اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔

میناب کی طالبات کے اسکول بیگ۔ تصویر بہ شکریہ: ایکس / تہران ٹائمز
رمضان کی دیر شب تراویح سے لوٹ کر، ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ کے علاقے مالتپے میں ایک چھوٹی سی کریانے کی دکان چلانے والے میرِے گُولولو اپنے ٹیلی ویژن اسکرین سے چند انچ کے فاصلے پر ایران پر ہونے والی امریکی اور اسرائیلی بمباری کا منظر دیکھ رہے تھے۔
ان کی اہلیہ یاسمین کہہ رہی تھی کہ صبح ایران پر حملوں کی خبر سن کر وہ سکتے میں آگئے تھے۔’اب صرف وقت کی بات ہے، سب کی باری آئیگی۔’
باہر انقرہ معمول کے مطابق پُرسکون دکھائی دے رہا ہے۔ گاڑیاں رواں ہیں، چائے خانے آباد ہیں۔ مگر گھروں کے اندر اور اسمارٹ فون کی اسکرینوں پر ایک خاموش اضطراب پھیل رہا ہے۔
اگر تہران جل سکتا ہے تو انقرہ اور استنبول دوحہ، بغداد، بیروت اور مغربی ایشیا کے دیگر شہر کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
انقرہ یونیورسٹی میں ایک ایرانی طالبعلم حسین سارا دن اپنے والدین کو فون ملاتے رہے۔ کوئی جواب نہیں ملا۔ شام ڈھلے ایک کزن نے اس خدشے کی تصدیق کر دی جس سے وہ ڈر رہے تھے۔
تہران کے علاقے نارمک میں واقع ان کا خاندانی اپارٹمنٹ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔وہ مرکزی تہران سے اٹھتے دھویں کے مرغولوں کی تصاویر اسکرول کرتے ہیں۔
جمہوری اور پاستور کے قریب کی سڑکیں، جہاں صدارتی دفتر اور رہبرِ اعلیٰ کی رہائش گاہ زیادہ دور نہیں کم و بیش تباہ ہوچکی ہیں۔ انقرہ کے مرکزی علاقے کزلائی میں کیفے خانوں کے اندر طلبہ بے چینی کے عالم میں گروپوں میں جمع ہیں۔
کچھ کا خیال ہے کہ ایران نے خود تصادم کو دعوت دی ہے۔ بعض کو اندیشہ ہے کہ یہ حملہ جنگ کو اور پھیلا دے گا۔ مگر ایک نکتے پر اکثر متفق ہیں؛ مشرق وسطیٰ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
پروفیسر ولی نصر نے ایک ترک ٹی وی کو بتا رہے تھے کہ یہ محض عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک جغرافیائی سیاسی زلزلہ ہے جو دہائیوں تک خطے کی ساخت بدل سکتا ہے۔
ان کے مطابق، اسرائیل کی تزویراتی افق میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اسرائیل اور مغربی بلاک کو معلوم ہے کہ ایران اور وہ شیعہ خطہ جو طویل عرصے تک چیلنج رہا، اب زوال پذیر خطرہ ہے۔
اب ا گلا ٹارگیٹ وسیع تر سنی بلاک ہے، جس میں ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور قطر شامل ہیں۔یہ تجزیہ اب صرف علمی بحث تک محدود نہیں رہا ہے۔
اسرائیلی سیاسی قیادت نے براہ راست ترکیہ اور سنی اتحاد کا نام لینا شروع کر دیا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ، جن کی قومی سیاست میں واپسی متوقع سمجھی جا رہی ہے، نے اعلانیہ طور پر ترکیہ کو بڑھتا ہوا تزویراتی خطرہ قرار دیا ہے۔
یروشلم میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کو ‘ایک ماہر اور خطرناک حریف’ کہا، جو ان کے بقول اسرائیل کو ‘گھیرنے’ کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل دوبارہ ‘آنکھیں بند’ نہیں کر سکتا اور اسے تہران سے لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ انقرہ سے آنے والی ‘مخاصمت’کے خلاف بیک وقت اقدام کرنا ہوگا۔
