی آئی کے ذریعے دی جانی چاہیے بلکہ سبھی مالی تفصیلات کو اپنی ویب سائٹ پر بھی ڈالنا چاہیے تاکہ کسی کو خرچ جاننے کے لیے آر ٹی آئی دینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔’

(خبررساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)