بریلی سے تعلق رکھنے والے حسین خان کو مبینہ طور پر پولیس نے اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا اور ان کے گھر پر بلڈوزر چلانے کی دھمکی دی گئی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں دو مسلح سکیورٹی اہلکار فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ حسین خان یا ان کی جائیداد کے خلاف کسی بھی طرح کی تشدد کی کارروائی کے لیے ریاست کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
الہ آباد ہائی کورٹ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے بدھ (11 مارچ) کو
ریاستی حکومت کو ہدایت دی کہ بریلی سے تعلق رکھنے والے حسین خان کو دو مسلح سکیورٹی اہلکار فراہم کیے جائیں۔ حسین خان کو مبینہ طور پر پولیس نے ان کے گھر میں نماز پڑھنے سے روک دیا تھا۔
اس سلسلے میں طارق خان کی جانب سے ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ جسٹس اتل شری دھرن اور جسٹس سدھارتھ نندن کی ڈویژن بنچ نے خبردار کیا کہ حسین خان یا ان کی جائیداد کے خلاف کسی بھی قسم کی تشدد کی کارروائی کے لیے ریاست کو ذمہ دار سمجھا جائے گا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا،’یہ سکیورٹی اہلکار جہاں بھی وہ جائیں گے، ان کے ساتھ رہیں گے۔’
یہ حکم اس وقت دیا گیا جب حسین خان اپنے خاندان اور جائیداد کی حفاظت کی درخواست کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے مزید کہا،’حسین خان کی ذات یا جائیداد کے خلاف ہونے والی کسی بھی پرتشدد کارروائی کو ابتدائی طور پر ریاست کی طرف سے کرایا گیا سمجھا جائے گا، تاہم بعد میں اس مفروضے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔’
اس سے پہلے حسین خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ اس وقت ریاستی حکومت نے تسلیم کیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے تحت انہیں اپنے گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
اس کے باوجود الزام ہے کہ جب وہ نماز پڑھ رہے تھے تو پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا اور ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ انہیں گھر پر بلڈوزر چلانے کی دھمکی دی گئی اور خالی کاغذات پر دستخط کرنے کے لیے مجبور کیا گیا۔
انڈین ایکسپریس کے مطابق، حسین خان نے عدالت کو بتایا،’اس دن میں اپنے گھر میں نماز پڑھ رہا تھا۔ میرے خاندان کے افراد بھی نماز پڑھ رہے تھے۔ اسی دوران پولیس مجھے اٹھا کر لے گئی اور میرا چالان کر دیا۔ بعد میں پردھان عارف اور مختار مجھ سے ملے اور کہا گیا کہ اگر میں عدالت میں ان کے مطابق بیان نہیں دوں گا تو میرے گھر پر بلڈوزر چلا دیا جائے گا۔ اس کے بعد عارف پردھان اور کچھ لوگ مجھے گاؤں کے باہر لے جا کر چھوڑ گئے۔ پولیس والوں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا اور ایک کاغذ پر میرا انگوٹھا لگوا لیا، جس پر کچھ لکھا ہوا تھا۔ میں اسے پڑھ نہیں سکا کیونکہ میں ان پڑھ ہوں۔’
عدالت نے توہین عدالت کے الزامات کے سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ اویناش سنگھ اور سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انوراگ آریہ سمیت اعلیٰ افسران کو 23 مارچ کو طلب کیا ہے۔