2018 کشمیر کے لئے اس دہائی کا سب سے خونی سال کیوں ثابت ہوا ؟

سال 2018 کشمیر میں اس دہائی کا سب سے خونی اور تشدد آمیز سال ثابت ہوا ہے، جس میں کم سے250 ملیٹنٹ، 90 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے۔ The post 2018 کشمیر کے لئے اس دہائی کا سب سے خونی سال کیوں ثابت ہوا ؟ appeared first on The Wire - Urdu.

سال 2018 کشمیر میں اس دہائی کا سب سے خونی اور تشدد آمیز سال ثابت ہوا ہے، جس میں کم سے250 ملیٹنٹ، 90 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے۔

Killing_2008_2018

2017 میں کشمیر میں220ملیٹنٹس،75 سکیورٹی اہلکاروں اور50 کے قریب عام شہریوں کی ہلاکت سے یہ بات صاف ہو گئی تھی کہ2018 بھی ہلاکتوں کے اعتبار سے کشمیر میں خونی سال ثابت ہوگا۔ یہ تجزیے صحیح ثابت ہوئے اور رخصت ہوچکاسال 2018 کشمیر میں اس دہائی کا سب سے خونی اور تشدد آمیز سال ثابت ہوا ہے، جس میں کم سے250 ملیٹنٹ، 90 سکیورٹی اہلکار اور 50 سے زائد عام شہری ہلاک ہو گئے۔اکثر شہری ہلاکتیں سکیورٹی دستوں کی فائرنگ سے ہوئیں اور ریاست جموں وکشمیر ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے تاہم ہند وپاک کے مابین تعلقات تقریباً منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔

2016 میں نوجوان حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی کوکرناگ میں ایک جھڑپ میں ہوئی ہلاکت کے بعد ریاست بالخصوص کشمیر میں جدید ملیٹنسی نے نیا موڑ لیا ۔ 4 ماہ تک چلی اس شورش میں 100 سے زائد نوجوان فورسز کی فائرنگ سے جان بحق ہوئے۔ہزاروں لوگ پیلٹ گن کے شکار ہو گئے اور درجنوں عمر بھر کے لئے بینائی سے جزوی یا پھر پوری طرح محروم ہو گئے۔برہان کی ہلاکت نے کشمیر میں ملیٹنسی کو نئی ہوا دی اور بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مقامی نوجوان ملیٹنٹ صفوں میں شامل ہو گئے۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس برس بھی تقر یباً ایک سو مقامی نوجوان ملیٹنسی میں شامل ہوئے ہیں۔

انسانی حقوق،انٹرنیشنل لاء کے ماہر اور معروف سیاسی تجزیہ کار پروفیسر شیخ شوکت حسین نے دی وائر کو بتایا کہ ہندوستان کشمیر کو ایک چھوٹی آبادی مان کر طاقت کے زور پر  قابوپا نے کی پالیسی اپنا رہا ہے اور وہ اس کو متنازعہ  مسئلہ ماننے سے بھی انکار کر رہا ہے، جو ملیٹنسی میں اس حد تک اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ پروفیسر شوکت کے مطابق آج کی ملیٹنسی 1990سے مختلف ہے کیونکہ اس وقت کے ملیٹنٹ اس کے نتائج سے باخبر تھے اور لوگوں میں خوف و ہراس تھا، مگر آج کے ملیٹنٹ اور عوام دونوں نڈر ہیں جنہیں گولی کا کوئی ڈر نہیں۔یہی رجحان ملیٹنسی میں بدلاؤکی بڑی وجہ ہے۔

2 دسمبر2018 کووزارت داخلہ کی طرف سے شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق وادی میں 2018 میں ملیٹنسی سے جڑے واقعات میں گزشتہ دو برسوں160کے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہوا اور تقریباً 590 ایسے واقعات پیش آئے جن میں تقریباً250ملیٹنٹ اور 90 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ 50 شہری بھی جان بحق ہوئے۔ البتہ چند غیر سرکاری تنظیموں نے شہری ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی۔

2017 میں وادی میں شہری ہلاکتوں میں ایک سو66 فیصد اضافہ درج کیا گیا تھا حالانکہ مرکزی وزارت داخلہ نے ریاست میں 2017 میں سکیورٹی اور امن و قانون بنائے رکھنے سے متعلق نظام کو نافذ کرنے کے لئے 704 کروڑ روپے بھی منظور کئے تھے تاہم ان سب کے باوجود بھی ریاست کے سکیورٹی منظرنامے میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا۔ رپورٹ کے مطابق ریاست میں 2016 میں ملیٹنسی سے جڑے322 واقعات،2017 میں329 جبکہ 2018 میں587 ایسے واقعات پیش آئے اور اس طرح سال2018 اس دہائی کا سب سے تشدد آمیز برس ثابت ہوا۔

Suicide_Army_JKCSS

ایک سینئر پولیس افسر نے وائر کو بتایا کہ ریاست میں 1990 میں شروع ہوئی ملیٹنسی کے دور میں اب تک سال2001 سب سے زیادہ خونی ثابت ہوا تھا جس میں تقریباً2020 ملیٹنٹ اور 536 فوجی اہلکار ہلاک اور 4522 ملیٹنسی سے جڑے واقعات میں919 شہری جان بحق ہو ئے تھے۔ البتہ شہری ہلاکتوں کے اعتبار سے سال1996 سب سے خونی ثابت ہوا تھا جس میں تقریباً1336 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ افسر نے بتایا کہ 2018 میں نوید جٹ، منان وانی اور سبزار بٹ جیسے ٹاپ ملیٹنٹ کمانڈروں کی ہلاکت نے ملیٹنٹ گروپوں کی کمر توڈ دی ہے اور وہ اب بستیوں میں آنے سے کتراتے ہیں جو حالیہ جھڑپوں سے صاف ظاہر ہے جن میں ملیٹنٹ زیر زمین کمین گاہوں میں مارے گئے۔

