میرا جی کے بارے میں اختر الایمان کا ایک خط

04:55 PM Jan 08, 2019 | اختر الایمان

میرا جی اپنے زمانے کا بڑا نام تھا، میں نے بمبئی کے تمام ادیبوں کو اطلاع بھجوائی، اخبار میں بھی چھپوایا مگر کوئی ادیب نہیں آیا۔ جنازے کے ساتھ صرف 5آدمی تھے۔ میں، مدھو سودن، مہندر ناتھ، نجم نقوی اور میرے ہم زلف آنند بھوشن۔

فوٹو: سہ اآتشہ

عزیزم رشید امجد!

سلام بن رزاق نے آپ کا خط پہنچا دیا تھا، انہیں دنوں مجھے آنکھ کا آپریشن کرانا پڑا اور لکھنا پڑھنا کچھ دنوں کے لئے معطل ہو گیا۔ میرا جی کی شخصیت اور فن پر لکھنا تو لمبا کام ہے، کبھی کراچی یا اسلام آباد آیا تو ملئے، اس موضوع پر باتیں کر لیں گے۔ وہ پارسی لڑکی جس کے بارے میں آپ جاننا چاہتے ہیں اس کا نام منی رباڈی ہی تھا۔ اس لڑکی سے میرا جی کے عشق کو بہت اہمیت نہ دیجئے۔ ایسی اور بہت لڑکیاں ہیں۔ دو ایک دلی ریڈیو اسٹیشن میں تھیں۔ مجھے ان کے نام یاد نہیں۔

میرا جی بمبئی آنے کے بعد کچھ دن چار بنگلے میں بھی رہے تھے۔ یہ ایک بہت بڑی کوٹھی نما عمارت تھی۔ کس کی تھی؟ مجھے نہیں معلوم۔ اکثر ادیبوں اور شاعروں کو یہاں رہنے کا ٹھکانا مل جاتا تھا۔ کرشن چندر، ساحر لدھیانوی، وشوا متر عادل اور کئی ادیب اور شاعر بمبئی آنے کے بعد وہیں رہے تھے۔ میرا جی بھی کچھ دن وہاں رہے۔ کچھ دن دادرا میں مہندر ناتھ کے پاس رہے۔ اس کے بعد موہن سہگل کے پاس ما لنگا منتقل ہو گئے تھے۔ موہن سہگل، وشوا متر عادل، منی رباڈی، اس کی بہن نرگس جو فلموں میں شمیؔ کے نام سے معروف ہوئی اور ان کے ساتھ اور بہت سے لڑکے، لڑکیاں انڈین پیپلز تھیٹر سے وابستہ تھے۔ منی رباڈی، موہن سہگل کی دوست تھیں وہ آج کل فلموں میں ڈریس ڈیزائنر کا کام کرتی ہیں۔

میں ان دنوں شالیمار پکچرس سے وابستہ تھا جو پونے میں تھی۔ جوش ملیح آبادی اور کرشن چندر بھی وہیں تھے۔ تقسیم ہند کے بعد کمپنی کے مالک ڈبلیو  زیڈ احمد لاہور چلے گئے۔ کمپنی بند ہو گئی، میں بمبئی آ گیا۔ میرا جی سے میری پہلی ملاقات 40 یا41 میں آل انڈیا ریڈیو پر ہوئی تھی۔ کچھ دن میں نے بھی وہاں کام کیا تھا۔ شام کو اکثر ہم دونوں کا ساتھ رہتا تھا۔ دلی میں لال قلعہ کے سامنے جو بازار ہے وہاں ایک ریستوران تھا وہاں بیٹھ کر ڈرافٹ بیر پیا کرتے تھے۔ چھے آنے کا گلاس ملا کرتا تھا۔

