شہریت قانون: ’پولیس نے سیدھے سر میں گولی ماری تاکہ وہ بچ نہ سکیں‘

اترپردیش کے فیروزآباد میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران زخمی محمد شفیق نئی دہلی کے صفدر جنگ ہاسپٹل میں زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے ہیں۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ گزشتہ20 دسمبر کو گھر لوٹنے کے دوران پولیس نے ان کے سر میں گولی مار دی تھی۔

اترپردیش کے فیروزآباد میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران زخمی محمد شفیق نئی دہلی کے صفدر جنگ ہاسپٹل میں زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے ہیں۔اہل خانہ کا الزام ہے کہ گزشتہ20 دسمبر کو گھر لوٹنے کے دوران پولیس نے ان کے سر میں گولی مار دی تھی۔

فوٹو: دی وائر

فوٹو: دی وائر

نئی دہلی: شہریت قانون کی مخالفت میں اترپردیش  میں ہوئے مظاہرے میں زخمی ہونے والوں میں فیروزآباد کے محمد شفیق بھی ہیں۔ گولی ان کے سر میں لگی جس کے بعدسے  ہی وہ بے ہوشی کی  حالت میں ہیں۔ اس وقت دہلی واقع صفدرجنگ ہاسپٹل میں وہ زندگی اور موت کے بیچ جھول رہے ہیں۔

بتا دیں کہ، شہریت  قانون کے خلاف ہوئے مظاہرے میں ملک بھر میں اب تک 25 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ اس میں سے کم سے کم 18 لوگوں کی موت اکیلے اتر پردیش  میں ہوئی ہے۔گزشتہ19 دسمبر کو الگ الگ گروپوں کےذریعے ملک بھر میں مظاہرے کی اپیل کی گئی تھی۔ اس دوران اتر پردیش میں لکھنؤ میں ہوئے تشدد کے بعدصرف ایک موت ہوئی تھی۔ حالانکہ، پولیس اہلکاروںسمیت کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔

گزشتہ19 دسمبر کی شام کو اتر پردیش  کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نےمیڈیا سے بات کرتے ہوئے مظاہرے کے دوران تشدد کرنے والوں پر کارروائی کی بات کی اور کہا کہ وہ  بدلہ لیں گے۔ اس کے بعد 20 دسمبر سے ہی اتر پردیش  کے الگ الگ ضلعوں میں تقریباً 18 لوگ مارے جا چکے ہیں۔

فیروزآبادکے رہنے والے 38 سالہ شفیق کی 33 سالہ بیوی رانی نے بتایا، ‘میرے شوہر چوڑی کے کارخانے میں کام کرتے ہیں۔تقریباً چار بجے کے آس پاس وہ کام سے واپس آ رہے تھے۔ راستے میں پولیس کی جپسی کھڑی تھی، انہوں نے دو موٹرسائکل کو گرا دیا۔ اسی دوران بھگدڑ ہوئی۔ ایک ساتھ ڈھیر ساری گولیاں چلنے لگیں اور اسی میں ان کے دماغ پر گولی ماری گئی۔ انہیں پولیس کی گولی لگی۔ وہ وہیں پر گر گئے۔ میرے دیور نے یہ سب دیکھا اور وہ  فوراً موٹر سائکل سے انہیں ٹراما سینٹر لے گئے اور وہاں سے انہیں آگرہ بھیج دیا گیا۔’

انہوں نے کہا، ‘آگرہ میں بھی کوئی ہاسپٹل بھرتی کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ہم کافی دیر پریشان رہے۔ کچھ لوگوں کی مدد کے بعد جیجی ہاسپٹل میں بھرتی کرایا گیا تو بھی وہاں کوئی دیکھنے کو تیار نہیں تھا۔ 24 گھنٹے وہ ایسے ہی پڑے رہے۔ بہت منتوں کے بعد دوپہر میں آکر ایک ڈاکٹر نے انہیں دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پولیس کا معاملہ ہے ہم نہیں لیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ پولیس نے کیس لینے سے منع کیا ہے۔’

رانی نے کہا، ‘آگرہ سے ریفر کرنے کے بعد ہم انہیں صفدرجنگ ہاسپٹل میں لے آکر گئے۔ یہاں ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ بہت نازک حالت ہے اور بچنے کے امکانات کم ہیں۔ ڈاکٹر بتا رہے ہیں کہ گولی ٹوٹ کر دماغ میں بکھر گئی ہے۔ انہیں ابھی تک ہوش نہیں آیا ہے۔ گولی لگنے کے بعد سے کوئی بات نہیں ہو سکی ہے۔ آج تک یوپی انتظامیہ سے کوئی رابطہ نہیں کرنے آیا۔’

وہ کہتی ہیں، ‘پولیس کو گولی مارتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ اگر وارننگ دینی تھی تو پیر میں گولی مارتے لیکن سیدھے سیدھے سر میں گولی ماری ہے تاکہ بچ بھی نہیں سکے۔ میں بس اتنا جاننا چاہتی ہوں کہ کام سے سیدھے گھر آ رہے آدمی پر پولیس نے گولی کیوں چلائی۔’انہوں نے کہا، ‘مجھے میرا شوہر چاہیے۔ انہیں اچھے سے اچھا دماغ کا ڈاکٹر ملنا چاہیے، اچھا علاج ملنا چاہیے۔ میری ایک بیٹی ہے 13 سال کی، ان کے سوا میرا کوئی سہارا نہیں ہے۔ مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی ہے۔ وہ کچھ بولتے نہیں ہیں۔’

