جانیے ،کیا ہےسی بی آئی تنازعے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

04:57 PM Jan 08, 2019 | دی وائر اسٹاف

سی بی آئی تنازعہ: سی بی آئی چیف آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجے جانے کے بعد اپوزیشن حکومت پر حملہ آور ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ راکیش استھانا کو بچانے اور رافیل سودے کی جانچ سے بچنے کے لیے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔

علامتی تصویر/ فوٹو : پی ٹی آئی

نئی دہلی: سی بی آئی میں مچے گھماسان کو لےکر حزب مخالف جماعتوں نے حکومت پر حملہ آور رخ اپناتے ہوئے اس پر جانچ  ایجنسی کے کام کاج میں دخل دینے کا الزام لگایا ہے۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے بدھ کو الزام لگایا کہ سی بی آئی چیف آلوک ورما کو زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا کیونکہ وہ رافیل گھوٹالے کے کاغذات اکٹھا کر رہے تھے۔ غور طلب ہے کہ سی بی آئی ڈائریکٹر ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا کے درمیان چل رہی تکرار کو لےکر، دونوں افسروں سے سارے حقوق واپس لے لئے گئے ہیں اور ان کو چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

راہل نے ایک ٹوئٹ میں کہا، ‘ سی بی آئی چیف آلوک ورما رافیل گھوٹالے کے کاغذات اکٹھا کر رہے تھے۔ ان کو زبردستی چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ وزیر اعظم کا پیغام ایک دم صاف ہے جو بھی رافیل کے ارد گرد آئے‌گا-ہٹا دیا جائے‌گا۔ ‘ کانگریس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ ورما کو ہٹاکر مودی حکومت نے سی بی آئی کی آزادی میں  ‘آخری کیل ‘ ٹھونک دی ہے۔ سی پی ایم  کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے ایجنسی کے ڈائریکٹر آلوک ورما کو چھٹی پر بھیجنے کے مرکزی حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی بتایا ہے۔

یچوری نے مودی حکومت پر سی بی آئی میں اپنے چہیتے افسر کو بچانے کے لئے ورما کے خلاف کارروائی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ٹوئٹ کیا ‘ مودی حکومت کے ذریعے اپنے اس چہیتے افسر کو بچانے کے لئے سی بی آئی چیف کو غیر قانونی طریقے سے ہٹایا گیا ہے، جس پر بد عنوانی کے سنگین الزامات کی تفتیش چل رہی تھی۔ ‘ انہوں نے تنازعہ کے گھیرے میں آئے سی بی آئی کے اسپیشل  ڈائریکٹر راکیش استھانا کا نام لئے بنا الزام لگایا کہ یہ کارروائی مذکورہ افسر کی بی جے پی میں اعلیٰ قیادت کے ساتھ تعلقات کو محفوظ طریقے سے چھپانے کے لئے کی گئی ہے۔

بی ایس پی  سپریمو  مایاوتی نے پورے واقعے کو تشویشناک بتاتے ہوئے سپریم کورٹ سے سی بی آئی کے بھروسے کو بحال کرنے کے لئے موجودہ تنازعے پر تفصیل سےنوٹس لینے کی گزارش  کی ہے۔ انھوں  نے کہا کہ مرکز ی حکومت کی نفرت سے بھری ، نسل پرست اور فرقہ پرستی پر مبنی پالیسیوں اور سرگرمیوں نے سی بی آئی سمیت ہر آئینی اور خود مختار اداروں کو بحران میں ڈال رکھا ہے۔

دہلی  کے وزیراعلیٰ اور عآپ رہنما اروند کیجریوال نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کیا، ‘ سی بی آئی ڈائریکٹر کو چھٹی پر بھیجنے کے پیچھے کی وجہ کیا ہے؟ لوک پال قانون کے تحت منتخب کی گئی ایک جانچ  ایجنسی کے چیف کے خلاف کارروائی کرنے کا حق مودی حکومت کو کس قانون کے تحت ملا۔ مودی کیا چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

‘  مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ سی بی آئی بی جے پی کی تفتیش ایجنسی بن گئی ہے۔ انہوں نے ٹوئٹ کیا، ‘ سی بی آئی اب نام نہاد بی بی آئی (بی جے پی بیورو آف انویسٹی گیشن) بن گئی ہے، جو کہ افسوس ناک ہے۔ ‘

راشٹریہ جنتادل (آرجے ڈی)کے رہنما اور بہار کے سابق ڈپٹی سی ایم تیجسوی یادو نے اس معاملے میں کہا ہے کہ سی بی آئی ،بھارتیہ جنتا پارٹی کی شہ پر بدعنوانی میں ملوث لوگوں کو بچانے کی ایک تنظیم بن چکی ہے۔