ڈاکیومنٹری فوٹو گرافر شرافت نے وائر کو بتایا کہ زمینی سطح پرحالات مختلف ہیں اور پولیس کے دعوے کمزور ہیں کیونکہ 250 سے زائد ملیٹنٹ مارنے کے دعووں کے باوجود بھی حالات مخدوش ہی ہو رہے ہیں جو اس سال تقریبا ً100کے قریب پڑھے لکھے نوجوانوں کے ملیٹنٹ صفوں میں شامل ہونے سے صاف ظاہر ہے۔شرافت کے مطابق جان و مال کے نقصان سے لوگوں میں کافی غم و غصہ ہے اور وہ خود کو الگ تھلک تصور کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن کی پہلی تفصیلی رپورٹ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن نے اس برس پہلی دفعہ ریاست میں انسانی حقوق کی پامالیوں سے متعلق اپنی رپورٹ بھی شائع کی۔49 صفات پرمشتمل اس رپورٹ میں جموں وکشمیر میں اے ایف ایس پی اے کے سائے تلے انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے حفاظتی دستوں کو ملی کھلی چھوٹ کو ایک اہم وجہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ریاست میں چاہے ہزاروں شہریوں کی بے جا ہلاکت یا پھر کنن پوشہ پورہ جیسے گینگ ریپ کے واقعات ہوں ، ریاست میں 28 برس سے اے ایف ایس پی اے کے قیام سے اب تک ایک بھی سکیورٹی اہلکار کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق برہان وانی کی ہلاکت سے ا ب تک ریاست میں ہزاروں افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا کر اْنہیں جیلوں میں بند کیا گیا ۔

اس کے علاوہ اظہار رائےپر  قدغن کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں 2016 میں مقامی روزنامہ کشمیر ریڈرکی اشاعت پر پابندی سمیت انٹرنیٹ پر بار بار لگنے والی پابندیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ایک مقامی صحافی ثاقب جنہیں اس برس حفاظتی دستوں کے زد و کوب کا سامنا کرنا پڑا ،انہوں نے وائر کو بتایا کہ زمینی حالات میڈیا میں نہ آئیں، اس لیے اظہار رائے پر قدغن اکثر لگتی ہیں، پھر چاہے وہ ڈیڑھ سالہ حبا پیلٹ مارنے کا معاملہ ہو یا صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا ہو، ایسی صورتحال میں حالات مخدوش ہوتے ہیں۔

Kashmir_Internet_JKCCS

 کمیشن نے انصاف کی عدم فراہمی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے حفاظتی دستوں کو ملی کھلی چھوٹ کو دو بڑی وجوہات قرار دیتے ہوئے کشمیر میں انسانی حقو ق کی پامالیوں کے واقعات کی تحقیقات کر کے ان پر فوری روک لگانے اور سات دہائیوں سے جنسی،ذہنی،مالی اور جسمانی تشدد کے شکار لاکھوں افراد کو انصاف کرنے اور متاثرین کی بازآبادکاری کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ ہندو پاک کے مابین دہائیوں سے چلے آرہے اس تنازعے نے لاکھوں افراد سے ان کے بنیادی انسانی حقوق چھینے ہیں جس کا حل صرف اور صرف کشمیریوں کی شمولیت سے ہندو پاک کے مابین با معنی مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔کمیشن نے ہندوستان کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق کشمیری عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرنے کی صلاح دی۔

کیا کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت ممکن ہے؟

جدید دور کے سب سے پرانے متنازعہ مسئلہ کشمیر پر ابھی تک ہند وپاک کے مابین 1947,1965 اور 1999 میں تین جنگیں لڑی گئی ہیں جبکہ دونوں ممالک میں بٹے کشمیر کے دونوں160اطراف کی سرحدوں اور سیاچن گلیشر پر بھی ہندو پاک کی افواج ڈیرہ جمائے ہو ئی ہیں۔کشمیر کا 43 فیصد حصہ ہندوستان  اور 37 فیصد حصہ پاکستان کے زیر انتظام ہے جبکہ باقی ماندہ 20 فیصد چین کے زیر قبضہ ہے۔ ریاست جموں وکشمیر میں اس وقت 7 لاکھ سے زائد حفاظتی اہلکار تعینات ہیں اور یہ ریاست دنیا میں حفاظتی دستوں کی سب سے بڑی آماجگاہ بن گئی ہے ۔

1987 میں اسمبلی انتخابات میں ہوئی مبینہ دھاندلیاں اس متنازعہ خطے میں ملیٹنسی کی ایک بڑی وجہ بن گئی، جس میں ابھی تک ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہندوستان  کا الزام ہے کہ اسلامی دہشت گرد تنظیمیں کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لئے مسلح آرائی کر رہی ہیں اور پاکستان اْنہیں نہ صرف پناہ دے رہا ہے بلکہ اْنہیں تربیت اور جنگی سازوسامان بھی فراہم کر رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ کشمیری مجاہدین ہندوستان  سے آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں اور پاکستان اْنہیں صرف اخلاقی اور سفارتی تعاون فراہم کر رہا ہے۔ ادھر امریکہ افغانستان سے کنارہ کشی کر رہا ہے اور اس کا سیدھا اثر جموں و کشمیر پر 1990 کی طرح پڑ سکتا ہے۔

 شیخ شوکت کے مطابق ، افغانستان کے حالات سے آنے والے برسوں میں کشمیر میں حالات مزید ابتر ہوں گے کیونکہ کشمیر میں ملیٹنسی سوویت یونین کی افغانستان میں شکست اور پنجاب کے حالات سے شروع ہوئی تھی۔ افغانستان میں پھر وہی صورتحال ابھر رہی ہے جس کا سیدھا اثر کشمیر پر ہوگا۔اس لئے ہند وپاک کو منجمد تعلقات کو بحال کر کے مسئلے کا دیرپا اور قابل قبول حل ڈھونڈھنا ہوگا۔ایک طرف ہندوستان کشمیر کو اپنا ‘اٹو ٹ انگ’ قرار دے رہا ہے، دوسری طرف پاکستان اسے اپنی شہہ رگ مان رہا ہے۔ یہ دونوں ممالک نیوکلیائی طاقت رکھتے ہیں۔ ایٹمی طاقتوں کے شہ رگ اور اٹوٹ انگ کے دعووں کے بیچ میں کشمیریوں کو حقِ خودارادیت حاصل ہوگا۔ یہ ایک جواب طلب سوال ہے۔

