آسارام کابیٹا نارائن سائیں ریپ کے معاملے میں مجرم قرار

عدالت 30 اپریل کو سزا کا اعلان کرے گی ۔

عدالت 30 اپریل کو سزا کا اعلان کرے گی ۔

فوٹو: اے این آئی

فوٹو: اے این آئی

نئی دہلی : آسا رام باپو کے بیٹے نارائن سائیں کو ریپ کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ گجرات کے سورت کی ایک عدالت نے جمعہ کو نارائن سائیں کے خلاف لگائے گئے الزام کو صحیح پایا ۔ عدالت 30 اپریل کو سزا کا اعلان کرے گی ۔

ٹائمس آف انڈیا کی ایک خبر کے مطابق، نارائن سائیں اور اس کے والد آسارام باپو پر سورت کی دو سگی بہنوں نے اکتوبر 2013 میں ریپ کا الزم لگایا تھا ۔ ان میں سے چھوٹی بہن کا الزام تھا کہ وہ 2002 سے 2005 تک سورت میں واقع آسارام کے آشرم میں رہ رہی تھی۔ اس دوران نارائن سائیں نے اس کے ساتھ کئی بار ریپ کیا۔ جبکہ بڑی بہن کا کہنا تھا کہ وہ 1997 سے 2006 تک آسارام کے احمدآباد واقع آشرم میں رہی اور اس دوران اس کے ساتھ آسارام نے بار بار ریپ کیا۔

متاثرہ بہنوں نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرانے کے بعد سائیں کو دسمبر 2013 میں ہریانہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں نارائن سائیں کے 4 مددگاروں کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ نارائن سائیں کے وکیل کلپیش دیسائی کے مطابق، استغاثہ کی طرف سے 35 لوگوں کے خلاف دو  چارج شیٹ دائر کیا گیا تھا ۔ اس معاملے میں ان کی جانب سے 53 گواہ اور دستاویز ی ثبوت پیش کیے ۔ جبکہ بچاؤ میں 14 گواہ پیش کیے گئے ۔

قابل ذکر ہے کہ آسا رام اس وقت جودھ پور ، راجستھا جیل میں ہیں ۔ آسارام کو آشرم کی ایک نابالغ لڑکی سے ریپ کے معاملے میں اگست 2013 میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس معاملے میں ان کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