ینیٹ نے اس سے آگے بڑھ کر ترکیہ اور قطر کے درمیان ایک ابھرتے ہوئے علاقائی محور کا خاکہ کھینچا اور مسلم دنیا میں وسیع تر صف بندیوں کا حوالہ دیا۔
اس طرح کی زبان اور اس کا وقت ترکیہ میں بے چینی پیدا کر رہا ہے۔ اگرچہ فوری میدانِ جنگ ایران ہے، مگرترکیہ میں میں ان بیانات کو تزویراتی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو نے بھی اسی لہجے کو تقویت دی ہے۔ حالیہ بیانات میں انہوں نے یونان اور یونانی قبرصی انتظامیہ سمیت نئے اتحادوں کی تعمیر کی بات کی، جسے بہت سے تجزیہ کار ترکیہ کے علاقائی کردارکو چیلنج کرنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھتے ہیں۔
غزہ، لبنان، شام اور اب ایران میں پھیلتی عسکری کارروائیوں کے پس منظر میں نئی تزویراتی رقابتوں کی گفتگو محض مفروضہ نہیں بلکہ تسلسل کا تاثر دیتی ہے۔
انقرہ کی سڑکوں پر ٹیکسی ڈرائیور اپنے فون پر یہی کلپس دوبارہ چلاتے ہیں۔ دکاندار بحث کرتے ہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ترکیہ جیسے نیٹو کے ایک رکن ملک کو ممکنہ حریف کے طور پر پیش کیے جانے کا تصور تشویش میں مزید اضافہ کرتا ہے۔اگر آج تہران نشانہ بن سکتا ہے اور کل انقرہ کو تزویراتی خدشہ کہا جا رہا ہے۔
اسرائیل میں امریکہ کے سفیر مائیک ہکابی کے بیانات نے بھی اس اضطراب میں اضافہ کیا ہے۔ جب انہوں نے اشارہ دیا کہ اسرائیل کو بائبلی سرزمینِ اسرائیل پر مکمل حق حاصل ہو سکتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں اسے مذہبی وعظ نہیں بلکہ پالیسی سے جڑی زبان سمجھا گیا۔ نجی مبلغ کی زبان خطبہ رہتی ہے، مگر سفیر کی زبان اشارہ بن جاتی ہے۔
عام لوگ محسوس کرتے ہیں کہ جغرافیہ اب حفاظت کی ضمانت نہیں۔ درست نشانے والے میزائل اور ڈرون فاصلے سکیڑ دیتے ہیں۔ نقشہ ممکنہ اہداف کے جال میں بدل چکا ہے۔
استنبول کے علاقے فاتح میں وہ شامی پناہ گزین جو ایک جنگ سے بچ کر آئے تھے، اب دوسری جنگ کو شروع ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ شام کے تنازعہ سے بے گھر لاکھوں افراد کی میزبانی کرنے والا ترکیہ ایرانی عدم استحکام کے اثرات سے خائف ہے۔ ہجرت کی نئی لہر عوامی صبر اور ریاستی استعداد دونوں کو آزمائے گی۔
پروفیسر ولی نصر نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی کمزوری یا انہدام، کرد سیاست کو بھی ازسرِ نو ترتیب دے سکتا ہے۔ ترکیہ پہلے ہی عراق اور شام سے جڑے پیچیدہ کرد معاملات سنبھال رہا ہے۔ ایران میں کردوں کی حیثیت میں کوئی بڑی تبدیلی اس مسئلے کو مزید علاقائی رنگ دے سکتی ہے اور نازک توازن میں ایک تیسرا محاذ کھول سکتی ہے۔
تہران میں اسرائیلی اور امریکی رہنماؤں نے ان حملوں کو ایرانی عوام کے لیے اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا موقع قرار دیا ہے۔ مگر ریاستی انہدام کا سایہ بہت سے شہریوں کو خوف زدہ کرتا ہے۔ عراق 2003 اور لیبیا 2011 کی مثالیں تنبیہ کے طور پر سامنے ہیں۔ کسی حکومت کا خاتمہ استحکام کی ضمانت نہیں دیتا؛ یہ بکھراؤ اور طویل تشدد کو جنم دے سکتا ہے۔
امریکی اور ایرانی مذاکرات کار حال ہی میں جنیوا میں سنجیدہ اور تعمیری بات چیت کر چکے تھے۔ ثالثوں نے غیر معمولی کھلے پن کا ذکر کیا۔
اطلاعات کے مطابق، افزودہ یورینیم کو کم درجے پر لانے اور سخت نگرانی کے طریقہ کار پر تجاویز زیر غور تھیں۔ ایک خاکہ دسترس میں محسوس ہو رہا تھا، کہ پھر حملے ہو گئے۔