رانی کہتی ہیں، ‘میرے شوہر کے ساتھ آگرہ کے اسپتال میں سات لڑکے زخمی ہوکر آئے تھے۔ ان میں سے چار کو ایمرجنسی میں بھرتی کرایا گیا تھا جبکہ میرے شوہر کے ساتھ تین لوگوں کو جیجی ہاسپٹل میں بھرتی کرایا گیا تھا۔ ایک کے ریڑھ کی ہڈی اور کندھے کے ساتھ تین جگہ گولی لگی ہے۔ وہیں، دوسرے کے گلے میں گولی لگی ہے جو ابھی نکالی نہیں گئی ہے۔گولی گلے سے گال کے بیچ میں پھنس گئی ہے۔ ایک کی موت ہو چکی ہے۔ باقی چار کی آگرہ کی ایمرجنسی میں کیا حالت ہے کچھ پتہ نہیں ہے۔’

وہ کہتی ہیں، ‘اس معاملے کے بعد فیروزآباد میں تین لوگوں کی تو کوئی لاشیں اٹھانے والا نہیں تھا۔ وہ رات بھر وہاں پڑے رہے۔ صبح پولیس نے ان کی لاش اٹھائی۔ اس دوران زخمی لوگوں کو ان کے اہل خانہ ٹھیلے یا کسی کی گاڑی سے لےکر گئے تھے۔ ایک ٹھیلے والا جا رہا تھا تو پہلے اسے لگا کہ اس کے پیٹ میں کانچ گھس گیا ہے لیکن پھر پتہ چلا کہ اسے بھی گولی لگ گئی ہے۔ بہت لوگ زخمی ہوئے اور بہت لوگ مر گئے۔ کل کتنی تعداد ہے یہ تو پتہ نہیں ہے۔’

بتا دیں کہ، فیروزآباد میں اب تک 24 سالہ محمد نبی جہاں، 24 سالہ محمد راشد اور 24 سالہ ارمان عرف کلو کی موت موقع پر ہو چکی ہے۔ جہاں ارمان کی لاش ان کے اہل خانہ کو سنیچر کی صبح ملی تو وہیں راشد کی لاش شام سات بجے ملی تھی۔

رانی آگے بتاتی ہیں، ‘اب فیروزآبازمحفوظ نہیں لگتا ہے۔ وہاں دو دنوں تک لوگ اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلے تھے۔ ابھی کا کچھ پتہ نہیں کیا حالت ہے۔ حالات ایسے تھے کہ نہ کوئی ملنے آ سکتا تھا اور نہ ہم جا سکتے تھے۔ ہمارے کئی رشتہ داروں کو واپس لوٹا دیا گیا تھا۔’

انہوں نے کہا، ‘انہیں کسی سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ بس اپنے کام سے مطلب رکھتے تھے۔ اس سے پہلے نماز کے بعد بھی لاٹھی چارج ہوا تھا لیکن ہمارے دیور بچ کر آ گئے تھے۔ بے قصوروں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ بےقصور کیوں مارے جا رہے ہیں۔’

محمد شفیق کے رشتہ دار محمد شکیل نے کہا، ‘یہ بہت ہی غلط ہوا ہے۔ عام آدمی کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ہم یہی چاہتے ہیں کہ ان کے شوہر کا اچھا سے اچھا علاج ہو اور جنہوں نے یہ غلط کام کیا ہے ان پر کارروائی ہو۔’

وہ کہتے ہیں، ‘مزدور آدمی مظاہرے میں کہاں جائے گا۔ مزدور کو تو اپنی روٹی کمانے سے مطلب ہے۔ بچوں کی روٹی کمائےگا یا دنگے فساد میں جائےگا۔ لوگ کام دھندے والے آدمی ہیں، بچوں کو پالنا ہے، دنگےفساد میں کہاں جائیں گے۔ میری سالی کے شوہر کام سے سیدھے گھر واپس آ رہے تھے۔ اب انہیں کیا پتہ کہ راستے میں کیا بھگدڑ ہو رہی ہے۔ ہر معاملے کی جانچ ہونی چاہیے۔ جنہوں نے غلط کیا ان پر کارروائی ہو اور بےقصوروں کو انصاف ملے۔’

واضح ہو کہ، اترپردیش  کے ڈی جی پی اوم پرکاش سنگھ سمیت تمام اعلیٰ حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ کسی کی بھی موت پولیس کی گولی سے نہیں ہوئی ہے۔ حالانکہ، ایک مہلوک محمد سلیمان کے معاملے میں بجنور کے سینئرپولیس حکام نے قبول کیا ہے کہ ان کی موت پولیس کے ذریعے اپنی دفاع میں چلائی گئی گولی سے ہوئی۔