بگڑتی سیاسی صورتحال

2015 میں جموں میں قومی اور ریاستی پرچموں کے سایے تلے جب بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان طے پائے گئے ایجنڈہ آف الائنس پر مفتی محمد سعید نے وزیراعظم نریندر مودی کو گلے لگنے کے بعد ریاست کے وزیراعلیٰ کے طور پرحلف لیا ، اسی وقت سے اس بات پر تجزیے شروع ہو گئے تھے کہ ہند نواز جماعت بی جے پی اور ریاست کی ریجنل پارٹی پی ڈی پی کا یہ مشترکہ ایجنڈہ محض کاغذی گھوڑا تو نہیں کیونکہ اس میں وادی اور کنٹرول لائن کے دونوں اطراف اعتماد سازی قائم کرنا، پاکستان کے ساتھ رشتے بہتر کرنا اور حریت سمیت تمام شراکت داروں کے ساتھ بات چیت بھی شامل تھی۔

محبوبہ مفتی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

محبوبہ مفتی کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی (فائل فوٹو : پی ٹی آئی)

انتخابات میں پی ڈی پی سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تاہم حکومت بنانے کے لئے پارٹی نے اسی بی جے پی کے ساتھ اتحاد کیا جس کو دور رکھنے کے لئے مفتی محمد سعید نے انتخابی ریلیوں کے دوران ووٹروں سے اپیل کی تھیں۔ تین ماہ تک چلی بات چیت کے بعد مفتی محمد سعید نے بالآخر بی جے پی کے ساتھ یہ کہہ کر اتحاد کیا تھا کہ وہ ریاستی عوام کے منڈیٹ کا احترام کرتے ہیں اور ریاست میں دیرپا ترقی اور امن و امان کے لئے دو الگ اور متضاد نظریات رکھنے والی جماعتوں کا ملنا ضروری ہے۔یہ سرکار11 ماہ تک یعنی مفتی محمد سعید کے انتقال تک قائم رہی اور یہ اٹکلیں بھی لگائی گئیں کہ نئی پی ڈی پی صدر اور مفتی محمد سعید کی صاحبزادی محبوبہ مفتی بی جے پی کے ساتھ شاید دبارہ اتحاد نہ کرے۔ مگر محبوبہ مفتی نے اس وقت تمام اٹکلیں خارج کر دیں جب انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مرحوم والد کے فیصلے کو غلط ثابت نہیں کرنا چاہتی اور یہ فیصلہ ان کے لئے پتھر کی لکیر ہے۔

دونوں پارٹیوں نے پھر حکومت بنائی اور محبوبہ مفتی نے ریاست کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ کے طور پرحلف لیا تاہم چند ماہ بعد ہی انہیں اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین دور کا اس وقت سامنا ہوا جب جولائی 2016 میں برہان وانی کو ہلاک کیا گیااور پوری وادی میں شدید عوامی احتجاج ہوئے۔عوامی غم و غصے پر قابو پانے اور امن قانون کو بنائے رکھنے کی کوششوں میں محبوبہ مفتی کی سرکار بالکل بے بس نظر آئی اور سرکار کی قیادت میں فورسز کی فائرنگ اور شلنگ میں110 سے زائد نوجوان جان بحق ہوئے، ہزاروں نوجوانوں کو پیلٹ لگے اور درجنوں اپنی بینائی سے محروم ہوئے جبکہ کروڑوں روپے مالیت کی املاک کو بھی نقصان پہنچا اور پوری وادی میں معمولات چار ماہ تک ٹھپ ہو کر رہ گئے۔ محبوبہ مفتی کی قیادت والی سرکار میں یہ تشدد کی سب سے بڑی مثال تھی۔چار ماہ کے احتجاج کے بعد اگر چہ حالات دھیرے دھیرے معمول پر آنے لگے تاہم اعلیٰ تعلیم یافتہ مقامی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ملیٹنسی کی راہیں اختیار کر گئی۔

پروفیسر شیخ شوکت کے مطابق کشمیر کے سیاستدانوں کو ایک نظام کے تحت مراعات کے طور پرکورپشن کا اختیار دیا گیا ہے، اس لئے وہ تشدد کو جائز ٹھراتے ہیں اور ایک نظام کے تحت اپوزیشن میں رہتے وقت اس کی مذمت کرتے ہیں۔ پروفیسر کے مطابق نوجوان عوامی تحریک کو بے سود مان کر اب پھر سے تشدد کی راہ اختیار کررہے ہیں۔

پی ڈی پی اور بی جے پی کا مخلوط اتحاد اس وقت کمزور پڑا جب کٹھوعہ میں سات سالہ بکروال لڑکی کےریپ  اور قتل کے معاملے میں سی بی آئی نے مقامی ہندو لڑکوں کو مجرم قرار دیا جس کے چند دنوں بعد ہندو ایکتا منچ کے تحت ملزموں کو رہا کئے جانے کی ریلیوں میں بی جے پی کے دو لیڈروں اور ریاستی سرکار میں وزراء چودھری لال سنگھ اور چندر پرکاش گنگا نے شرکت کی۔ شدید سیاسی و سماجی تنقید کا شکار بنی پی ڈی پی نے اپنی اتحادی بی جے پی سے ان وزراء کو وزارتی کونسل سے ہٹانے پر مجبور کیا۔ کئی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے سے بی جے پی کو جموں میں اپنی ساخت کمزور دکھائی دینے لگی اور 2018 کے ماہ رمضان میں سینئر صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور رمضان سیز فائر کی ناکامی کو بہانہ بنا کر جون2018 میں پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لے لی اور اس طرح یہ اتحادقوس وقزح کی مانند قلیل الحیات ثابت ہوا۔

گورنر ستیہ پال ملک۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

گورنر ستیہ پال ملک۔  (فوٹو : پی ٹی آئی)