میں دلی سے میرٹھ چلا گیا۔ کچھ دن سپلائی کے محکمے میں کام کیا پھر ایم اے کے لیے علی گڈھ یونیورسٹی چلا گیا۔ علی گڈھ سے پونے گیا تھا۔ میرا جی بھی تلاشِ معاش میں بمبئی آئے وہاں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ملا تو میرے پاس پونے آ گئے اور میرے پونا چھوڑنے تک وہیں میرے پاس ہی رہے۔ کام وہاں بھی انہیں نہیں مل سکا۔ 47 میں جب بمبئی آیا تو میرا جی بھی آ گئے۔ موہن سہگل فلم ڈائریکٹر بن گئے اور وہ مکان چھوڑ گئے۔ وشوا متر عادل مدراس کی ایک فلم کمپنی سے متعلق ہو کر مدراس چلے گئے۔ مہا جی نام کے ایک فلم جرنلسٹ میرے دوست تھے۔ لاہور جاتے وقت وہ اپنا فلیٹ مجھے دے گئے۔ وہ فلیٹ میں نے مدھو سودن اور میرا جی کو دے دیا۔

کچھ مدت وہاں رہنے کے بعد میرا جی بیمار ہو گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا ان کی آنتوں میں زخم ہو گئے ہیں۔ یہ کثرت سے دیسی کچی شراب پینے کا نتیجہ تھا۔ مجھے باندرہ میں ایک مکان مل گیا تھا، میں انہیں اپنے پاس لے آیا۔ دو ڈاکٹر ان کا علاج کرتے رہے۔ ان میں ایک ہومیو پیتھ تھا۔ میرا جی کا اصرار تھا انہیں ضرور بلایا جائے۔ اس کے باوجود بھی کہ علاج برابر جاری رہا انہیں افاقہ نہیں ہوا اور ان کی حالت اتنی بگڑ گئی کہ حوائج ضروری کے لئے پلنگ سے اُٹھ کر پا خانے تک جاتے جاتے کپڑے خراب ہو جاتے تھے۔ فرش تک گندہ ہو جاتا تھا۔ مہترانی نے کچھ دن کام کرنے کے بعد انکار کر دیا۔ وہ کام میری بیوی کو کرنا پڑا۔

میری شادی انہیں دنوں ہوئی تھی، میری بیوی کم عمر بھی تھیں، سولہ سترہ کے قریب ان کی عمر تھی۔ میری اور ان کی عمر میں پندرہ سال کا فرق تھا۔ میرے گھر کے قریب بھابا اسپتال تھا۔ اس کے انچارج ڈاکٹر طوے میرے دوست تھے۔ میرا جی کی یہ حالت دیکھ کر انہوں نے مشورہ دیا میں انہیں اسپتال میں منتقل کر دوں۔ کھانا گھر سے بھجوا دیا کروں، اس لئے کہ ساگودانہ یا اسی طرح کا بہت ہلکا کھانا ڈاکٹر نے ان کے لئے تجویز کیا تھا، چنانچہ انہیں بھابا اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔ ایک دو بار میں اسپتال جاتا تھا، ڈاکٹر بھی آتے رہتے تھے۔

بہ شکریہ : کلیات میراجی

ایک بار ڈاکٹر طوے نے آ کر شکایت کی کہ میرا جی پرہیز نہیں کرتے۔ برابر کے مریضوں سے مانگ کر دال چاول کھا لیتے ہیں۔ میں نے اسپتال جا کر انہیں بہت سمجھایا مگر میری بات کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوا اور نہایت ڈھٹائی سے کہنے لگے :’’میں تو گھر میں رات کو باورچی خانے میں جا کر کھانا کھا لیتا تھا‘‘۔ تب مجھے احساس ہوا کہ اتنے علاج کے باوجود بھی وہ ٹھیک کیوں نہیں ہوئے۔ میں نے انہیں لالچ بھی دیا کہ آپ ٹھیک ہو جائیں گے تو والدہ کے پاس لاہور بھجوا دوں گا مگر اُن کی حالت گرتی ہی چلی گئی۔ اور ایک روز ڈاکٹر نے مجھے بتایا ان کی ذہنی حالت بگڑ گئی ہے…ہو گیا ہے۔ مجھے بڑا افسوس ہوا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ آتشک کے مریضوں کے ساتھ ایک عمر میں یہ ہو جانا ممکن ہے۔ ان کی عمر اس وقت 37 کے قریب تھی مگر بال سب سفید ہو گئے تھے۔ انجان لوگ کبھی کبھی پوچھ بیٹھتے تھے ’’یہ آپ کے والد ہیں ؟‘‘۔

اُس روز انہیں بھابا اسپتال سے کے ای ایم(KEM )اسپتال میں منتقل کیا۔ ڈاکٹر نے کہا انہیں بجلی کے جھٹکے دینے پڑیں گے۔ میرا جی یہ سن کر بہت افسردہ ہوئے۔

