بینکوں نے انتظامیہ کو لکھا-لاک ڈاؤن کی وجہ سے گلی فروشوں کو دیے لون این پی اے میں تبدیل ہو رہے ہیں

02:19 PM Jan 22, 2021 | دی وائر اسٹاف

کووڈ19 لاک ڈاؤن کی وجہ سےمتاثرریہڑی پٹری والوں کو ان کاروزگار پھر سے شروع کرنے کے لیےارزاں  ورکنگ کیپیٹل لون دستیاب کرنے کے مقصد سے پی ایم سوندھی یوجناکی شروعات کی گئی تھی۔ اب کچھ بینکوں نے مقامی انتظامیہ کوخط لکھ کر لون وصول کرنے میں مدد کرنے کو کہا ہے۔

(فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: کوروناکی وجہ سے ریہڑی پٹری والوں(گلی فروشوں) کے لیے لائی گئی اسکیم  پی ایم سٹریٹ وینڈر آتم نربھر ندھی(پی ایم سوندھی یوجنا)کے تحت دیےگئے لون اب این پی اے میں تبدیل ہو رہے ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کچھ بینکوں نے مقامی انتظامیہ کو خط  لکھ کر لون وصول کرنے میں مدد کرنے کو کہا ہے۔

پی ایم سوندھی یوجنا کی شروعات ریہڑی پٹری والوں کو ارزاں  ورکنگ کیپیٹل لون دستیاب کرنے کے لیے کی گئی تھی تاکہ وہ  اپنا روزگار پھر سے شروع کر سکیں جو کووڈ 19 لاک ڈاؤن کی وجہ سےمنفی طور پرمتاثر ہوئے۔اس اسکیم کے تحت گلی فروش10000 روپے تک کے ارزاں  ورکنگ کیپیٹل لون کافائدہ  اٹھا سکتے ہیں جو ایک سال کی مدت کار میں ماہانہ قسطوں میں چکایا جا سکتا ہے۔

لو ن کی  وقت پر یا جلدی ادائیگی کرنے پر،سہ ماہی کے لحاظ سے ڈائریکٹ بینی فٹ ٹرانسفر کے ذریعے گلی فروشوں  کے بینک اکاؤنٹ میں ہرسال7 فیصدی انٹریسٹ سبسڈی جمع کی جائےگی۔لون  کی جلدی ادائیگی کرنے پر کوئی جرمانہ نہیں ہوگا۔ یہ اسکیم ہر ماہ 100 روپے کیش بیک مراعات  کے ذریعے ڈیجیٹل لین دین کوفروغ  دےگی۔

حالانکہ اب بینکوں کا کہنا ہے کہ لون سے چھوٹ حاصل کرنے کے باوجود کچھ اکاؤنٹ این پی اے میں تبدیل ہو رہے ہیں۔مدھیہ پردیش میں برہان پور کے میونسپل کمشنر کوا سٹیٹ بینک آف انڈیاکے چیف منیجرکی جانب سے حال ہی میں لکھے گئے خط میں اس کو لےکرخبردار کیا گیا ہے۔

اپنے خط میں ایس بی آئی افسر نے کہا ہے کہ بینک نے میونسپل برہان پور کی سفارش پر شہری گلی فروشوں کو 160 سے زیادہ  پی ایم سوندھی لون منظور کیے تھے۔ لیکن اس میں سے اکثر لوگوں نے ایک بھی قسط جمع نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اسکیم  کے تحت کوئی کولیٹرل دینے کا اہتمام  نہیں ہے، اس لیے این پی اے کی صورت میں بینکوں کا کوئی سہارا نہیں ہے۔معلوم ہو کہ اگرطے مدت پوری ہونے کے 90 دن بعد تک انٹریسٹ نہیں دیا جاتا ہے تو بینک اسے این پی اے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ترجمان نے کہا کہ گائیڈ لائنز کے مطابق لون لینے والوں کی پہچان اور ان کی تصدیق کی ذمہ داری شہری مقامی اکائی اور ٹاؤن وینڈنگ کمیٹی کی ہوتی ہے۔ بینک ان اکائیوں  کو اس لیے شامل کرتے ہیں تاکہ وقت پر وصولی کو یقینی بنایاجا سکے۔

اسی طرح اندور میونسپل کمشنر نے شہر میں نجی بینکوں کو خط لکھ کر کہا کہ اندور کو 44874 اسٹریٹ وینڈروں کو لون دینے کاہدف رکھا گیا تھا، لیکن اب تک (20 دسمبر کے آس پاس)صرف13000 لوگوں کو ہی اس کافائدہ  ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطحی کمیٹی  کی بیٹھک میں اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ کمشنرنے 28 دسمبر 2020 کو لکھےخط میں کہا کہ یہاں کے تمام بینکوں کو یہ ہدف دیا گیا تھا کہ 50 ریہڑی پٹری والوں کو 10000 روپے کا لون دیں۔

رپورٹ کے مطابق مقامی انتظامیہ بینکوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسکیم  کے تحت لون جاری کریں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، اس اسکیم کے تحت بینکوں نے دسمبر تک 1783.17 کروڑ روپے کےکل 17.93 لاکھ لون کی عرضیوں  کو منظوری دی ہے۔ جس میں سے 13.27 لاکھ لوگوں کو 1306.76 کروڑ روپے کالون دیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ لون ایس بی آئی نے جاری کیا ہے اور سب سے زیادہ لون پھل اور سبزی فروشوں کو ملا ہے۔