دیکھنے والوں کے لیے سادہ پیغام ہے۔ اگر سفارت کاری واضح پیش رفت کے لمحے میں بھی ٹوٹ سکتی ہے تو مذاکرات پر اعتماد کیسے باقی رہے؟
امن کا پل زیرِ تعمیر تھا، بیچ دھار میں ٹوٹ گیا۔ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی سیاسی شناخت’ہمیشہ کی جنگوں ‘کی مخالفت پر استوار کی تھی۔ مگر اس بار ماضی کی امریکی مداخلتوں کو ہی اپنایا۔
انقرہ کے مالتپے میں میرِے گُولولو آخرکار ٹی وہ کی آواز کو کم کر دیتے ہیں۔ اسکرین پر تجزیہ کار اگلے اقدامات پر بحث کر رہے ہیں۔ ریٹائرڈ جرنیل نقشوں پر تیر کھینچ رہے ہیں۔
یاسمین چائے تیار کرتی ہیں۔ وہ دھیرے سے اپنی سلامتی پر گفتگو کرتے ہیں، اس اندیشے کے ساتھ کہ کہیں ان کا شہر بھی فہرست میں شامل نہ ہو جائے۔اب ہر شہر محاذ کے قریب محسوس ہوتا ہے۔ میدانِ جنگ اور گھریلو زندگی کے درمیان پرانی لکیر مدھم پڑ رہی ہے۔ میزائل فاصلے نہیں دیکھتے، ڈرون سرحدیں نہیں مانتے۔
انقرہ سے عمان، دوحہ سے بیروت تک سڑکوں پر یقین کے بجائے عدم تحفظ غالب ہے۔سوال اب سرگوشیوں میں نہیں پوچھا جا رہا کہ کیا خطہ بدلے گا۔ وہ بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ لرزشیں کہاں تک جائیں گی، اور کیاکوئی دارالحکومت اب بھی یہ گمان کر سکتا ہے کہ اگلے حملے کی قوس سے باہر کھڑا ہے۔
مولانا آزاد نے اپنی لاثانی تصنیف ‘غبارِ خاطر’ میں پانچواں صلیبی حملہ، جو سینٹ لوئس شاہِ فرانس کے دور میں ہوا، میں شامل ایک فرانسیسی افسر ژوائین ویل کی یادداشت نقل کی ہے۔
صلیبی جہاد نے ازمنہِ وسطیٰ کے یورپ کو مشرقِ وسطیٰ کے دوش بدوش کھڑا کر دیا تھا۔ یورپ اس عہد کے مسیحی دماغ کی نمائندگی کرتا تھا، مشرقِ وسطیٰ مسلمانوں کے دماغ کی۔ دونوں کی مقابل حالت سے ان کی تضاد نوعیتیں آشکارا ہو گئی تھیں۔ یورپ مذہب کے مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا، مسلمان علم و دانش کے علمبردار تھے۔
یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتا تھا، مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا خدا کی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا۔
پہلے نے معجزوں کے ظہور کا انتظار کیا اور دوسرے نے نتائجِ عمل کے ظہور کا۔ معجزے ظاہر نہیں ہوئے، لیکن نتائجِ عمل نے ظاہر ہو کر فتح و شکست کا فیصلہ کر دیا۔
ژوائین ویل لکھتا ہے کہ جب مصری فوجوں نے منجنیقوں کے ذریعے آگ کے بان پھینکنے شروع کیے تو فرانسیسی جن کے پاس پرانے دستی ہتھیاروں کے سوا اور کچھ نہ تھا بالکل بے بس ہو گئے۔ ژوائین ویل اس سلسلے میں لکھتا ہے؛
ایک رات جب ہم ان برجیوں پر تھے جو دریا کے راستے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھیں پہرہ دے رہے تھے تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے ایک انجن جسے منجنیق کہتے ہیں، لا کھڑا کیا اور اس سے ہم پر آگ پھینکنے لگے۔
یہ حال دیکھ کر لارڈ والٹرنے جو ایک اچھا نائٹ تھا ہمیں یوں مخاطب کیا۔ اس وقت ہماری زندگی کا سب سے بڑا خطرہ پیش آ گیا ہے کیونکہ اگر ہم نے ان برجیوں کو نہ چھوڑا اور مسلمانوں نے ان میں آگ لگا دی تو ہم بھی برجیوں کے ساتھ جل کر خاک ہو جائیں گے، لیکن اگر ہم برجیوں کو چھوڑ کر نکل جاتے ہیں تو پھر ہماری بے عزتی میں کوئی شبہ نہیں کیونکہ ہم ان کی حفاظت پر مامور کیے گئے تھے۔
