وزیر اعظم مودی کی اپیل کو درکنار کر تے ہوئے فیصلے کا ’جشن‘ منا رہے ہیں ایودھیا کے بھاجپائی

01:51 PM Nov 16, 2019 | کرشن پرتاپ سنگھ

ایودھیا میں بی جے پی کے منتخب رکن پارلیامان، ایم ایل اے اور اہلکاروں نےسنیچر کو فیصلے کے دن دیپ جلائے اور مٹھائیاں تقسیم کیں۔ سوموار کو پارٹی ضلع صدردفتر پر رامائن کاپاٹھ کیا گیا ، جہاں رہنما اور کارکنان نے ایک دوسرے کو مبارکبادی۔وہیں  منگل کو 1992 کی کارسیوا کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے رضاکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

بی جے پی ایم ایل اے وید گپتا اپنے کیمپ میں آفس میں مٹھائی کھلاتے ہوئے۔

ایودھیا کی مقامی انتظامیہ نے تو گزشتہ 9 نومبر کو سپریم کورٹ  کے ذریعےسنائے گئے رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازعہ کے فیصلے کو لےکر خوشی یا غم کے اظہارپابندی لگا رکھی  ہے، وزیر اعظم نریندر مودی بھی ملک کو خطاب کرتے ہوئے عوام سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ فیصلے کو کسی کی جیت یا کسی کی ہا کے جذبہ سے نہ دیکھیں اور نہ ہی اس کو لےکر کسی طرح کی خوشی یا غم کا اظہار کریں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جہاں عوام نے عام طور پر ان کی باتیں مان‌کر اپنے جذبات کو پوری طرح قابو میں رکھا ہے، وہیں ایودھیا میں بھارتیہ جنتا پارٹی، یہاں تک کہ اس کےمنتخب رکن پارلیامان، ایم ایل اے اور اہلکار تک، ان کی ان سنی کرکے ‘جشن ‘ منارہے ہیں۔

 انہوں نے سنیچر کو فیصلے کے دن بھی دیپ جلانے، دیوالی منانے اور مٹھائیاں تقسیم کر کےخوشی کے مظاہرے  سے پرہیز نہیں ہی کیا۔ سوموار کو پارٹی کے ضلع صدر دفترپر رامائن کا پاٹھ کیا گیا، جس میں اس کے رہنمااور کارکنان ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے اور لیتے رہے۔ منگل کو اس میں پرم ہنس  رام چندر داس، مہنت دگ وجئےناتھ، مہنت اویدھ ناتھاور اشوک سنگھل وغیرہ رام جنم-بھومی مندر تحریک کے رہنماؤں اور ملائم سنگھ کے وزیر اعلیٰ کے دور میں 1992 کی کارسیوا کے دوران پولیس فائرنگ میں مارے گئے رضاکاروں کےمتعلق شکریہ کا اظہار کرکے ان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

 اس موقع پر بی جے پی رکن پارلیامان للو سنگھ نے باقاعدہ تقریر کرکے تحریک کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔ دوپہر بعد ہون-پوجن کے ساتھ اس تقریب کا اختتام کیا گیا۔ دوسری طرف ایودھیا کے پارٹی ایم ایل اے وید پرکاش گپتا کی رہائش گاہ پران کے کیمپ دفتر میں رام للا کےحق میں فیصلے پر عوامی طور پر خوشی کااظہار کیا اورمٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ایم ایل اے نے اتر پردیش کےصنعتی تجارتی بورڈ کے ممبروں اور رہنماؤں کومٹھائی کھلاکر فیصلے کی خوشیاں منائیں باہمی طور پرایک دوسرے کومبارکباد پیش کی۔ بورڈ کے صدر اور ایم ایل اے کے چھوٹے بھائی چندرپرکاش نے اس بات پر بھی خوشی کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایودھیا میں سیاحت میں اضافہ ہوگا اور ضلع کے تاجروں کو فائدہ ہو گا۔

بی جے پی کے لاء سیل سے جڑے وکیلوں نے ایودھیا کی کچہری کے احاطے میں بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے لڈو تقسیم کیا۔ البتہ، انہوں نے اپنے اس اظہار کو ‘ یوم ہم آہنگی’ کا نام دیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ کئی مسلم وکیلوں نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ بھاجپائیوں  کے اس جشن میں  ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ تب ہے، جب ایودھیا کی مقامی انتظامیہ نے شہریوں کی طرف سے ایسے کسی بھی مظاہرہ کوروکنے کے لئے کئی طرح کی بندشیں ابھی بھی برقرار رکھی ہیں۔

 ایودھیا میں تو شہریوں کی  آمد ورفت تک کے لئے بیریروں کے کھلنے بند ہونےاور سکیورٹی اہلکاروں کی کڑی پوچھ تاچھ اور اجازت کے محتاج ہیں۔ عام شہریوں پربندشیں لگائے رکھنے اور حزب اقتدار کو ان کی کارروائیوں کے لئے بےلگام چھوڑ دینے کولےکر انتظامیہ کی منشاء پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایودھیا کے روزنامہ ‘جن مورچہ’کے مدیر اور سینئر صحافی شیتلا سنگھ اس کو اس طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بھی وزیر اعظم ملک سے کوئی اپیل کرتے ہیں، وہ اس کوبنا حیل-حجت  قبول‌کر لیتا ہے، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی تنظیموں کے رہنما، اہلکار اور کارکنان اس کو زیادہ توجہ نہیں دیتے۔ نہ ہی سنجیدگی سے لیتےہیں۔ پہاں تک کہ شر پسند  گئورکشکوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ان کے ذریعے دی گئی نصیحت پر بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے بھی توجہ نہیں دی۔

شیتلا سنگھ کے مطابق، ‘وہ سمجھتے ہیں کہ وزیر اعظم کی ساری اپیلیں ماننےکے لئے نہیں ہوتیں۔ ان میں سے کئی دکھاوے کے لئے بھی ہوتی ہیں۔ ‘

(مضمون نگار سینئر صحافی ہیں۔ )