’’اختر میں یہ نہیں چاہتا‘‘

’’آپ اچھے ہو جائیں گے ‘‘

’’میرے…دور ہو گئے تو لکھوں گا کیسے ؟‘‘انہوں نے افسردہ ہو کر کہا

میں ہنسنے لگا ’’لکھنا تو آپ کے دماغ کا کمال ہے…کا نہیں۔ ‘‘

ایک نوجوان ڈاکٹر جو لاہور سے آیا تھا مجھ سے پوچھنے لگا میرا جی وہ شاعر تو نہیں جو لاہور میں تھے ؟

میں نے کہا یہ وہی ہیں۔ اس نے ان کے علاج میں بہت دلچسپی لی۔ میں اور سلطانہ، میری بیوی روز انہیں دیکھنے جاتے تھے۔ ایک روز جو گئے تو معلوم ہوا، انہوں نے ایک نرس کی کلائی میں کاٹ لیا۔ میں نے کہا ’’میرا جی اتنی خوبصورت نرس کی کلائی میں کاٹ لیا آپ نے ‘‘

بگڑ کر کہنے لگے ’’ پھر اس نے مجھے انڈہ کیوں نہیں دیا کھانے کو۔ ‘‘

ایک دو روز بعد ریل گاڑیوں کی ہڑتال ہو گئی اور میں شام کو اسپتال جا نہیں پایا۔ رات کو کھانا کھا رہا تھا کہ اسپتال کا تار ملا کہ میرا جی گزر گئے۔ میرے پڑوس میں نجم الحسن نقوی رہتے تھے، مشہور فلم ڈائریکٹر تھے۔ میں نے ان سے ذکر کیا اور ہم دونوں اسی وقت ایڈورڈ میموریل اسپتال پہنچے اور اگلے روز لاش پہنچانے کی بات کر کے انہیں…میں رکھوا دیا۔

میرا جی اپنے زمانے کا بڑا نام تھا، میں نے بمبئی کے تمام ادیبوں کو اطلاع بھجوائی، اخبار میں بھی چھپوایا مگر کوئی ادیب نہیں آیا۔ جنازے کے ساتھ صرف پانچ آدمی تھے۔ میں، مدھو سودن، مہندر ناتھ، نجم نقوی اور میرے ہم زلف آنند بھوشن۔ میرن لائنز کے قبرستان میں تجہیز و تکفین کے فرائض انجام دئیے اور انہیں سپردِ خاک کر کے چلے آئے۔ وفات کی تاریخ 3 نومبر 1949 پیدائش 25مئی 1912 دن سنیچر

فوٹو : سہ آتشہ

بھرتری ہری کا ترجمہ اتنا ہی جتنا چھپا ہے، البتہ خیامؔ کی رباعیوں کا کچھ ترجمہ میرے پاس ہے۔ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی دو کتابوں کے مسودے ’’تین رنگ‘‘ اور ’’سہ آتشہ‘‘ میرے پاس ہیں۔ کئی سال ادھر کی بات ہے میں بیمار ہو گیا تھا۔ احتیاطاً میں نے اکثر نظمیں نقل کر کے جمیل جالبی اور سب کو بھجوا دی تھیں، وہیں نظمیں اکٹھی کر کے ان کا مجموعہ چھاپا گیا ہے۔ چونکہ باہر نظمیں چھپ گئی تھیں اس لئے میں نے کتاب نہیں چھاپی۔ اب ارادہ کر رہا ہوں، شاید کچھ نظمیں رہ گئیں۔

انہوں نے آپ بیتی لکھنے کی نیت کئی بار کی تھی مگر کبھی ایک صفحہ، کبھی ڈیڑھ صفحہ لکھا اور چھوڑ دیا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ میرا جی سے متعلق تاثرات جاننے کے لئے یا تو آپ کبھی بمبئی آئیے یا کبھی میں اُدھر آیا تو ملئے۔

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔

اختر الایمان

27 اکتوبر 1991

(بہ شکریہ ؛سوغات ،شمارہ:5)

The post میرا جی کے بارے میں اختر الایمان کا ایک خط appeared first on The Wire - Urdu.