سرکار گرنے کے بعد ریاست میں گورنر راج نافذ ہواتاہم گورنر راج کے دوران حالات میں متوقع بہتری کے بجائے سیاسی اور سکیورٹی صورتحال مزید ابتر ہو گئی۔ گورنر راج کے دوران ریاست میں مقامی پارٹیوں کی رائے کو نظر انداز کر کے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات بھی کرائے گئے تاہم پْرآشوب حالات کی وجہ سے ہزاروں حلقوں میں امیدوار کھڑے نہیں ہوئے اور کئی حلقوں میں جموں160میں مقیم کشمیری پنڈتوں کو امیدواروں کے طور پر پیش کیا گیا۔ الیکشن  کمیشن نے غالباً پہلی دفعہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی نہیں کیا۔ حالانکہ انتخابات پر امن ہی رہے۔

بارہ مولہ میں ایک نو منتخبہ 24 سالہ نوجوان سرپنچ عامرنے وائر کو بتایا ، میں نے انتخابات کے نتائج کے بیس دن بعد ہی دوستوں کو سرپنچ بننے کے خبر دی کیونکہ اس بار حالات کافی برعکس تھے اور میں جان ہتھیلی پر رکھ کر چل رہا تھا، تاہم عامر کے مطابق اب انہیں کوئی ڈر نہیں کیونکہ وہ زمینی سطح پر ڈیولپمنٹ چاہتے ہیں۔ عامر کے مطابق پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت سے ہی مخدوش سیاسی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے۔

 ریاست کی سیاسی صورتحال اس وقت مزید مخدوش ہوئی جب گذشتہ مہینے پی ڈی پی نے این سی اور کانگریس کی حمایت سے سرکار بنانے کا دعویٰ پیش کیا مگر گورنر ستیہ پال ملک نے عجلت میں ریاستی اسمبلی کو تحلیل کیا جس کی یہ کہہ کر سخت نقطہ چینی کی گئی کہ بی جے پی دوبارہ سرکار نہیں بنا سکی اس لئے گورنر نے غیر آئینی طور مقامی پارٹیوں سے حکومت سازی کا حق چھین لیا۔ دوسری طرف گورنر نے اپنے فیصلے کا یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ اْنہیں ریاست میں سیاسی سودا بازی کی شکایات مل رہی تھیں اور اگر وہ اسمبلی کو تحلیل نہیں کرتے تو اْنہیں مرکز کی طرف سے پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون کو حمایت دینے پر مجبور کیا جاتا۔

ادھر پی ڈی پی کے کور ممبر عمران رضا انصاری اور دیگر لیڈروں نے پی ڈی پی پر خاندانی راج کا الزام لگاتے ہوئے پارٹی سے بغاوت کی اور سجاد غنی لون کی پارٹی پیپلز کانفرنس میں شمولیت اختیار کی ، حالانکہ عمران انصاری اور سجاد لون خود سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ابھی تک عمران رضا انصاری، عابد انصاری،راجہ اعجازاور بشارت بخاری جیسے لیڈران پی ڈی پی سے کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں۔ وہ یا تو پیپلز کانفرنس، این سی یا پھر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں اور پی ڈی پی تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہی ہے۔

ریاست کے سیاسی منظر مے پر اس وقت نیشنل کانفرنس سب سے اْبھری ہوئی جماعت نظر آرہی ہے اور اسی رجحان پر پی ڈی پی لیڈران اپنی پارٹی کو بکھرتا دیکھ این سی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اندیشہ ہے کہ 2019 کے اوائل میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی شایدکامیاب نہ ہو۔ اس لئے ریاست میں سیاسی موقع پرستی پنپ رہی ہے۔

سیاسی موقع پرستی سے ریاست کی سکیورٹی صورتحال سمیت سیاسی صورتحال بھی روز بروز مخدوش ہو رہی ہے۔ ایسے میں ہر ایک کی نظر جنوری کے دوسری ہفتے میں سپریم کورٹ میں کشمیریوں کی شناخت سے متعلق دفعہ35A کی سماعت پر مرکوز ہے کیونکہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے دفاع سے جڑی اس دفعہ سے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ ریاست میں خرمن امن کو ایسی آگ لگا سکتی ہے جس پر قابو پانا شاید ہی ممکن ہو!

(نصیر احمد سرینگر میں  مقیم ملٹی میڈیا صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔)

The post 2018 کشمیر کے لئے اس دہائی کا سب سے خونی سال کیوں ثابت ہوا ؟ appeared first on The Wire - Urdu.

Next Article

’شہری جھگیوں میں سیاست کی سمجھ کہیں زیادہ گہری ہے‘

خیال کیا جاتا ہے کہ شہری جھگیوں میں رہنے والے سیاست کو کم سمجھتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔ نقل مکانی اور شہری جھگیوں  پر کتاب لکھنے والے اسکالر طارق تھیچل کہتے ہیں کہ جھگی –جھونپڑی میں رہنے والے سیاستدانوں کے مہرے محض نہیں ہیں۔ ان سے دی وائر ہندی کے مدیر آشوتوش بھاردواج کی بات چیت۔

Next Article

مودی آر ایس ایس کے حقیقی ’سپوت‘ ہیں اور سنگھ مودی سے سب سے زیادہ فیض اٹھانے والا

آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے، ان کو مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعتکار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

نریندر مودی اور سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت۔(تصویر بہ شکریہ: YouTube/narendra modi)

یہ مضمون، 15 جون 2024 کو شائع کیا گیا تھا، وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کے آر ایس ایس ہیڈ کوارٹر کے پہلے دورے کے تناظر میں اس کودوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

‘کیا آپ نے تقریر سنی؟’، میرا دوست پر جوش تھا۔ کون سی تقریر، کس کی تقریر، یہ بتانا بھی انہوں نے ضروری نہیں سمجھا۔ انہیں یقین تھا کہ ان کا محض اتناکہہ دینا کافی ہے اور میں سمجھ جاؤں  گا کہ وہ کس تقریر کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ میں بھی سمجھ ہی گیا تھا، حالانکہ میں نے نہ سمجھنے کا ناٹک کیا۔ دیر تک یہ ناٹک نہیں کیا جا سکتا تھا؛ دراصل  ملک میں ان دنوں  ایک ہی تقریر کا چرچہ ہے! اور وہ موہن بھاگوت کا تازہ ترین پروچن تھا۔

