خاتون نے ڈانس ڈائریکٹر گنیش آچاریہ پر جبراً فحش ویڈیو دکھانے کا الزام لگایا، مقدمہ درج

06:07 PM Jan 30, 2020 | دی وائر اسٹاف

 پیشے سے اسسٹنٹ ڈانس ڈائریکٹرخاتون نے گنیش آچاریہ پر مارپیٹ کرنےاور فلم انڈسٹری میں کام دلانے کے لئے کمیشن مانگنے کا بھی الزام لگایا ہے۔ خاتون نے نیشنل کمیشن فار وومین (این سی ڈبلیو)ن کو خط لکھا ہے۔

گنیش آچاریہ(فوٹو بہ شکریہ: ٹوئٹر)

نئی دہلی: مشہور ڈانس ڈائریکٹر گنیش آچاریہ پر ایک خاتون نے جبراً فحش ویڈیو دکھانے کا الزام لگاتے ہوئے این سی ڈبلیو کو خط لکھا ہے۔پیشے سے اسسٹنٹ ڈانس ڈائریکٹر خاتون کا الزام ہے کہ وہ جب بھی آچاریہ کے اندھیری واقع ان کے دفتر جاتی تھی، وہ ان کو فحش ویڈیو دیکھنے کو مجبور کرتےتھے۔خاتون نے امبولی پولیس تھانہ میں درج شکایت میں الزام لگایا ہے کہ گنیش آچاریہ اور دو خواتین نے اتوار کو اندھیری میں منعقد انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن کاریوگرافرز ایسوسی ایشن (آئی ایف ٹی سی اے)کے پروگرام کے دوران اس سےمارپیٹ کی تھی۔

نیشنل فلم ایوارڈ یافتہ گنیش آچاریہ انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن کاریوگرافرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری بھی ہیں۔پولیس افسر نے منگل کو کہا کہ متاثرہ خاتون نے آچاریہ(48)کے علاوہ دو دیگر خواتین جئےشری کیلکر اورپریتی لاڈ پر بھی مارپیٹ کا الزام لگایا ہے۔ یہ دونوں خواتین آچاریہ کی کاریوگرافی ٹیم کی ممبر ہیں۔

وہیں جئے شری کیلکر اور لاڈ نے متاثرہ خاتون کے خلاف امبولی پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔خاتون نے این سی ڈبلیو کو لکھے خط میں کہا ہے کہ وہ جب بھی گنیش آچاریہ کے دفتر جاتی تھیں، آچاریہ ان کو قابل اعتراض ویڈیو دیکھنے کو مجبور کرتےتھے۔امبولی تھانہ میں درج شکایت میں خاتون نے کہا ہے کہ گنیش آچاریہ فلم انڈسٹری میں کام دلانے کے لئے اس سے کمیشن مانگتے تھے۔

ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ خاتون نے امبولی پولیس تھانہ میں دو پیج کی پہلی شکایت 26 جنوری کو درج کرائی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہو گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ گنیش آچاریہ نے بھی متاثرہ خاتون کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ وہیں، متاثرہ خاتون نے دوسری شکایت میں کہا ہے کہ انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن کاریوگرافرز ایسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری بننے کے بعد آچاریہ نے ان سے ہر ورک اسائنمنٹ کے لئے 500 روپے مانگے۔ وہ جب بھی ان کے آفس گئیں، ان کو فحش ویڈیو دکھایا گیا اور آچاریہ کے ساتھ پورن ویڈیو دیکھنے کو مجبور کیا گیا۔

خاتون کا کہنا ہے کہ یہ سب کرنے سے منع کرنے کے بعد ان کو آئی ایف ٹی سی اے کی رکنیت سے ہٹا دیا گیا۔متاثرہ خاتون آئی ایف ٹی سی اے کی ممبر تھیں۔خاتون نے کہا کہ آئی ایف ٹی سی اے کے ایک پروگرام میں ان کے پہنچنےپر گنیش آچاریہ ان پر چلائے۔امبولی پولیس کے سینئر افسر سومیشور کامتھ نے کہا، ‘ ہم نے منگل کو شکایت گزار خاتون کو بلایا تھا، لیکن انہوں نے کہا کہ وہ ہمارے پاس آنے سے پہلےاین سی ڈبلیو میں شکایت درج کروائیں‌گی۔ ‘

گنیش آچاریہ نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا، ‘یہ خاتون آئی ایف ٹی سی اے ڈانس ایسوسی ایشن کی ممبر بھی نہیں ہیں، جیسا کہ دعویٰ کر رہی ہیں۔میں بڑی مشکل سے ہی ان کو جانتا ہوں۔ میں ان کو اکیلے اپنے آفس بلاکر پورن ویڈیو کیوں دکھاؤں‌گا۔ ‘انہوں نے کہا، ان کو ثبوت دینے دیجئے، میں ان کے خلاف ہتک عزت کامعاملہ درج کروں‌گا۔ میرے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ 26جنوری کے پروگرام سے میں چلا گیا، جس کے بعد خاتون کی دو دیگر خاتون ممبروں کے ساتھ ہاتھا پائی ہوئی تھی۔ ‘

انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق، اس سے پہلے سینئر کاریوگرافر سروج خان نے گنیش آچاریہ پر اپنے ڈانسرز کا استحصال کرنے اور سنے ڈانسرس ایسوسی ایشن(سی ڈی اے)کو بدنام کرنے کے لئے اپنے عہدے کا استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا۔حالانکہ، آچاریہ نے خان کے ذریعے لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔بتا دیں کہ اداکارہ تنوشری دتا نے نانا پاٹیکر پر جنسی استحصال کاالزام لگایا تھا۔ انہوں نے کاریوگرافر گنیش آچاریہ،’ہارن اوکے پلیز’کے ہدایتکار راکیش سارنگ اور پروڈیوسر سمیع صدیقی پر ان کے خلاف ہوکر خاموش رہنے اورمداخلت نہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

تنوشری کی فلم ‘ ہارن اوکے پلیز’کے جس گیت میں تنوشری اور نانانظر آنے والے تھے، اس کے کاریوگرافر گنیش آچاریہ ہی تھے۔ تب گنیش آچاریہ نےتنوشری کے ذریعے لگائے الزامات کو خارج کیا تھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کےساتھ)