ایسی حالت میں خدا کے سوا کوئی نہیں جو ہمارا بچاؤ کر سکے، میرا مشورہ آپ سب لوگوں کو یہ ہے کہ جوں ہی مسلمان آگ کے بان چلائیں، ہمیں چاہیے کہ گھٹنوں کے بل جھک جائیں اور اپنے نجات دہندہ خداوند سے دعا مانگیں کہ اس مصیبت میں ہماری مدد کرے۔
چنانچہ ہم سب نے ایسا ہی کیا۔ جیسے ہی مسلمانوں کا پہلا بان چلا، ہم گھٹنوں کے بل جھک گئے اور دعا میں مشغول ہو گئے۔ یہ بان اتنے بڑے ہوتے تھے جیسے شراب کے پیپے، اور آگ کا شعلہ جو ان سے نکلتا تھا، اس کی دم اتنی لمبی ہوتی تھی جیسے ایک بہت بڑا نیزہ۔
جب یہ آتا تو ایسی آواز نکلتی جیسے بادل گرج رہے ہوں۔ اس کی شکل ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے ایک آتشیں اژدہا ہوا میں اڑ رہا ہے۔ اس کی روشنی نہایت تیز تھی، چھاؤنی کے تمام حصے اس طرح اجالے میں آ جاتے تھے جیسے دن نکل آیا ہو۔
اس کے بعد خود لوئس کی نسبت لکھتا ہے؛
ہر مرتبہ جب بان چھوٹنے کی آواز ہمارا ولی صفت بادشاہ سنتا تھا تو بستر سے اٹھ کھڑا ہوتا تھا اور روتے ہوئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر ہمارے نجات دہندہ سے التجائیں کرتا: ‘مہربان مولیٰ! میرے آدمیوں کی حفاظت کر! میں یقین کرتا ہوں کہ ہمارے بادشاہ کی ان دعاؤں نے ہمیں ضرور فائدہ پہنچایا’۔
لیکن فائدے کا یہ یقین خود اعتقادانہ وہم سے زیادہ نہ تھا، کیونکہ بالآخر کوئی دعا بھی سود مند نہ ہوئی اور آگ کے بانوں نے تمام برجیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔
مولانا آزاد کے مطابق یہ حال تو تیرہویں صدی مسیحی کا تھا، لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورتحال یکسر الٹ چکی تھی۔ اب بھی دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے، لیکن اتنی تبدیلی کے ساتھ کہ جو دماغی جگہ پہلے یورپ کی تھی وہ اب مسلمانوں کی ہو گئی تھی اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کر لیا تھا۔
اسی طرح اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علما کو جمع کر کے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔
علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کر دینا چاہیے کہ انجامِ مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کر دیا۔
شیخ عبدالرحمن الجبرتی نے اس عہد کے چشم دید حالات قلمبند کیے ہیں جو بڑے ہی عبرت انگیز ہیں۔ انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیرِ بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ‘ختم خواجگان’ پڑھا جائے۔
ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کر رہی تھیں ادھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے’یا مقلب القلوب یا محول الاحوال’کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلے کا نکلنا تھا، جس میں ایک طرف گولہ بارود ہو دوسری طرف ختم خواجگان!
نہ جانے وہ لوگ کہاں گئے، جو خدا کی مدد کے علاوہ خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر اور روحانی مادی قوتوں اور سائنسی بنیادوں پر یقین رکھ کر فتح و شکست کا فیصلہ کرتے تھے۔
مشرق وسطیٰ میں اب ایک ایک کرکے سب کا نمبر آرہا ہے۔ شیعہ محور کے زوال کے بعد اب سنی ممالک کا نمبر آرہا ہے۔ اگر اب بھی اتحاد و اتفاق کے علاوہ سائنسی بنیادوں پر اپنے دفاع کا انتظام نہ کیا تو متحدہ امارات سے لےکر مصر تک کے شہر اگلے تہران اور غزہ ہوں گے۔ پھر نہ کہنا کہ خبر نہ ہوئی۔