رام مندر چڑھاوا تنازعہ: ایودھیا میں جو ہو رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟

رام مندر چڑھاواتنازعہ کے حوالے سے ایودھیا میں عام طور پر لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں- یہ کہ جو کچھ کہا، سنا یا کیا جا رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ اس کی شروعات تو 22-23 دسمبر 1949 کو بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کے فوراً بعد ہی اس وقت ہو گئی تھی، جب وہاں چڑھاوے کی صورت میں بے تحاشہ دولت آنا شروع ہو گئی تھی۔

رام مندر چڑھاواتنازعہ کے حوالے سے ایودھیا میں عام طور پر لوگ ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں- یہ کہ جو کچھ کہا، سنا یا کیا جا رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟ اس کی شروعات تو 22-23 دسمبر 1949 کو بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کے فوراً بعد ہی اس وقت ہو گئی تھی، جب وہاں چڑھاوے کی صورت میں بے تحاشہ دولت آنا شروع ہو گئی تھی۔

ایودھیا میں زیر تعمیر رام مندر۔ (تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر)

ملک کے دوسرے حصوں میں کوئی ’ایودھیا کے نئے رام مندر کے چڑھاوے میں غبن‘ کی بات کر رہا ہے، کوئی ’چڑھاوے میں چوری‘ کی، تو کوئی ’امانت میں خیانت‘ کی۔ کوئی اس کواس مندر کی تعمیر کے دوران سرخیاں حاصل کرنے والی ’چندہ چوری‘سے جوڑ کر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے، تو کوئی پوچھ رہا ہے کہ ’جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے ‘ ہیں تو پھر کسی بھی جانچ سے بھلا  کیا حاصل ہوگا؟

لیکن ایودھیا میں لوگ عام طور پر ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں- یہ جو کچھ کہا – سنا یا کیا رہا ہے، اس میں نیا کیا ہے؟

اس کی شروعات تو اسی وقت ہو گئی تھی جب 22-23 دسمبر 1949 کو بابری مسجد میں مورتی رکھی گئی اور وہاں چڑھاوے کی صورت میں بے تحاشہ دولت آنا شروع ہوئی۔ اس کے برعکس، دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ سے لے کر مین اسٹریم کے میڈیا تک میں لگاتار’ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے ہی نہیں  ‘ جیسی صوتحال بنی ہوئی ہے۔

ایودھیا کے حالات سے واقف لوگ اس معاملے میں موٹے طور پر تین باتوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

پہلا یہ کہ اس سب کی جڑیں وہاں ہیں، جب بابری مسجد پر قبضے کی ’حکمت عملی‘ ہندو مہاسبھا کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔

دوسرا یہ کہ اس سلسلے میں غبن، لوٹ یا چوری کے الزام لگانے والوں میں سے بیشتر کو ہندوتوا کے حامیوں یا ’وہیں رام مندر‘ کے پیروکاروں کی صورت میں ہی پہچانا جاتا رہا ہے، نہ کہ ’ہندو مخالفین‘ کی صورت میں۔

اور تیسرا یہ کہ رام مندر تحریک کی تاریخ میں اس کے نام پر جب بھی اور جس بھی تنظیم کے بینر تلے چندہ جمع کیا گیا، اس طرح کی  الزام تراشیوں  کا سلسلہ ہی چلا۔ اس کے باوجود کسی  ملزم فرد یا تنظیم نے کبھی کسی عوامی پلیٹ فارم پر اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنے والی ایسی  کوئی رپورٹ پیش نہیں کی، جس پر سب کوبھروسہ ہو۔

بہرحال، ابتدا سے ہی بات کی جائے تو سینئر صحافی کرشنا جھا اور دھیرندر کمار جھا نے تقریباً گیارہ سال قبل شائع ہونے والی اپنی معروف کتاب ’ایودھیا کی وہ سیاہ رات‘ میں لکھا تھا کہ 1949-50 میں ہندو مہاسبھا کی ایودھیا حکمت عملی اور مقامی سطح پر اس کی منصوبہ بندی کے لڑکھڑانے یا ناکام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ’اس کی توجہ بابری مسجد سے ہٹ کر چندے اور چڑھاوے کی تقسیم پر مرکوز ہو گئی تھی۔‘

دولت آئی، جھگڑا لائی!