بھاگوت نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ہوئے انتخابات میں قدرومنزلت اور تعظیم  کا خیال نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں اپوزیشن یا حزب اختلاف کا بھی اتنا ہی اہم درجہ ہے جتنا کہ حکمراں جماعت کا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منی پور ایک سال سے امن  کی راہ دیکھ  رہا ہے۔ وہاں آگ لگی  ہوئی ہے یا لگائی  گئی ہے۔

تقریر لمبی ہے۔ اس میں وہ عورتوں کے شراب پی کر  گاڑی چلانے اور اس کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اس ملک کی اخلاقی قدریں  کہاں گم ہو گئی ہیں؟ خیال رہے کہ وہ عورت کے شراب پی کر ڈرائیونگ کرنے کی مذمت کر رہے تھے، اور اسی وقت پونے کے ایک امیر نابالغ لڑکے کے ذریعے گاڑی سے دو لوگوں کو کچل کر مار دیے جانے اور پھر اس معاملے کو پولیس اور عدالت کے ذریعےرفع دفع کرنے کا تذکرہ  بھی ہو رہا تھا۔لیکن بھاگوت نے خواتین کے شراب پی کر گاڑی چلانے کو ہی مثال بناکر پیش کیا!

اس تقریر میں بھاگوت نے گزشتہ برسوں میں ہر پیرامیٹر پر ہندوستان کی ترقی کے حوالے سےقصیدہ خوانی  کی۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ مودی حکومت اور بی جے پی پچھلے 10 سالوں سے اسی جھوٹ کو دہرا رہے ہیں۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ تقریر لمبی ہے اور ہمارے دوست کے ساتھ ہی  ہر ایک شخص  اس کے ایک چھوٹے سے حصے کے پیش نظر پرجوش ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ بھاگوت نے نریندر مودی کی سرزنش کی ہے۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ اگرچہ بھاگوت نے مودی کا نام نہیں لیا، لیکن اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ انہوں نے اخلاقی قدروں کی پامالی کے لیے مودی کی ہی سرزنش کی ہے۔

بھاگوت نے اپنی تقریر میں کہا کہ انتخابات میں جو کچھ ہوتا ہے اس میں آر ایس ایس کے لوگ نہیں پڑتے۔ لیکن انتخابی مہم کے دوران وہ لوگوں کے خیال اور نظریے کی تطہیر کرتے ہیں۔ تو اس الیکشن میں وہ کس طرح کی تطہیر کر رہے تھے؟

جب ان کے ایک سابق پرچارک اور تاحیات سویم سیوک نریندر مودی نفرت کاپرنالابہا رہے تھے، تب آر ایس ایس کس قسم کی تطہیر کر رہا تھا؟ صرف مودی ہی نہیں پوری بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتخابی مہم کو فحش اور نفرت انگیز پروپیگنڈے میں بدل دیا تھا۔ مودی اور ان کی حامی بی جے پی نے پورے ملک کو غلاظت میں نہلا دیا۔ اب لوٹے میں پانی لے کر بھاگوت حاضر  ہوئے ہیں!

سوال قدرومنزلت، تعظیم و تکریم یا اس کی خلاف ورزی کا نہیں ہے، صرف اپوزیشن کی قدرومنزلت کا  نہیں۔اصل سوال ہےاس ملک میں انسانیت کی تعظیم و تکریم  کا، اس کے تحفظ کا، اور وہ اس ملک کا سیکولرازم ہے۔ اقلیتی برادریوں کے تحفظ اور ان کی قدرومنزلت کا سوال اس میں سرفہرست ہے۔ ان کے مساوی حقوق کا سوال اس ملک میں سرفہرست ہے۔

کیا بھاگوت یا آر ایس ایس کا نظریہ اس بارے میں مودی سے مختلف ہے؟ کیا صرف ایک سال قبل آر ایس ایس نے ایک قرارداد پاس نہیں کی تھی، جس میں اس تشویش کا اظہار کیا گیا تھا کہ مسلمان سازش کے تحت اسٹیٹ مشینری میں داخل ہو رہے ہیں؟ کیا آر ایس ایس نے یہ خدشہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے باعث  ہندوستان کی آبادی کی نوعیت اورفطرت بدل جائے گی؟

مودی جس بات کو بڑے کھلے اور بیہودہ انداز میں کہہ رہے تھے، کیا وہ آر ایس ایس کا ہی خیال نہیں ہے؟ پھر مسلمانوں کے خلاف مودی کے نفرت انگیز پروپیگنڈے پر حیرانی کیوں؟

منی پور میں آگ کس نے لگائی؟ منی پور کے سب سے طاقتور ہتھیار بند گروہ آرم بائی تینگول کے ساتھ آر ایس ایس کے تعلقات کے بارے میں منی پور میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، کیا اس میں کوئی صداقت نہیں؟ اگر وہ جھوٹ بھی ہے تو پھر خود آر ایس ایس نے پچھلے ایک سال میں اپنے سویم سیوکوں کی حکومت کو اس بارے میں کب اور کیا کہا؟

پچھلے ایک سال میں آر ایس ایس کے سربراہ کئی ‘پر وچن’  دے چکےہیں۔ انہوں نے ایک بار بھی منی پور کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ خیال رہے کہ شمال-مشرقی ہندوستان میں آر ایس ایس کی سرگرمی بہت پرانی ہے۔ بذات خوداس نے منی پور میں امن کی بحالی کے لیے کیا کوششیں کیں؟

اگر ہم اپنے آپ کو ان باتوں تک محدود رکھیں تو بھی موہن بھاگوت کے اس ‘پروچن ‘ کا دکھاوا اور کھوکھلا پن اجاگر ہو جاتا ہے۔ اس پروچن کا کوئی مطلب نہیں کیونکہ آر ایس ایس بذات خود مسلمان اور عیسائی مخالف نفرت پیدا کرنے والا کارخانہ ہے۔