اس دوران، اس پورے معاملے  پر حکومت کی طرف سے کہا گیا کہ سی بی آئی ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل  ڈائریکٹر راکیش استھانا کو ہٹانے کا فیصلہ سی وی سی کی سفارشوں کی بنیاد پر لیا گیا اور ایجنسی کی ادارہ جاتی ایمانداری اور بھروسے کو قائم رکھنے کے لئے یہ انتہائی ضروری تھا۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے حکومت کا فریق رکھتے ہوئے بتایا کہ سی وی سی نے یہ سفارش گزشتہ شام کو کی تھی۔ جیٹلی نے کہا کہ ملک کی سب سے اہم جانچ  ایجنسی کے دو اعلیٰ افسروں کی الزام تراشی کی وجہ سے بہت ہی عجیب اور افسوس ناک حالات بنے ہیں۔ یہ حالات عام  نہیں ہیں اور ملزمین کو ان کے ہی خلاف کی جا رہی جانچ  کا چیف نہیں ہونے دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ الزامات کی جانچ  اسپیشل جانچ  ایجنسی کرے‌گی اور عبوری اقدامات کے طور پر دونوں کو چھٹی پر رکھا جائے‌گا۔ وزیر خزانہ نے کانگریس سمیت حزب مخالف جماعتوں کے ان الزامات کو بھی خارج کیا جس میں کہا گیا کہ ورما کو اس لئے ہٹایا گیا کیونکہ وہ رافیل لڑاکو ہوائی جہاز ڈیل  کی جانچ  کرنا چاہتے تھے۔ جیٹلی نے کہا کہ ان الزامات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ان کو (حزب مخالف جماعتوں کو) یہ بھی پتا چل رہا تھا کہ متعلقہ افسر کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔ اس سے اس آدمی کی ایمانداری پر اپنےآپ ہی سوال کھڑے ہوتے ہیں، جس کی  وہ حمایت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عام آدمی پارٹی نے سی بی آئی  میں جاری گھماسان کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی حکومت پر ملک کی اہم ترین جانچ ایجنسی کو پوری طرح سے تباہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ آپ کے ترجمان راگھو چڈھا نے بدھ کو سی بی آئی میں عبوری ڈائریکٹر کی تعیناتی اور موجودہ ڈائریکٹر آلوک ورما کے ذریعے اس فیصلے کو سپریم کورٹ  میں چیلنج دینے سے پیدا تنازعہ کو افسوس ناک بتایا۔ چڈھا نے ٹوئٹ کر کہا ‘ مودی-شاہ حکومت میں سی بی آئی سے زیادہ تباہی کسی دوسرے ادارہ کی نہیں ہوئی۔ ‘

ویڈیو : ملک کی سب سے بڑی جانچ ایجنسی میں آخر کیوں مچا ہے گھماسان؟

انہوں نے سی بی آئی کو جانچ کرنے والے ادارہ کے بجائے دھمکانے والے ادارہ میں تبدیل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جانچ ایجنسی آج پوری طرح سے ٹھپ ہو گئی اور اس حالت سے اس کو بحال ہونے میں اب لمبا راستہ طے کرنا پڑے‌گا۔ عآپ کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے سی بی آئی کے تازہ واقعے کو رافیل معاملے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اپنے قریبی افسر راکیش استھانا کو بچانے کے لئے قانون کو طاق پر رکھ‌کر سی بی آئی چیف کو ہٹا دیا۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پوچھا ‘ مودی جی، رافیل معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کا خطرہ تو نہیں تھا؟ ‘

قابل ذکر ہے کہ رافیل معاملے میں بد عنوانی کا الزام لگانے پر سنگھ کے خلاف ہتک عزت کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ سنگھ نے اس معاملے میں ای ڈی سے ان کو ملے ایک جوابی خط کو سوشل میڈیا پر شیئر  کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ‘ سی وی سی کا خط، رافیل معاملے میں میری شکایت کو منظور کرتے ہوئے معاملہ ڈیفنس سکریٹری کے پاس بھیجا ہے، سی بی آئی کے پاس بھی رافیل کی بد عنوانی کی شکایت تھی۔ جانچ کے ڈر سے مودی نے سی بی آئی چیف کو ہٹایا۔ ‘

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)

The post جانیے ،کیا ہےسی بی آئی تنازعے پر سیاسی رہنماؤں کا ردعمل appeared first on The Wire - Urdu.