اترپردیش کے بریلی ضلع میں ایک خالی پڑے گھر میں نماز ادا کرنے کی وجہ سے 12 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ الزام ہے کہ مکان کو مدرسہ میں تبدیل کیا جا رہا تھا۔ تاہم، گھر کی مالکن نے کہا ہے کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔
جس خالی مکان میں لوگ نماز ادا کر رہے تھے، اس کی مالکن نے اس کی اجازت دی تھی۔ (تصویر: آصف انصاری)
نئی دہلی: اترپردیش کے بریلی ضلع کے محمد گنج نامی ایک چھوٹے سے گاؤں میں اس وقت تنازعہ کھڑا ہو گیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آیا، جس میں کچھ لوگ ایک گھر کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ یہ واقعہ 16 جنوری کو پیش آیا۔
اتوار (18 جنوری) کو ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولیس نے احتیاطی کارروائی کی اور ویڈیو میں نظر آنے والے کم از کم 12 افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 170 کے تحت
مقدمہ درج کیا ۔
پولیس کی حراست میں لیے گئے ان 12 افراد کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ایک چھوٹے سے مذہبی اجتماع کے خلاف پولیس کی مبینہ سخت کارروائی کو شدید طور پرتنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بعد میں حراست میں لیے گئے افراد کو مجسٹریٹ نے ضمانت دے دی۔
اس دوران قیاس آرائیاں کی گئیں کہ ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ مبینہ طور پر وہاں نماز پڑھ کر نجی املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم جس گھر کی چھت پر نماز ادا کی گئی، اب اس کی مالکن سامنے آکر ان الزامات کی تردید کی ہے۔
جائیداد کی مالکن ریشما نے کہا کہ انہوں نے مقامی لوگوں کو اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی۔
انہوں نے کہا،’یہاں کوئی اور جگہ نہیں ہے، اور یہ گھر خالی پڑا تھا۔ عام طور پر جن خاندانوں نے گاؤں چھوڑ دیا ہے، ان کے خالی مکانوں میں لوگ نماز ادا کر کر لیتے ہیں۔ لیکن اب مجھ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ میں اپنے گھر میں نماز کی اجازت نہ دوں۔’
ریشما کےشوہر نہیں ہیں اور ان کے پانچ بچے ہیں۔
یہ جھگڑا تیس سال پرانا ہے
تاہم، اس تنازعہ کا پس منظر تقریباً 30 سال قبل پیش آنے والے ایک واقعے سے متعلق بتایا جاتا ہے۔
مارچ 1995 میں محمد گنج گاؤں کے کچھ لوگوں نے بریلی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) سے شکایت کی تھی کہ مسلم کمیونٹی کے کچھ لوگ گرام سبھا کی زمین پر نماز پڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دی وائر کے پاس اس شکایت کی ایک کاپی موجودہے۔
گاؤں کے بزرگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تنازعہ کو حل کرنے کے لیے باہمی معاہدہ ہوا تھا کہ گاؤں میں آئندہ نہ کوئی مندر بنے گا اور نہ ہی مسجد۔
تازہ معاملے میں ریشما کے گھر کی چھت پر نماز ادا کرنے کے ویڈیو کومقامی انتظامیہ کے ساتھ شیئر کیا گیا۔ اس کے ساتھ شکایت بھی دی گئی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ مکان کو مدرسہ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے اسی شکایت کی بنیاد پر کارروائی کی۔
گاؤں کے رہائشی طارق خان کہتے ہیں،’کچھ خاندان بیرون ملک منتقل ہو گئے ہیں۔ ان کے گھر خالی پڑےہیں۔ ہم نماز سے پہلے ان سے اجازت لیتے ہیں۔’ طارق ویڈیو میں نظر آنے والوں میں شامل تھے۔ ان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔
دوسری جانب بریلی پولیس کا کہنا ہے کہ یوم تحصیل کے دوران انہیں مقامی لوگوں کی جانب سے شکایت موصول ہوئی تھی ،جس کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی کارروائی کی گئی۔
دی وائر سے بات کرتے ہوئے بریلی کی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انشیکا ورما نے کہا، ‘انہیں امن برقرار رکھنے کے لیے حراست میں لیا گیا تھا۔ وہ مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر اسے مدرسہ میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ دیگر برادریوں نے اس پر اعتراض کیا۔ اسی لیے انھیں تھانے لایا گیا اور چالان جاری کیا گیا۔’
انگریزی میں پڑھنے کے لیے
یہاں کلک کریں ۔