بھاگوت نے درست کہا کہ شاکھامیں کچھ سال گزارنے کے بعد آدمی بدل جاتا ہے۔یہ تو پوچھنا ہی پڑے گا کہ کیوں آر ایس ایس کے تمام کارکنان مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت کرتے ہیں یا ان کے تئیں  مشکوک رویہ رکھتے ہیں۔ کیوں وہ مسلسل گاندھی سے نفرت  کرتے ہیں؟ کیوں آر ایس ایس کے لوگ، اپنے تمام تر دکھاوے کے بعد بھی ذات پات کے نظام میں کامل یقین رکھتے ہیں؟

جس نریندر مودی کے سلسلے میں اب افسوس کیا جا رہا ہے، کیا آر ایس ایس نے اپنی پوری طاقت اسی مودی کو بلندی تک پہنچانے میں نہیں لگا دی تھی؟ کیا 2002 کے سویم سیوک مودی اور 2024 کے مودی میں کوئی فرق ہے؟ اور کیا خود آر ایس ایس کا پورا وجود جھوٹ اور آدھے سچ پر مبنی نہیں ہے؟ کیا آر ایس ایس اس آئین پر پورے دل سے یقین رکھتی ہے جس کی وہ تعریف کرتا ہے؟ کیا جس  گاندھی کو اس نے یادگار بنا رکھا ہے،اسے مارنے والےگوڈسے اور اس قتل کی سازش میں ملوث ساورکر کے تئیں آر ایس ایس کے لوگوں  میں عقیدت  کا جذبہ نہیں ہے؟

یہ سوال آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو پوچھنا چاہیے، اس کے ناقدین کو نہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آر ایس ایس کے تمام لوگوں میں خود شناسی کا مادہ ختم نہیں ہو گیا  ہے۔ وہ اب بھی اپنے آپ سے کچھ سخت سوال پوچھ کر خود کو آر ایس ایس کے جال سے آزاد کر سکتے ہیں۔

سال 2013 میں، جب نریندر مودی کو پہلی بار بی جے پی کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کا امیدوار بنایا گیا تھا، تو میں نے آر ایس ایس کے ایک سینئر عہدیدار سے پوچھا تھا کہ گجرات میں مودی  نے ان کی تنظیم کے ساتھ جو سلوک کیا تھا،  کیااس کے بعد بھی وہ مودی کی حمایت کریں گے۔ انہوں نےمسکراتے ہوئے کہا، ‘ہم دو طرح سے اپنی اہمیت کھو سکتے ہیں۔ ایک مودی کی ماتحتی میں اور دوسرا کانگریس کی حکومت میں۔ آپ بتائیے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

دوسری بات یہ کہ مودی کے وزیر اعظم بننے کے کچھ عرصہ بعد آر ایس ایس کے ایک رکن نے مجھ سے کہا، ‘اگر آپ میں سے کوئی یہ سمجھتا ہے کہ آر ایس ایس کبھی مودی کو ڈسپلن کرے گا، تو یہ آپ کی خوش فہمی ہے۔ آپ بتائیے کہ آر ایس ایس کے  کس چیف کو زیڈ سکیورٹی ملی تھی، کس چیف کی تقریر ہر ٹی وی چینل نے چلائی، کون سوچ سکتا تھا کہ ہر کوئی اسے اتنی اہمیت دے گا؟ یہی نہیں، آر ایس ایس کے چُھٹ بَھیّے کو بھی اب جو اہمیت وزارتوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک  میں مل رہی ہے، وہ اور کب ملی تھی۔ یہ سب کس کی مہربانی ہے؟’

نریندر مودی آر ایس ایس کےحقیقی ‘سپوت’ ہیں۔ اور آر ایس ایس مودی کا سب سے بڑا ‘لابھارتھی’ ہے۔ آر ایس ایس کے جن خیالات کو پردے میں  رکھ کر اٹل بہاری یا لال کرشن اڈوانی پیش کیا کرتے تھے ان کو  مودی کے منہ سے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے سنا جا سکتا ہے۔ اور مودی کی وجہ سے بہت سے دانشور اور صنعت کار آر ایس ایس کی سلامی بجاتے ہیں۔ آر ایس ایس  کواور کیا چاہیے؟

Next Article
Next Article

سنگھ بی جے پی تعلقات میں نئی ​​گرمجوشی؟

سنگھ اور بی جے پی کے رشتوں میں پچھلے ایک سال میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد بی جے پی کھل کر سنگھ کی تعریف کرتی نظر آ رہی ہے۔ حال ہی میں نریندر مودی وزیر اعظم بننے کے بعد پہلی بار سنگھ ہیڈ کوارٹر پہنچے۔ کیا سنگھ بدل رہا ہے؟ سنگھ-بی جے پی کے رشتوں پر سینئر صحافیوں – راہل دیو اور دھیریندر جھا کے ساتھ آشوتوش بھاردواج کی بات  چیت۔

جون 2024 میں ریکارڈ کیے گئے اور شائع کیے گئے اس ویڈیو کو وزیر اعظم بننے کے بعد نریندر مودی کے سنگھ ہیڈ کوارٹر کے پہلے دورے کے تناظر میں دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔

Next Article

سوغات مودی: خون سے لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج کا لازمی عنصر بنانے کی مہم نریندر مودی کی قیادت میں کامیاب رہی ہے۔ قاتل کو مقتول کا سرپرست بناکر پیش کرنے سے بڑھ کر بے شرمی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے۔

(پوسٹر بہ شکریہ: بی جے پی)

(پوسٹر بہ شکریہ: بی جے پی)

جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ بے حیائی اور گھنونے پن  کی ساری حدیں پار کی جا چکی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ ہمیں اس حد کے بارے میں سوچنے کو مجبور کر دیتی ہے۔ نفرت اور تشدد بے شرمی ہیں یا نہیں؟ یہ سوال دوسرے ذہنوں  میں بھی پیدا ہوئے جب خبر آئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی عید کے موقع پر 3200000 مسجدوں میں 32 لاکھ مسلمانوں کے درمیان ‘سوغات مودی’ تقسیم کرے گی۔ ایک تصویرذہن میں ابھری خون میں لتھڑا ہاتھ اپنے شکار کے منہ میں مٹھائی ٹھونس رہا ہے۔