کتاب کے مطابق، بابری مسجد سے مورتی ہٹانے کے خلاف عدالتی حکم امتناعی حاصل کرنے کے بعد ہندو مہاسبھا کی جانب سے ’شری رام جنم بھومی سیوا سمیتی‘ بنائی گئی، تو اس میں ایودھیا کے کئی جانے مانےبیراگی شامل تھے۔ لیکن جلد ہی اس پر سابق سٹی مجسٹریٹ گرودت سنگھ (جنرل سکریٹری)، گوپال سنگھ وشارد (نائب سکریٹری) اور رام چندر داس پرم ہنس (پبلسٹی انچارج) کے قبضے میں چلی گئی۔

اس کے فوراً بعد، جب اس کمیٹی نے بے تحاشہ دولت اکٹھی کر لی تو اس کی تقسیم کے معاملے پر ان کے درمیان شدید اختلافات اور جھگڑے شروع ہو گئے۔ الزام تراشی کی جانے لگی اور ایک فریق نے اس مقصد کے لیے ہندو مہاسبھا کے رام گوپال پانڈے شارد کی ادارت میں ایودھیا سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’ورکت‘کا بھی استعمال کیا۔

دراصل، شارد کو شکایت  ہو گئی تھی کہ گوپال سنگھ وشارد سب کچھ اپنے ذمے رکھ لے رہے ہیں اور انہیں باہر کر دے رہے ہیں۔ اس پر انہوں نے ’ورکت‘ میں ایک کے بعد ایک کئی مضامین شائع کیےتو وشارد نے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا، لیکن اس سے انہیں کچھ حاصل نہیں ہو پایا۔

دوسری طرف، جب پرم ہنس رام چندر داس نے دیکھا کہ نہ تو انہیں کمیٹی میں مناسب عہدہ ملا ہے اور نہ ہی مالی معاملات میں اختیار، تو انہوں نے بھی وشارد پر خردبرد اور غبن کے الزامات لگانا شروع کر دیے۔

کرشنا جھا اور دھیرندر جھا نے اسی کتاب میں آگے لکھا ہے؛


’اسی نوعیت کا جھگڑا چند دوسرے مالی ذرائع کے حوالے سے بھی ہوا۔ (بابری مسجد کے بیرونی صحن میں واقع) چبوترے پر عقیدت مند بڑی مقدار میں نذرانے پیش کر رہے تھے۔ اسی طرح، کے کے نائر کی اہلیہ شکنتلا نائر نے 23 دسمبر 1949 کو مسجد کے بالکل باہر اکھنڈ کیرتن شروع کیا تھا، جس میں بھی بڑی مقدار میں رقم جمع ہوئی تھی۔ ’نئی رام جنم بھومی‘کے مقام پر بھی بڑے پیمانے پر عطیات، نقد رقم اور دیگر سامان جمع ہو رہا تھا۔

جس طریقے سے اس تمام دولت کا حساب وکتاب اور انتظام کیا جا رہا تھا، اس سے اندر ہی اندر عدم اطمینان کا ماحول بن رہا تھا۔ باہمی اعتماد ختم ہوتا جا رہا تھا اورایک دوسرے پر بھروسہ نہیں رہ گیا تھاقرق کی گئی جائیداد کے ریسیور کی حیثیت سے بابو پریہ دت رام اس تمام دولت کے ذمہ دار تھے، لیکن اس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا گیا تھا۔ ساتھ ہی، رقم کی لوٹ مار اور خرد برد کے سنگین الزامات بھی لگ رہے تھے۔ دولت پر کنٹرول کا سوال لڑائی  کا ایک نیا میدان بنتا جا رہا تھا۔ فرقہ پرست عناصر کے مختلف گروہوں کے درمیان جھگڑے اب ان کی یکجہتی کو ختم کر رہے تھے۔‘


دیگر ماہرین کے مطابق بھی بابری مسجد میں مورتی رکھے جانے کے بعد بڑی تعداد میں آنے والے عقیدت مندوں کی جانب سے دیے جانے والے چندے اور چڑھاوے پر قبضے اور کنٹرول (یا اس میں ’بڑے حصے‘) کے لیے جاری کشمکش بہت جلد اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ ہندو مہاسبھا، نرموہی اکھاڑا اور مقامی سادھوؤں اور مہنتوں کے درمیان تنازعہ اور ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان میں سے ہر فریق خود کو ہی ہر چیز کا اصل حقدار سمجھ رہا تھا۔

اسی دوران ہندو مہاسبھا کی ’اکھل بھارتیہ رامائن مہاسبھا‘ نے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے، تو دوسرے فریقوں کو محسوس ہوا کہ ان کا ’روایتی حق‘ چھینا جا رہا ہے۔ بابری مسجد کی قرقی اور سرکاری ریسیور کی تقرری کے بعد چندے اور چڑھاوے پر براہ راست کنٹرول ختم ہو گیا، تو ہندو مہاسبھا (کے گوپال سنگھ وشارد) اور نرموہی اکھاڑے نے ایک دوسرے کے دعووں کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں الگ الگ مقدمے دائر کر دیے۔