سوغات دینے کا کام اس کا اقلیتی مورچہ کرے گا۔ یعنی راشٹر وادی یا ہندوہردیہ والے مسلمان چہرے۔مورچے کا کہنا ہے کہ رمضان میں ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کرنے کی روایت ہے، اس لیے اس بار بی جے پی نے یہ مقدس کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صرف اسلام میں  نہیں، ہندو دھرم میں بھی مانا جاتا ہے کہ دوسروں کی مدد کرنا، خاص طور پر کمزوروں کی مدد کرنے سے  نیکی ملتی ہے۔ لہٰذا، اس امداد سے ضرورت مندوں  کو جتنا  فائدہ پہنچتا ہے، اسے دینے والے کو بھی تقریباً اتنا ہی یا زیادہ فائدہ ملتا ہے۔ ایک طرح سے وہ اپنی بعد کی زندگی کو بہتر بنا رہا ہوتا ہے۔

لیکن نیکی صرف اس عمل سے حاصل ہوتی ہے جس کے بدلے کسی چیز کی خواہش کیے بغیر دوسروں کی مدد کی جائے۔ تقریباً ہر کلچر میں کہا گیا ہے کہ اصل صدقہ وہی ہے جس میں بائیں ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ دائیں ہاتھ نے کیا دیا ہے۔ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کسی روحانی مقصد کے ساتھ ایسا نہیں کر رہی ہے۔ اس کا مقصد بالکل دنیاوی ہے۔

لوگ قیاس آرائیاں کر رہے ہیں کہ ایسا کرنے سے وہ مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کر سکے گی اور ان کے کچھ ووٹ حاصل کر سکے گی۔ وہ ہندوستانی رائے دہندگان میں اپنی بنیاد بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ علاقہ مسلمانوں کا ہے جہاں اس کی رسائی نہیں ہے۔ اب اس طرح ہاتھ بڑھا کر وہ اس علاقے میں قدم جمانا چاہتی ہے۔

یہ اس کے اقلیتی مورچہ کے عہدیدار کے بیان سے معلوم  ہوتا ہے؛’جمال صدیقی نے کہا کہ عید ملن کی تقریبات کا انعقاد ضلع سطح پر بھی کیا جائے گا۔ اقلیتی مورچہ  کے قومی میڈیا انچارج یاسر جیلانی نے کہا کہ ‘سوغات مودی’ اسکیم بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے مسلمانوں کے بیچ فلاحی اسکیموں کو فروغ دینے اور بی جے پی اور این ڈی اے  کی سیاسی حمایت کے لیےشروع کی گئی مہم ہے۔’

خبر پڑھنے کے بعد پہلی چیز جس نے میری توجہ مبذول کرائی وہ یہ تھی کہ بی جے پی نے ایک اقلیتی مورچہ کھول رکھا ہے۔ یعنی وہ ہندوستان میں اقلیت کے تصور کو درست تسلیم کرتا ہے۔ یہ اس کے نظریاتی موقف سے مختلف ہے کیونکہ اس کی مربی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یہ ماننے سے انکار کرتی ہے کہ ہندوستان میں اقلیت جیسی کوئی آبادی ہے۔ اگر ہے بھی تو وہ مسلمانوں کو اقلیت نہیں مانتی کیونکہ ان کی تعداد کروڑوں میں ہے۔

جس مودی کے نام کی سوغات بے چارے مسلمانوں کو دی جا رہی  ہے، انہوں نے بھی مسلمانوں کی جگہ پارسیوں کا نام لیا تھا ان کو مائیکرو اقلیت کہہ کر تاکہ مسلمانوں کے اقلیت ہونے کے دعوے کا مذاق اڑایا جا سکے۔ آپ بی جے پی کے کسی بھی شخص سے بات کریں تو وہ کہے گا کہ مسلمان اقلیت کیسے ہوسکتے ہیں!

یہ بھی یاد رکھیے کہ بی جے پی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی اقلیتی حیثیت کو ختم کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے۔ وہ اسکول اور اعلیٰ تعلیمی سطحوں پر اقلیتوں کے وظائف کو ختم کر رہی ہے۔ مدارس کو بند کر رہی ہے اور مختلف مقامات پر مختلف بہانوں سے انہیں چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کر رہی ہے۔

مجھے اپنا ابتدائی زمانہ یاد ہے، جب آر ایس ایس کے  میرے ایک جاننے والے کہتے تھے کہ مسلمانوں کو محمدیہ ہندو کہا جانا چاہیے، انہیں بھی اپنے آپ کو یہی کہنا چاہیے۔ اب معلوم ہوا کہ بی جے پی مسلمانوں کو مسلمان مانتی  ہے اور اقلیت بھی۔ لیکن ان کے بیان سے ہی  واضح ہو جاتا ہے کہ ان کی لالچی نگاہ  میں وہ محض ایک ممکنہ ووٹر ہیں، جنہیں اس سوغات سےرجھانےکی کوشش کی جا رہی  ہے۔

یہ سوچتے ہوئے کہ غریب اور ضرورت مند مسلمان عید اچھی طرح منا سکیں، بی جے پی نے ایک عیدکی تھیلی  تیار کی ہے، جس کی مالیت 500-600 روپے ہے۔اس میں چینی ہے، کچھ خشک میوہ جات اور کپڑا بھی ہے!