پرم ہنس کٹہرے میں

سال1984 میں شری رام جنم بھومی مکتی یگیہ سمیتی کی تشکیل، رام جانکی رتھ یاترا، بجرنگ دل کے قیام اور لکھنؤ سے ایودھیا کوچ جیسے اقدامات کے ذریعے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رام جنم بھومی مکتی تحریک کی قیادت سنبھالنے کے بعد جو نیا موڑ آیا، اس میں رام مندر کے لیے جمع کی گئی رقم پر دعوے اور حق کے مسئلے کو لے کر اس کے اور ایودھیا کے سادھو سنتوں کے درمیان کئی مرتبہ شدید کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوئی۔

سال2002میں شیلا دان پروگرام کے سلسلے میں وی ایچ پی کے مفاہمتی رویے سے ناراض پرم ہنس رام چندرداس، جو رام جنم بھومی نیاس کے صدر بھی تھے، یہاں تک کہنے لگے کہ رام جنم بھومی کی آزادی کی تحریک بنیادی طور پر سنتوں کی تحریک ہے، لیکن اشوک سنگھل سمیت وی ایچ پی کے متعدد رہنما مالی فیصلوں اور حکمت عملی طے کرنے میں سنتوں کو اہمیت نہیں دیتے۔

وی ایچ پی کی جانب سے تحریک کو سیاسی رنگ دیے جانے پر وہ اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے رام جنم بھومی نیاس کے صدر کے عہدے سے استعفیٰ کی دھمکی تک دے دی تھی۔ انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ وی ایچ پی کو ملک اور بیرون ملک سے تحریک کے لیے بڑی مقدار میں موصول ہونے والے چندے کا مکمل اور شفاف حساب عقیدت مندوں کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ رام جنم بھومی مکتی تحریک اور اس کے لیے جمع کیے گئے چندے کا انتظام وی ایچ پی کے چند رہنماؤں (جنہیں ایودھیا کے سادھو سنت ’باہر کے لوگ‘ سمجھتے تھے) کے ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جبکہ اسے رام جنم بھومی نیاس کے ماتحت ہونا چاہیے تھا۔ اس الزام نے نہ صرف وی ایچ پی کو مشکل میں ڈال دیا بلکہ اسے شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اس سارے معاملے کو پرم ہنس کی جانب سے وی ایچ پی سے چندے کا حساب مانگنے کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ اس کے باوجود وی ایچ پی نے انہیں کوئی باضابطہ یا تحریری حساب وکتاب فراہم نہیں کیا۔ البتہ اس کے رہنما بار بار یہ دعویٰ کرتے رہے کہ چندے میں کوئی خرد برد نہیں ہوئی، اس کی ایک ایک پائی محفوظ ہے، اور اسے کارسیوکوں کے رہنے سہنے اور کھانے پینے، ملک بھر میں تحریک کی تشہیر، پتھروں کی نقش و نگاری اور ورکشاپ چلانے پر خرچ کیا جا رہا ہے۔

اس کے فوراً بعد، وی ایچ پی کی اعلیٰ قیادت نے پرم ہنس کے ساتھ کئی دور کی ملاقاتیں کیں اور ’تحریک کے اتحاد کو برقرار رکھنے‘ کے لیے ان سے اتفاق رائے پیدا کرنے کی پوری کوشش کی۔ اس کے باوجود وہ کافی عرصے تک چندہ ہڑپ کرنے کے الزامات سے جان نہ چھڑا سکی، اور 2015 میں اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا نے اس پر اور اس کے رام جنم بھومی نیاس پر الزام لگایا کہ انہوں نے مندر کی تعمیر کے نام پر حاصل ہونے والے چندے میں سے 1400 کروڑ روپے سے زائد نقد رقم اور وسیع پیمانے پر مشتہر شیلا پوجن کے دوران موصول ہونے والی کوئنٹل  سونے کی اینٹیں ہڑپ کر لینے کا الزام لگایا تھا۔

اس کی جانچ کے لیے اس نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت، وزیراعظم نریندر مودی اور اشوک سنگھل کو خطوط بھی لکھے تھے۔ لیکن اس بار بھی وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی اعلیٰ قیادت نے ایک بیان جاری کرکے اس کے الزامات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور معاملے سے جان چھڑا لی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھاکہ اس کے الزامات کے پیچھے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کی جانب سے ایک روزہ افطار پارٹی کے انعقاد پر اس کی ناراضگی تھی۔ تاہم دو سال بعد 2017 میں نرموہی اکھاڑے نے بھی وی ایچ پی پر اسی نوعیت کے 1,400 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے الزامات لگائے تھے۔

بڑے الزام، چھوٹی صفائی

حد تو اس وقت ہو گئی جب سپریم کورٹ کی جانب سے رام جنم بھومی-بابری مسجد تنازعہ کے حتمی فیصلے کے بعد رام مندر کی تعمیر کے لیے قائم کیے گئے شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر ٹرسٹ (جس میں وی ایچ پی کے رہنماؤں کی بڑی تعداد شامل ہے) کے لیے بھی خود کو اس طرح کے الزام سے الگ رکھنا ممکن نہ رہا۔ جون 2021 میں اس پر زمین کی خریداری میں بدعنوانی کے الزامات لگے، جن میں کہا گیا کہ اس نے 2 کروڑ روپے کی ایک زمین محض چند منٹ بعد 18.5 کروڑ روپے میں خرید لی۔

عام آدمی پارٹی اور سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں نے تفصیلات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایودھیا کے باغ بیجیسی علاقے میں 12,080 مربع میٹر زمین سلطان انصاری اور روی تیواری نے کسم پاٹھک سے 2 کروڑ روپے میں خریدی، اور صرف چند منٹ بعد اسی زمین کو ٹرسٹ کو 18.5 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا گیا اور ان دونوں سودوں (رجسٹری اور معاہدے) میں ٹرسٹ کے رکن ڈاکٹر انل مشرا اور ایودھیا کے سابق میئر رشی کیش اپادھیائے گواہ  تھے۔

اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے اس سے پہلے اور بعد میں بھی یہ الزام لگائے جاتے رہے کہ ٹرسٹ مندر کی تعمیر کے لیے جمع کیے گئے عطیات کے استعمال میں دھاندلی کر رہا ہے۔

ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اپنی وضاحتوں میں ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹرسٹ نے نہ تو عطیات کی رقم کے استعمال میں اور نہ ہی زمین کے سودوں میں کسی قسم کی بدعنوانی یا بے قاعدگی برتی ہے، اور اس کے بینک کھاتوں کا اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے نمائندے باقاعدگی سے آڈٹ کرتے ہیں۔

لیکن کیا صرف اتنا کافی ہے؟

اس سوال کی اہمیت اس حقیقت سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ میڈیا اداروں نے ٹرسٹ کے ایک سابق اکاؤنٹس انچارج کو ڈھونڈ نکالا، جس نے کیمرے پر دعویٰ کیا کہ اس کے دور میں چڑھاوے کی رقم میں روزانہ چوری ہوتی تھی، جبکہ سونے اور چاندی کے زیورات، برتنوں اور دیگر اشیاء کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ ہی نہیں رکھا جاتا تھا۔ اس بابت جب اس نے چمپت رائے کو آگاہ کیا تو راز چھپانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج ڈیلیٹ کروا دی گئی اور اسے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

دوسری طرف اخباروںمیں چوری کی کچھ رقم کی برآمدگی کی خبریں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ یہ بھی رپورٹ کیا گیا کہ جن افراد سے رقم برآمد ہوئی، وہ کن کے قریبی ہیں۔

عقیدت کا سوال

اس دوران ایودھیا کے بی جے پی رہنما ڈاکٹر رجنیش سنگھ نے گزشتہ 9 جون کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر معاملے کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کر  دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر نے اس سلسلے میں ٹرسٹ سے رپورٹ طلب کی ہے۔ صرف یہی نہیں، بی جے پی کے ایک اور معروف رہنما برج بھوشن شرن سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس معاملے میں سچ بول دیں تو مشکل میں پڑ جائیں گے، کیونکہ اس میں بہت بڑے لوگ شامل ہیں اور ان میں سچ بولنے کی ہمت نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ایک اور بات قابل غور ہے۔ دراصل ،سماجوادی پارٹی کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، کے ایکس  پر کی گئی پوسٹ کے بعد یہ معاملہ سرخیوں میں آیا، اپنی پوسٹ میں کہتے ہیں کہ ’یہ پورے سناتنی سماج کی بھگوان رام سے گہری عقیدت کا معاملہ ہے۔‘ لیکن اس سے پہلے جو ہندوتوا کے حامی بار بار ’ہندوؤں کے عقائد کے سوال‘ اٹھاتے رہے ہیں، وہ اب یہ تک نہیں بتا پا رہے کہ جو عقیدت مند اپنے ہاتھوں سے رام مندر میں نذرانے چڑھا چکے ہیں اور اب یہ سب سن اور جان رہے ہیں، ان پر کیا گزر رہی ہوگی۔

ظاہر ہے کہ اب عقیدت کا سوال  پلٹ گیا ہے۔ اور ایودھیا کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ ایک بار پھر منفی وجوہات کی بنا پر سرخیوں میں ہے۔

کرشن پرتاپ سنگھ  سینئر صحافی ہیں۔