بی جے پی کو یقین ہے کہ مسلمان اس کی سخاوت کا کچھ تو لحاظ کریں گے اور ووٹوں سے اس کی جھولی  بھر دیں گے۔ بی جے پی کے پاس پیسہ ہے، مسلمانوں کے پاس ابھی صرف ووٹ رہ گیا ہے۔ اس سے اس کے تمام حقوق چھین لیے گئے ہیں۔ بس، یہ بچا رہ گیا ہے۔ وہ بھی  بی جے پی کو چاہیے۔

لیکن پہلے ہم اس سوغات کے نام کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اس نے اسے سوغات بھاجپا  نہیں کہا، حالانکہ یہ ملک گیر سوغات دینے  کا کام بی جے پی ہی  کرے گی۔ اس کا نام نریندر مودی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی نے خود کو مودی کے ساتھ مکمل طور پر ضم کر لیا ہے اور اسے اس میں کوئی شرم نہیں ہے۔ اتحاد کی  حکومت کو این ڈی اے حکومت تو چھوڑیے،بی جے پی کی حکومت بھی نہیں کہا جاتا۔ وہ مودی حکومت ہے۔ بی جے پی کی یہ قابل رحم حالت تاریخ میں پہلے ہی درج ہو چکی ہے۔


یہ سوغات اسی نریندر مودی کے نام پرہے جو صرف ایک سال پہلے ہندوؤں کو یہ کہہ کر ڈرا رہا تھا کہ اگر انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو مسلمان ہندوؤں کا حصہ چھین لیں گے۔

مودی-بی جے پی کے لوگ  کیا غریب مسلمانوں کی  لائن لگوائیں گے اور انہیں یہ تھیلیاں  دیں گے؟ یا وہ گھر گھر جائیں گےاورعید مبارک کہتے ہوئے یہ تحفہ دیں گے؟ کیا وہ فیضان کے گھر جائیں گے جسے ان کی حکومت کی پولیس نے قومی ترانہ گانے کے لیے  مارااور وہ مر گیا؟ کیا وہ پہلو خان کے گھر بھی جائیں گے یا علیم الدین کے؟


ہم انہیں مشورہ دیں گے کہ وہ دہلی میں حمزہ، امین، بھورے لال، مرسلین، آس محمد، عقیل احمد، ہاشم علی اور عامر خان کے گھر جائیں،جنہیں  5 سال قبل دہلی تشدد کے دوران جئے شری رام نہ کہنے پر ماردیا گیا تھا۔

وہ  دادری کے محمد اخلاق، ادھم پور کے زاہد رسول بھٹ، لاتیہار کے محمد مظلوم اور آزاد خان، آسام کے ابو حنیفہ اور ریاض الدین کے گھر بھی جائیں، جنہیں گزشتہ سالوں میں گئو رکشا کے نام پر مار ڈالا گیا۔

یہ ان ڈھیر سارے ناموں میں سے چند نام ہیں جنہیں  بی جے پی کی سیاست نے قتل کر دیا۔ ان سینکڑوں خاندانوں کا نام نہیں لیا جا رہا،جن کے گھر بی جے پی حکومتوں نے بلڈوزر سے منہدم کر دیے ہیں۔ وہ اس سوغات کو کہاں سنبھال کر رکھیں گے؟

مودی کی بی جے پی کے لوگوں کو ان لوگوں سے بھی ملنا چاہیے جن کی روزی روٹی تباہ ہو چکی ہے کیونکہ ہر ہندو تہوار پر ان کی دکانیں بی جے پی والوں نے بند کروائی ہیں۔

یہ سوغات نریندر مودی نامی  اسی بی جے پی لیڈر کے نام  پرہے جو صرف ایک سال پہلے ہندوؤں کو یہ کہہ کر ڈرا رہا تھا کہ اگر انہوں نے بی جے پی کو ووٹ نہ دیا تو مسلمان ہندوؤں کا حصہ غصب کر لیں گے۔


نریندر مودی بی جے پی کی سیاست کا سب سے کامیاب چہرہ ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی گزشتہ کئی دہائیوں سے جس کی تلاش میں تھی، وہ انہیں نریندر مودی میں مل گیا۔ جو اینٹی مسلم سوچ کی  مجسم صورت ہے۔ جو منہ کھولے  نہ کھولے، مسلمانوں کے خلاف نفرت، ان کے وجود کے تئیں حقارت خود بخود ظاہر ہو جاتی ہے۔ مودی نے ثابت کیا ہے کہ مسلمانوں کے وجود سے مکمل انکار ہی اصل ہندوتوا ہے۔


مودی حکومت نے 2002 کے تشدد کے بعد مسلمانوں کے ریلیف کیمپوں کو زبردستی بند کروا  دیا تھا۔ مودی نے یہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا تھا کہ کیا دہشت گردوں کو پیدا کرنے کی  فیکٹری چلنےدینی چاہیے؟

مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تشدد کو ہندو سماج کے مزاج  کا لازمی عنصر بنانے کی آر ایس ایس کی مہم اگر کسی کی قیادت میں کامیاب ہوئی ہے تو اس شخص کا نام نریندر مودی ہے۔

قاتل کو مقتول کا سرپرست بنا کر پیش کرنے سے بڑھ کر بے حیائی بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟ طلاق ثلاثہ قانون کے بعد بی جے پی کے ایسے پوسٹر دیکھے گئے جن میں مودی کو مسلمان  عورتوں  کا بھائی بتایا گیا تھا۔ مسلمان عورتوں کا بھائی جو ان کو مسلمان مردوں کے ظلم سے بچائے گا۔اس پبلسٹی کو دیکھ کر  بھی گھن پیدا ہوئی تھی۔

مسلمانوں کو مدد کی ضرورت ہے۔ دوستی کی  مدد کی۔ جیل میں قید مسلمانوں کے  لیے وکیل،  ضمانت، جومسلمان مار ڈالے گئے ان کے خاندانوں کی کفالت، جن کے گھر، مکان ، دکان گرادیے گئے ان کے لیےچھت کی مدد۔ یہ سوغات نہیں ہوگی۔ مسلمان جو مطالبہ کر رہے ہیں وہ مساوی حقوق اور انصاف ہے۔ وہ عیدی نہیں مانگ رہے ہیں۔ مساوات اور انصاف سوغات کے طور پر نہیں ملتے۔ انہیں حق کی طرح حاصل کرنا ہوتا ہے۔ مسلمان صبر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ کیا اس عید پر ہندو یہ عہد کر سکتے ہیں کہ وہ اس جدوجہد میں ان کا ساتھ دیں گے؟

اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